”انسانی کیڑے“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات اپنی انتہاء کو چھو رہی تھی، ہر طرف ایسے سناٹا تھا جیسے سارا شہر سوگیا ہو۔ ہاں مگرپھر بھی بازار میں صرف ایک دکان کھلی تھی اور ہم دوست اسی دکان کی بائیں جانب ایک اور بند دکان کے سامنے بہترین ماربلز سے بنے چبوترے پہ بیٹھے گپیں مار رہے تھے۔ اسی دوران ایک دوست نے چونک کر کہا ”وہ دیکھو، وہ کون آرہا ہے“، دوسرا بولا ”واہ کیا لڑکی ہے۔ “ تیسرا ”ارے اس وقت؟ “ میں بولا یار شاید کوئی سنگر سٹوڈیو سے ریکارڈنگ کرکے فارغ ہوئی ہو۔

سب اپنے اپنے خیالات کے پل باندھ رہے تھے اور نظریں محترمہ پر مرکوز تھیں۔ میں نے بھی اپنی آنکھوں کی غلیل کے ربڑ کو کس کر پکڑا تھا، یہ صاحبہ جس جس جگہ سے گزرتی تو پیچھے روڈ پہ لوگ ایسے نکل آتے جیسے دیر رات کو بلوں سے چوہے، کچھ نے تو پیچھے سے سیٹیاں بھی بجائیں۔ جب وہ ہمیں بنا دیکھے ہمارے پاس سے گزری تو سامنے پلازے سے وہ عمر رسیدہ چوکیدار بھی نکل آئے جو عام طور پر رات کے ان لمحوں کھڑے کھڑے سورہے ہوتے ہیں۔

میں نے دوستوں کو دیکھے بنا پوچھا ”یہ اتنی خوبصورت لڑکی اتنی رات کو اس سنسان شہر میں اکیلے کیوں پھر رہی ہے؟ “ میرے دوست میری بات سن کر ہنس پڑے اور ایک بولا ”پاگل یہ تو ہیجڑا ہے“۔ ہیجڑا؟ میں نے پوچھا، مگر یہ تو بالکل لڑکیوں جیسا ہے۔ سب اس کو اس انہماک سے دیکھ رہے تھے کہ مجھے مزید کوئی جواب نہ ملا۔ میرا دل کیا کہ میں اس کے پیچھے بھاگ کر جاؤں اسے روکوں اور کچھ سوال پوچھوں۔ لیکن اس ڈر سے کہ لوگ مجھے اس کا گاہک سمجھ لینگے یا پھر وہ ہی مجھے پبلک میں پکڑ کر ڈانٹ لے، میں رک گیا۔

تھوڑی دیر بعد ہم کمرے آئے لیکن اس کا خیال میرے دماغ سے چمٹا رہا۔ جب میں سونے لگا تو میں نے اپنے تخیل کے جن کو حکم دیا کہ اس ہیجڑے کو حاضر کیا جائے۔ چند ہی لمحوں میں وہ اسی سرخ جوڑے میں میرے سامنے تھا۔ میں نے بلا توقف سوال پوچھا کہ لوگوں کی نظروں اور زبانوں کے تیر تمھیں زخمی نہیں کرتے؟ وہ بولا یہ میرا سرخ جوڑا میرے خون سے رنگا ہے اور اس کے اوپر لگا یہ چمکیلا سلمی ستارہ میرے آنسوؤں کا بنا ہے۔ میں نے فوراً ہی دوسرا سوال پوچھا کہ آپ رات کو ہی کیوں نکلتے ہو؟ وہ بولا ہم اس معاشرے میں کیڑوں کی طرح ہیں جو رات کو خوراک دیکھنے نکلتے ہیں۔ اب قسمت کی مرضی کہ خوراک ملے یا کسی کے پیروں تلے روندے جائیں۔ ابھی میں اور بھی سوال پوچھنا چاہتا تھا کہ میرا تخیل کا جن جواب دے گیا۔

Latest posts by بصر علی خان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply