لوگ محبت میں ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوں جوں 14 فروری کا دن قریب آتا جا رہا ہے بہت سے محبت سے سرشار نوجوان اور چند بزرگ مرد اور عورتیں ویلنٹائنز ڈے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کے لیے پھول اور کارڈ خریدنے ’محبت بھرے دل کی تصویریں بنانے اور چاہت بھری نظمیں اور گانے جمع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں تا کہ اپنے محبوب کو اس دن ایک سرپرائز دیں۔

جہاں محبت میں کامیاب ہونے والے مسکرا رہے ہیں وہیں محبت میں ناکام ہونے والوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے زیادہ لوگ محبت میں ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

میں جب ان تمام مردوں اور عورتوں کی شخصیت ’زندگی اور رشتوں پر نگاہ دوڑاتا ہوں جن کی میں نے اپنے کلینک میں مدد کی ہے تو میں انہیں مندرجہ ذیل گروہوں میں تقسیم کر سکتا ہوں

پہلا گروہ

DIFFICULTIES INITIATING A LOVING RELATIONSHIP

یہ وہ لوگ ہیں جو بہت شرمیلے ہوتے ہیں اور محبت کے رشتے کا آغاز نہیں کر پاتے۔ اگر انہیں کوئی مرد یا عورت پسند آ جائے تو وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے۔ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ انہیں خطرہ ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کر دیا تو کہیں دوسرا شخص انہیں رد نہ کر دے یا انہیں بدنام نہ کر دے۔ مغربی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دوسروں سے محفل میں ملنے کی بجائے انٹرنیٹ ڈیٹنگ سے استفادہ کرتے ہیں۔

دوسرا گروہ

DIFFICULTIES MAINTAINING A LOVING RELATIONSHIP

اس گروہ کے لوگ رومانوی رشتے کا آغاز تو کر لیتے ہیں لیکن اسے نبھا نہیں پاتے۔ چند ملاقاتوں کے بعد ان کے جذبات سرد پڑنے لگتے ہیں یا اس رشتے میں سنجیدہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ دونوں انسانوں کے درمیان ایسے تضاد پیدا ہو جاتے ہیں جن کا وہ تسلی بخش حل نہیں تلاش کر سکتے اس لیے وہ رشتے ٹوٹ جا تے ہیں یا لنگڑا لنگڑا کر چلنے لگتے ہیں۔

تیسرا گروہ

DIFFICULTIES ENDING A LOVING RELATIONSHIP

اس گروہ کے لوگ رشتہ نبھانے میں تو کامیاب ہوتے ہیں لیکن اگر سالہا سال کے بعد وہ رشتہ تکلیف دہ بھی ہو جائے تو وہ اس رشتے کو ختم نہیں کر پاتے۔ وہ اس دکھی رشتے کو قائم رکھتے ہیں لیکن اپنے محبوب یا رفیقِ حیات کو خدا حافظ نہیں کہہ پاتے۔ اگر ان سے رشتہ نہ ختم کرنے کی وجہ پوچھی جائے تو وہ کبھی نفسیاتی کبھی خاندانی کبھی مذہبی اور کبھی روایتی وجوہات پیش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت دکھی رہتے ہیں اور اس دکھ کو اپنے نصیب یا قسمت کا حصہ سمجھتے ہیں وہ اپنی قسمت کو خود بدلنے کے قابل نہیں ہوتے جب تک ان کی کوئی ماہرِ نفسیات مدد نہیں کرتا۔

چوتھا گروہ

DIFFICULTIES RECOVERING FROM A LOVING RELATIONSHIP

اس گروہ کے لوگوں کا برس ہا برس کا رشتہ جب ختم ہو جاتا ہے چاہے وہ موت سے ہو یا طلاق سے وہ باقی عمر اسی رشتے کے سوگ میں رہتے ہٰیں۔ ایسے لوگ برس ہا برس دکھی رہتے ہیں اور برسوں کے بعد اس موت یا جدائی کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسے وہ جدائی چند دن پہلے ہوئی ہو۔ ان کے بارے میں پابلو نرودا نے ایک شعر لکھا تھا جس کا ترجمہ ضمیر احمد نے یوں کیا تھا

؎ عشق ہوتا ہے مختصر لیکن

دیر لگتی ہے بھول جانے میں

ایسے لوگ نہ تو محبوب کو بھلانا چاہتے ہیں نہ ہی نئی محبت کرنا چاہتے ہیں۔

جب ہم محبت کے مریضوں کا نفسیاتی علاج کرتے ہیں تو ہم انہیں یہ بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی کے سب رشتے عارضی ہیں۔ چاہے وہ موت سے ہو طلاق سے یا نقلِ مکانی سے انسان کو ہر رشتے کو جلد یا بدیر خدا حافظ کہنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

محبت کا سفر دائروں کا سفر ہے۔ رومانوی رشتے شروع ہوتے ہیں پلتے بڑھتے ہیں اپنے عروج پر پہنچتے اور پھر ختم ہو جاتے ہیں۔

لوگوں کو نئے لوگ ملتے ہیں اور وہ پھر محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

بعض لوگ زندگی میں صرف ایک محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ فراز کی طرح سمجھتے ہیں ؎ ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز

اور بعض ایک محبت کے ختم ہونے کے بعد دوسری اور دوسری محبت کے اختتام پر تیسری محبت کا آغاز کرتے ہیں۔

بعض لوگ ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہیں اور بعض وہی رومانوی غلطیاں بار بار کرتے ہیں۔ بعض کے لیے محبت خوشی لے کے آتی ہے اور بعض کے لیے غمی۔ بعض کے لیے دکھ اور بعض کے لیے سکھ۔

بعض کے لیے محبت ایک خیال ہے بعض کے لیے ایک جذبہ اور بعض کے لیے محبوب کے لیے قربانی دینے کا نام۔

امریکی ماہرِ نفسیات ہیری سٹاک سالیوان سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ کی نگاہ میں صحتمند محبت کی کیا نشانی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ جب دوسرے انسان کے دکھ سکھ آپ کو اپنے دکھ سکھ کے برابر عزیز ہو جائیں تب آپ جان لیں کہ آپ محبت میں گرفتار ہو گئے ہیں۔

محبت کے کچھ راز ہیں۔ وہ بچے جن کے ماں باپ محبت کے راز جانتے ہیں وہ اپنے بچوں کو وہ راز سکھاتے ہیں۔ لیکن وہ باپ جو اپنے بچے کے سامنے اس کی ماں کی تذلیل کرتے ہیں ان سے میرے مرحوم افسانہ نگار دوست سعید انجم کہا کرتے تھے ’اگر تم چاہتے کہ کہ تمہارا بیٹا شہزادہ بنے تو تمہیں اس کی ماں سے ملکہ جیسا سلوک کرنا ہوگا۔ اگر تم اس سے کنیزوں جیسا سلوک کرو گے تو جان لو کہ کنیزوں کے بیٹے شہزادے نہیں بنا کرتے‘ ۔

محبت ایک فن ہے اور وہ لوگ جو محبت میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں وہ اس فن کے راز سیکھتے ہیں۔ بعض پہلی محبت اور شادی میں ناکام ہونے کے باوجود دوسری محبت اور شادی میں بہت کامیاب ہوتے ہیں۔

ہم سب محبت کا فن اور راز جاننا چاہتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو یہ فن اور راز جلد سیکھ لیتے ہیں اور ایک کامیاب محبت بھری زندگی گزارتے ہیں۔

اپنے کالم کے آخر میں مجھے عارفؔ عبدالمتین کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں آپ بھی سن لیں

؎ میں تمہیں ڈھونڈنے نہ نکلوں گا

سوچ کر مجھ سے تم جدا ہونا

لوٹ آئی ہو چشمِ نم لے کر

خوش نہ آئی ہوا زمانے کی

۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 293 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *