دانش کی موت اور ہماری بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں ایک ڈرامے کے کردار دانش کی موت کا بہت چرچا رہا۔ خواتین زاروقطار روتی پائی گئیں، تبصرے ہوئے، بہت کچھ اچھا، برا کہا، سنا گیا، انٹرویوز، ہوئے پول کرائے گئے کہ دانش کو مرنا چاہیے تھا یا نہیں، تبصرے ہوئے، ڈرامے اور ڈرامہ نگار پر کالم لکھے گئے۔ غرض ہر طرف دانش کی موت کا چرچا تھا۔

ڈرامہ دیکھنے والوں کو علم تھا کہ یہ محض ایک ڈرامہ ہے اور ہمایوں سعید اس وقت کہیں بیٹھا چائے پی رہا ہوگا یا کسی اور ڈرامے میں کردار ادا کررہا ہوگا پھر بھی لوگ دانش کی موت پر افسردہ اور غمزدہ بھی تھے اور غصے میں بھی۔

وجہ تحریر ممتاز ریاضی دان اور ماہر طبیعات پروفیسر عامر اقبال کی حال ہی میں وطن بدری بنی۔ وہ عامر اقبال جس نے MIT جیسے ادارے سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور جس نے پروفیسر جیفری گولڈ سٹون شیلڈن لی گلاشو اور سٹیون وائن برگ جیسے عظیم سائنسدانوں کے ساتھ تحقیقات میں شریک رہا، اسے ملک سے باہر جانے پر مجبور کردیا گیا۔

ویسے ہی جیسے اس ملک کے ایک عبقری ماہر طبیعات ڈاکٹر عبدالسلام کو وطن بدر ہونے پر مجبورکردیا گیا تھا، وہی سلام جو ایک طرف یونی فیکشن تھیوری اورہگز بوسن جیسے منصوبے کا جد امجد ثابت ہوا اور دوسری طرف وہیل چیئر پر بیٹھا وطن کی محبت میں آنسو بہاتا غریب الوطنی کی حالت میں انتقال کرگیا۔ اب دنیائے سائنس کو نہ جانے کیا کیا تحفے دینے کے بعداپنے بڑھاپے میں عامر اقبال بھی پاکستان کا نام سنتے ہی کہیں آنسو بہارہا ہوگا اور کسی غیرملک سے ملک عدم سدھار جائے گا۔

لیکن ایک عبدالسلام، ایک عامر اقبال پہ ہی کیا موقوف 1947 سے آج تک کی تاریخ پر نگاہ کیجئے کہ اس ملک میں کب کب اور کہاں کہاں دانش کی موت ہوچکی اور ڈرامائی نہیں بلکہ حقیقی رنگ میں ہوچکی۔ کبھی سیاست کے نام پہ، کبھی مذہب کی پخ لگا کر، کبھی ہماری نا اہلی سے، کبھی دہشت گردی کی شکل میں، کبھی شہروں پہ قبضہ کرنے کے لئے۔ کبھی فرقوں میں بانٹ کر کبھی صوبائیت میں تقسیم کرکے، کبھی جرنیلوں کے ڈنڈے سے کبھی ججوں کے قلم سے کبھی سیاستدانوں کی حرص کی صورت تو کبھی مولوی کی شعلہ بیانی کی بدولت۔

قائداعظم محمدعلی جناح کی موت، لیاقت علی خان کاقتل، ایوب کا مارشل لا، مشرقی پاکستان کا سانحہ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، اسمبلی میں لوگوں کے عقیدوں کے فیصلے، ضیا الحق کی آمریت، حکیم محمد سعید کی شہادت، شیعہ اوراحمدی ڈاکٹروں اور قابل لوگوں کا قتل عام، سکولوں اور مسجدوں میں خون کی ہولی، بم دھماکے، بگٹی اوربے نظیر کے قتل، لاکھوں کی تعداد میں برین ڈرین، صحافت کے نام پر لفافے، سیاست کے نام پر دھماچوکڑی، مذہب کے نام پر نفرت، لا اینڈ آرڈر کے نام پر بربریت، چوکیداری کے نام پر قبضے، راؤ انوار کے نام پہ درندے، احسان اللہ احسان کے نام پہ مہمان اور اب حال ہی میں ایک اور اب عالی دماغ عامر اقبال کی وطن بدری۔

قصہ طول پکڑ گیا کہ یہ صرف چند مثالیں ہیں، تہہ۔ گہرائی میں جائیں تو بہت سے موتی تہہ آب ملیں گے، کپڑا ہٹائیں تو کئی جلتی، گلتی سڑاند زدہ لاشیں برآمد ہوں گی، کتابیں کھنگالیں تو تاریخ کے پنوں پر ریت کے ڈھیر ملیں گے، یاداشت سے کئی موہوم چیزیں دریافت ہوں گی اس لئے رہنے دیجئے۔ کیا فائدہ ہوگا؟

دانش کی ان پے درپے موتوں کی وجہ سے تو ہم آج یہاں کھڑے ہیں لیکن ہمیں احساس تک نہیں۔ نہ کوئی آنسو ٹپکا، نہ کوئی سسکی نکلی، نہ بحث ہوئی، نہ جیسا کہ حق تھا کچھ کہا یا لکھا گیا، نہ عوام نے احتجاج کیا نہ خواص کو خیال آیا۔ سیاست دان، مولوی، جج، جرنیل کوئی بھی تو دانش کی موت پہ نہ کسی جلسے میں بولا نہ کسی ٹی وی ٹاک شو میں۔ کسی اینکر کو کسی مارننگ شو ہوسٹ کو بھی خیال نہیں آیا کہ کسی مہمان سے اس دانش کی موت پربھی کوئی چبھتا ہوا سوال کروں جو بیسیوں دفعہ مر گئی اور قوم کا نقصان ہوا۔ منصف اعلی کے سوموٹو کا انتظار کرتے رہ گئے، جرنیل کی ٹویٹ کی حسرت ہی رہ گئی۔ دانش کی موت گلی گلی سنسان کرگئی لیکن افسوس رائیگاں ہی ٹھہری اسے ڈرامے والے دانش جتنی نہ پذیرائی ملی نہ آنسو۔ شاید ہمیں عالی دماغوں اور دانش کی زیادہ ضرورت بھی نہیں اس لئے دانش کی موت ہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *