کرونا وائرس۔ ایک حیاتیاتی ہتھیار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کئی دنوں سے دنیا کے کئی ممالک میں ایک وبا پھیلی ہے اور ساری دنیا اس مسئلے کو لے کر تشویش کا شکار ہے۔ یہ وبا کرونا وائرس نامی ایک انتہائی خطرناک وائرس کے انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماری ہے جو تاحال ناقابلِ علاج ہے اور کئی ممالک خصوصاً چین میں ہزاروں لوگوں کو لقمہ اجل بناچکی ہے۔ اگر چہ پاکستان میں اس وائرس کی موجودگی کے کوئی واضح شواہد تاحال نہیں ملے مگر پاکستانی طلبہ کی ایک کثیر تعداد چین میں زیرِ تعلیم ہے اور اسی وجہ سے ہمارے ہاں اس سلسلے میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔

چین نے تقریباً تمام پاکستانی طلبہ کو چھٹیوں پر واپس بھیج دیا ہے اور حالات سازگار ہونے تک واپس نہ پلٹنے کا کہا ہے۔ پاکستان کے تمام ایئر پورٹس پر اس وائرس کی تشخیص کے لیے بندوبست کیا گیا ہے اور ہر آنے والے مسافر کو مکمل چیک اپ کے بعد ہی جانے دیا جارہا ہے۔ گویا دنیا بھر میں اس وقت ایک ہنگامی صورتحال ہے اور دنیا بھر کے سائنس دان اس کا توڑ نکالنے کی کوششوں میں دن رات مصروف ہیں۔

کرونا وائرس دراصل وائرسز کا ایک پورا گروہ ہے جس میں کئی وائرس شامل ہیں۔ انہی میں سے ایک خاص وائرس ہے جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور یہ وائرس حال ہی میں دریافت کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ وائرس چین کے ایک شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا اور اس وقت امریکہ، فرانس اور کئی یورپی ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ سائنسدان ابھی تک اسے مکمل طور پر سمجھ ہی نہیں پارہے اس لیے کم از کم تین مہینوں تک کسی ویکسین کی تیاری ناممکن ہے۔

یہ وائرس چمگادڑ اور سانپ میں رہتا ہے اور چائنہ میں سانپ شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس انتہائی تیزی سے کئی طریقوں سے پھیلتا ہے۔ سانس کے ذریعے بھی اس کا پھیلاؤ ہوتا ہے اور یہی سب سے خطرناک بات ہے۔ اس کی علامات بہت معمولی قسم کی ہیں مثلا بخار، سردرد، نزلہ زکام کھانسی وغیرہ مگر محض چند گھنٹوں میں یہ مدافعتی نظام کو ختم کرکے رکھ دیتا ہے اور انسان کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔

بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ وائرس ایک کیمیائی ہتھیار کے طور پر بنایا گیا ہے اور اس کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ یقیناً انتہائی شرمناک اور گھٹیا عمل ہے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر ایک تمانچہ ہے۔

موجودہ دور میں عسکری مقاصد کے لئے جراثیم پر تحقیقات کا آغاز برطانیہ میں 1970 ء میں ہوا۔ پھر اس دوڑ میں نیٹو کے ممالک بھی شامل ہوگئے اور امریکہ نے اس مقصد کے لئے پانچ کروڑ ڈالر فراہم کیے۔ روس نے امریکہ کی جانب سے حیاتیاتی حملہ کے امکان کے پیش نظر پیشگی اطلاع دینے والے طریقے وضع کرنے کا پروگرام شروع کیا اور اس مقصد کے لئے ایک لیبارٹری کی بنیاد رکھی جس کے لئے پانچ سو کروڑ امریکی ڈالر کی رقم مختص کی۔ اس لیبارٹری میں خفیہ طور پر مہلک وبائی بیماریوں کے جراثیم پر بھی کام ہوتا رہا۔

وہ حیاتیاتی عناصر جو بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پیتھوجنز کہلاتے ہیں۔ مثلاً بیکٹیریا، وائرس، پھپھوندی وغیرہ اور کئی صورتوں میں پروٹوزون۔ ان عناصر کو دفاع اور جارحیت، دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دفاعی مقصد کے لئے جرثوموں کی ویکسین بناکر ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔

جو جراثیم انسانوں میں بیماریاں پھیلانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اُن میں مختلف قسم کے بخار، چیچک، راج پھوڑا، طاعون، ہیضہ، پیچش اور دماغ اور حرام مغز کی سوزش وغیرہ کے جراثیم شامل ہیں۔ ان بیماریوں کے جراثیم جانوروں پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں اور اُن میں لمبا عرصہ تک موجود رہتے ہیں۔ اسی طرح پودوں اور جانوروں کے خلاف بھی متعدد اقسام کے جراثیمی ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیار مختلف ذرائع سے دشمن کے علاقہ میں ہوا میں معلّق کیے جاتے ہیں جو آہستہ آہستہ جسم میں داخل ہوکر بیماری پیدا کرتے ہیں۔ یہ طریقہِ جنگ گزشتہ صدی سے استعمال ہورہا ہے اور ہر دور میں یہ زیادہ سے زیادہ موثر ہوتا جارہا ہے۔

اگر دنیا اسی ڈگر پر چلتی رہی تو کوئی شک نہیں کہ دنیا تباہ ہونے کے قریب ہے اور کوئی معمولی سا تنازعہ شعلہ بن کر پوری دنیا کو بھسم کرسکتا ہے۔ دنیا جنگی ہتھیاروں سے نکل کر کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں تک پہنچ چکی ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں بے گناہ جانوں کی بازی لگائی جا رہی ہے۔ کرونا وائرس، ڈینگی اور ایسی کئی بیماریاں اس ممکنہ خطرے کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو آنے والے وقتوں میں سب سے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *