نشریاتی غربت کا شکار مُلک اور ریڈیو کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم عام طور پر یہ جانتے ہیں کہ ریڈیو ”گوگلیلمو مارکونی“ نے ایجاد کیا، مگر وہ صرف مارکونی ہی نہیں تھے، جنہوں نے ریڈیو کو موجودہ شکل میں ہم تک پہنچایا، مگر مارکونی کے ایجاد کردہ ریڈیو کو بھی کئی سائنسدانوں اور برقی ماہرین کے (کامیاب خواہ ناکام) کئی تجربوں کا سہارا ملا۔ اس ضمن میں پہلا تجربہ ”ہنس کرسچن اوسٹیڈ“ (پیدائش: 14 اگست 1777 ء۔ وفات: 9 مارچ 1851 ء) نامی ڈینمارک سے متعلق طبعیات دان اور کیمیا دان کا مانا جاتا ہے، جنہوں نے 1820 ء کے قریب بجلی اور مقناطیسی لہروں کے درمیان تعلق (کنکشن) دریافت کر کے اس حوالے سے کامیاب تجربے کیے، جو آگے چل کر ریڈیو کی ایجاد کی وجہ بنے۔

ساتھ ساتھ ”جیمز کلرک میکس ویل“ (پیدائش: 13 جون 1831 ء۔ وفات: 5 نومبر 1879 ء) نامی اسکاٹ لینڈ کے باشندے، ریاضی دان اور طبعیات دان کی جانب سے الیکٹرومیگنیٹک لہروں کو دریافت کرنے کا کارنامہ بھی ریڈیو کی لہروں کے حوالے سے تحقیق اور ٹرانزسٹر کی ایجاد کی وجہ بنا۔ میکس ویل کے الیکٹرومیگنیٹک لہروں والے نظریے کے بعد مختلف لوگوں نے ”بغیر تار کے مواصلاتی رابطے“ یعنی ”وائرلیس کمیونیکشن“ کے جتن کیے، جن میں سے متعدد لوگوں نے یہ کوششیں میکس ویل کے نظریے کے مطابق اور بعض نے اُس سے ہٹ کر دیگر فارمولوں کے تحت اس قسم کے تجربے کیے۔

الیکٹرومیگنیٹک لہروں کے ذریعے مواصلاتی سگنلز کی پہلی بین الاقوامی نشریات (انٹرنیشنل ٹرانسمیشن) 1880 ء میں ”ڈیوڈ ایڈورڈ ہیُوجز“ (پیدائش: 16 مئی 1831 ء۔ وفات: 22 جنوری 1900 ء) نامی معروف برطانوی سائنسدان اور موسیقار نے کامیابی سے انجام دی۔ اس نشریات کو دُنیا کے پہلے ”عملی ریڈیو کمیونیکشن سسٹم“ کے طور پر مانا جاتا ہے۔ ہیُوجز نے ان سگنلز کی وصولی کے لیے جو ٹرانزسٹر ایجاد کیا، اُسے پہلا ”سیمی کنڈکٹر ڈایوڈ کرسٹل ریڈیو“ کہا گیا۔

ایڈورڈ ہیُوجز کے کریڈٹ پر ریڈیو کے اس کامیاب تجربے کے ساتھ ساتھ دُنیا کے پہلے پرنٹنگ ٹیلیگراف اور دُنیا کے اوّلین مائیکروفون کی ایجاد کا سہرا بھی سجا ہوا ہے۔ الیکٹرو میگنیٹک لہروں کی پہلی باضابطہ نشریات ”ہینرچ روڈولف ہرٹز“ (پیدائش: 22 فروری 1857 ء۔ وفات: یکم جنوری 1894 ء) نامی جرمن طبعیات دان نے ممکن بنائی، جس کا فارمولائی پتہ انہوں نے اپنے 1887 ء اور 1890 ء کے دوران شائع ہونے والے مقالوں میں تفصیلاً بیان کیا۔ ہرٹز کے بعد کئی سائنسدانوں اور طبعیات دانوں نے الیکٹرانک ذرّوں پر مزید تجربات کرنے کے حوالے سے اپنی توجّہ مرکوز کی۔

بیسویں صدی ایجادات اور سائنسی اصلاحات کی صدی بن کر طمطراق سے دُنیا پر عیاں ہوئی اور اس صدی کا سورج اُن ایجادات میں ابلاغ کی دُنیا کے بھی ارزاں انقلاب سمیٹ کر دُنیا والوں کو حیران کرنے کے لیے اُبھرا۔ ابلاغ کی دُنیا کا یہ انقلاب آواز کی دُنیا سے شروع ہونا تھا، کیونکہ 22 جُون 1878 ء کو سینٹ لوئس (امریکا) میں ”تھامس ایڈیسن“ (پیدائش: 11 فروری 1847 ء۔ وفات: 18 اکتوبر 1931 ء) نامی امریکی سائنسدان اور تاجر کی جانب سے کی گئی 12 سیکنڈز کے دورانیے کی فونوگراف سلنڈر رکارڈنگ) جس میں اُس نے اپنی آواز میں مشہور انگریزی نظم ”میری ہیڈ اے لٹل لیمب۔

” کی دو لائنیں بولی ہیں۔ ) جیسے تجربوں کو بیسویں صدی میں مزید اصلاحات کے مواقع اور ترقی ملنے والی تھی۔ (یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایڈیسن کی جانب سے کی گئی یہ 12 سیکنڈز کی رکارڈنگ دُنیا کی پہلی“ پلے بیک کرنے لائق ”رکارڈنگ ہے، جسے دوبارہ سُنا جا سکتا ہے، جبکہ دُنیا کی سب سے پہلی رکارڈنگ 1857 ء میں“ اسکاٹ ڈی مرٹین ولے ”نامی ایک کتب فروش نے کی تھی) ۔ 1904 ء میں کلکتے میں برِّصغیر کی پہلی میوزک رکارڈنگ اور 1913 ء میں کاربان مائیکروفون کی ایجاد نے، بیسویں صدی کے آواز کے اس انقلاب میں مزید دلکش رنگ بھرے۔

”گگلیلمو گیووانی میریا مارکونی“ (پیدائش: 25 اپریل 1874 ء۔ وفات: 20 جولائی 1937 ء) نامی اٹلی سے متعلق سائنسدان اور الیکٹریکل انجیئنر کو ”بابائے ریڈیو“ اس لیے کہا جاتا ہے، کہ اُ نہوں نے ریڈیائی لہروں کے میکس ویل اُور ہرٹز کے دریافت شدہ بنیادی تجربوں خواہ نظریوں کو بنیاد بنا کر، پہلے سے دریافت شدہ لہروں کو وائرلیس (بغیر تار کے ) ٹیلیگرافی کے باضابطہ کمرشل سسٹم بنانے کے کامیاب تجربوں سے ریڈیائی لہروں کے ذریعے دُور دراز مقامات تک آڈیو پیغام پہنچانے والے برسوں پرانے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔

نتیجے میں ”پروفیسر ریجنولڈ اے فیزنڈن“ (پیدائش: 6 اکتوبر 1866 ء۔ وفات: 22 جولائی 1932 ء) نامی کینیڈین مُوجد نے نہ صرف الیکٹرومیگنیٹک لہروں کی معرفت آڈیو وائرلیس ٹیلیفونی پیغام کامیابی سے ٹرانسمٹ کرنے والے پہلے انجئنیر ہونے کا اعزاز پایا، بلکہ اُن کو دُنیا کا پہلا ریڈیو پروگرام بحیثیت میزبان کرنے کی وجہ سے ”دُنیا کے پہلے ریڈیو میزبان“ بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جنہوں نے میسچوسیٹس (امریکا) کی نیشنل الیکٹرک سگنل کمپنی کے برینٹ راک ریڈیو ٹاور سے 23 دسمبر 1906 ء کو ”ایمپلیٹیوڈ ماڈیولیشن“ (اے۔ ایم۔ ) لہروں کے ذریعے دنیا کا اوّلین ریڈیو پروگرام کر کے اُس میں وائلن کی دُھن کی رکارڈنگ، حضرت عیسیٰؑ کی شان میں ایک گیت (ہِم) نشر کر کے سب سننے والوں کو 2 دن بعد آنے والی کرسمس کی مبارکباد دی۔ جو دراصل آواز کی دنیا کے ایک نئے انقلاب کی مبارکباد ثابت ہوئی۔

برِّصغیر میں ریڈیو، بیسویں صدی کی شروعات کے ستائیس سال بعد آیا، جب 23 جولائی 1927 کو بمبئی (موجودہ ممبئی) میں ”انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی“ (آئی بی سی) نے اپنا پہلا ریڈیو اسٹیشن کھولا، بعد ازاں اس براڈکاسٹنگ سروس کا نام ”آل انڈیا ریڈیو سروس“ رکھا گیا۔ 15 اگست 1947 ء کو جب برِّصغیر کی تقسیم ہوئی، تو پاکستان کے حصّے میں آل انڈیا ریڈیو کے تین اسٹیشنز (لاہور، پشاور اور ڈھاکہ) آئے، جو ریڈیو پاکستان لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کہلائے۔

ان تینوں اسٹیشنز سے، 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب مختلف زبانوں میں اعلانِ آزادی نشر ہوا۔ لاہور سے یہ اعلان انگریزی میں ظہور آذر اور اُس کے بعد اُردو میں مصطفی علی حمدانی نے کیا۔ پشاور سے ایسا ہی اعلان اُردو میں آفتاب احمد ”بسمل“ اور پشتو میں عبداللہ جان ”مغموم“ نے جب کے ڈھاکہ سے اعلانِ آزادی کلیم اللہ نے انگریزی میں کیا۔ جبکہ عام طور پر مشہور یہ کیا گیا ہے کہ اعلانِ آزادی صرف لاہور سے حمدانی نے ہی کیا تھا اور باقی چار براڈکاسٹرز کے ناموں کو یاد ہی نہیں کیا جاتا۔

(دلچسپ بات یہ ہے کہ اعلانِ آزادی کی وہ رکارڈنگ جس میں مصطفی علی حمدانی اعلانِ آزادی کر رہے ہیں، جو یُو ٹیوب پر بھی عام جام دستیاب ہے، وہ پاکستان بننے کے 25 سال بعد ریڈیو پاکستان کی سلور جوبلی کے موقع پر 1972 ء میں ریڈیو کراچی کے اسٹوڈیوز میں رکارڈ کیا گیا ہے، وگرنہ اُس رات کے باقی مانندھ میزبانوں کی جانب سے کیے گئے اعلانات آزادی میں سے کسی کی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے۔ ) یہ واضع رہے کہ آل انڈیا ریڈیو پشاور اسٹیشن 1936 ء میں، لاہور 1937 ء میں اور ڈھاکہ 1939 ء میں قائم ہوا۔ ہندوپاک کے معرُوف براڈکاسٹر، مقرّر اور شاعر، ذوالفقار علی بخاری (زیڈ۔ اے۔ بخاری) ، ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بنے، جو اپنی براڈکاسٹنگ کی خوبیوں اور اعلیٰ انتظامی صلاحیّتوں کی وجہ سے ”بابائے نشریات“ بھی کہلائے۔

”ایڈون آرمسٹرانگ“ (پیدائش: 18 دسمبر 1890 ء۔ خود کشی کی صُورت وفات: 31 جنوری 1954 ء) نامی امریکی برقی انجئنیر اور مُوجد نے 1945 ء کے قریب فریکوئینسی ماڈیُولیشن (ایف۔ ایم۔ ) ٹرانسمیٹر ایجاد کر کے صاف اور واضع آڈیو کوالٹی میں آواز کی نشریات کو ممکن بنا کر ریڈیو کی نشریاتی دُنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ آرمسٹرانگ کو ایف ایم ریڈیو کا بانی مانا جاتا ہے۔

پاکستان میں ویسے تو ریڈیو پاکستان نے 1992 ء سے ”ایف ایم گولڈ“ کے ذریعے ایف۔ ایم۔ نشریات کا آغاز کیا اور اصولاً تو ریڈیو پاکستان ہی پاکستان میں ایف۔ ایم۔ طرزِ نشریات کا بانی ہے، مگر ریڈیو پاکستان سے شروع میں ایف ایم سنبھل نہیں سکا، لہذا 1995 ء میں ”ایف ایم 100 پاکستان“ نے پاکستان کے پہلے باضابطہ ایف ایم ریڈیو ہونے کا اعزاز حاصل کیا، بعد ازاں جب ریڈیو پاکستان نے سنجیدگی سے ایف ایم طرزِ نشریات کو اپناتے ہوئے 1998 ء میں ”ایف ایم 101“ کے ذریعے ابتدائی طور پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے چینل کھولے، تو ”ایف۔ ایم۔ 100“ کو ایک اچھا مدِمقابل چینل ملا، مگر 2002 ء کے بعد ایف ایم اسٹیشنز کے لائسنس کی فراہمی میں آسانی پیدا ہونے کے بعد پاکستان میں ایف ایم چینلز کی جو یلغار ہوئی، اُس نے سماعت کے ذوق اور براڈکاسٹنگ کے معیار کا بیڑا غرق کر دیا، البتہ ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع ضرور ملے۔

اس وقت پاکستان میں تقریباً 250 ریڈیو اسٹیشنز ہیں، جن میں سے ریڈیو پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم اسٹیشنز کی تعداد 63 ہے۔ (جو فقط حکومتی راگ آلاپتے رہنے کا کام کرتے رہتے ہیں ) ، 8 حکومتی (سرکاری) ایف ایم اسٹیشنز (ایف ایم 101 کے اسٹیشنز) ، 138 کمرشل ریڈیو، جبکہ 40 نان کمرشل ریڈیو اسٹیشنز پورے پاکستان میں اپنی نشریات پہنچا رہے ہیں۔ نان کمرشل ریڈیو اسٹیشنز میں اکثر مختلف یونیورسٹیوں کے تعلیمی ریڈیوز شامل ہیں، جو تعلیم سے زیادہ تفریح پر توجّہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں صرف ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد میں ہی اضافہ ہوا ہے، ریڈیو کا ”معیار“ بڑھانے کے حوالے سے نہ ہی حکومت کی طرف سے سنجیدگی کے ساتھ کسی تربیت یا مانیٹرنگ کا کوئی نظام وضع کیا گیا ہے، نہ ہی ریڈیو کے مالکان اس ضمن میں سنجیدگی سے کوئی کوشش کر رہے ہیں، نتیجے میں ہمارے یہاں زبان کا بگاڑ، براڈکاسٹنگ کے اصولوں کی لتاڑ اور اخلاقی اقدار کی پامالی میں آج کے ریڈیو کا انتہائی اہم ہاتھ ہے۔

اِس وقت مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق کے بھی کئی ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں کمیونٹی ریڈیو، موضوعاتی ریڈیو اور کمرشل ریڈیو کا الگ الگ تصّور ہے اور ان تینوں اقسام کے ریڈیوز کے تربیت یافتہ براڈکاسٹرز بھی الگ الگ ہیں۔ (مثلاً: دُنیا میں اس وقت جانوروں اور جنگلی حیات کے تحفّظ، صحت، ماحولیات، تعلیم اور بچّوں کے لیے الگ الگ موضوعاتی ریڈیوز اپنی نشریات دے رہے ہیں، جن کا کام دن اور رات کے 24 گھنٹے ایک ہی موضوع پر پروگرام پیش کرنا ہے ) ، جبکہ ہمارے یہاں ریڈیو صرف اور صرف تفریح ہی کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

ریڈیو کے باقی 2 ستون (تعلیم اور معلومات) برائے نام نظر آتے ہیں۔ اکثر ریڈیو کے میزبان دو گھنٹوں کے ریڈیو شو میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا نزلہ سامعین پر نکالتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ علم، ادب، آرٹ، ثقافت، تہذیب، تمدّن اور حالاتِ حاضرہ کے موضوعات پر صحتمند گفتگو سننے کو کان ترستے ہیں۔ پاکستان کے اکثر نجی ایف ایم چینلز سننے سے یہ احساس شدّت سے ہوتا ہے کہ اُن کے میزبانوں کے پاس نہ ہی معلومات ہیں اور نہ ہی کوئی تیاری (ہوم ورک) ، اور اُسے صرف اُلٹے سیدھے دو چار گیت بجا کر، کالز اٹینڈ کر کے سامعین کے ساتھ دو چار غیر ضروری باتیں کر کے گھنٹے دو گھنٹے کا پیٹ بھرنے کے علاوہ اور کوئی مقصد مدِنظر نہ ہو، جبکہ ریڈیو کی رسائی ہر خاص و عام تک اس حد تک ہے کہ آج کل ہر موبائل فون اور گاڑی میں ریڈیو موجود ہے۔

کیا ریڈیو کے ذریعے معاشرتی اصلاح و فلاح جیسے لاتعداد کام انجام نہیں دیے جا سکتے؟ کیا دورِ حاضر کے مسئلوں میں گھرے ہوئے اور بھوک، افلاس اور بیروزگاری سے لڑتے ہوئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی جیسے انفرادی کام انجام نہیں دیے جا سکتے؟ مگر یہ جب ہی ممکن ہے جب اس دور کے ریڈیواسٹیشنز کے مالکان، اس امر کو محسوس کریں کہ دُنیا میں ”کمرشل ریڈیو“ کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں اور ریڈیو کا کام پیسے کمانے کے علاوہ معاشرے کی اُس ذمہ داری کا احساس اور تکمیل بھی ہے، جو ابلاغ کے اس سستے اور فوری ذریعے کی بدولت اُس پر عائد ہوتی ہے۔

آج جب ہم اکیسویں صدی کے دو عشرے عبُور کرنے بعد ترقی یافتہ ہونے کے نعرے بلند کر رہے ہیں، اور ریڈیو اب ہوا کی لہروں کی قیُود سے باہر نکل کر لائیو اسٹریمنگ، موبائل اپلیکشنز اور انٹرنیٹ ریڈیو لنک جیسے ذرائع سے ملکوں کی سرحدیں اور سیمائیں پار کر چکا ہے اور سوشل میڈیا کے رستے یہ ذریعہء ابلاغ ہمہ جہت ہو چکا ہے اور مزید ہمہ جہت ہو رہا ہے، ایسے میں ریڈیو کے اس عالمی دن پر ہمیں یہ اعتراف کرنے کی اخلاقی جراءت ضرور ہونی چاہیے کہ ہم ریڈیو کی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تو بھلے بلندیوں پر جا رہے ہوں، مگر مواد (کونٹینٹ) اور پیشکش کے انداز (پریزنٹیشن) کے لحاظ سے ہماری جھولی بالکل خالی ہے۔

آج کے ریڈیو پریزنٹر (آر جے ) کی اکثریت معلومات سے خالی اور کھوکھلی ہے۔ وہ جب مائیکروفون پر بولتے ہیں تو اُنہیں پتہ نہیں ہوتا کہ اُنہیں کیا بولنا ہے اور کیا نہیں! ہم اپنے کنویں سے نظر آنے والے آسمان کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ آسمان اتنا ہی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ آسمان بہت وسیع ہے۔ اُس کی وسعت دکھانے کے لیے سکھانے والوں کو پھر سے سکھانا شروع کرنا ہو گا، جبکہ سیکھنے والے کو اپنی نا اہلی کا اقرار کرتے ہوئے پھر سے سیکھنا شروع کرنا ہو گا، بصورتِ دیگر ریڈیو، ابلاغ اور مواصلات کی اس دوڑ میں ہم اخلاقی اقدار، زبان اور ہُنر گنوا کر، جہالت اور بے ہُنری کی بیساکھیاں بغلوں میں دبائے، پستی پر گھومتے رہیں گے، اور دُنیائے دیگر، اور معاملات کی طرح ریڈیو کے میدان میں بھی ترقی پا کر اُسے معاشرے کے انتہائی کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، زمانے کے عظیم ترین معرکے فتح کرتی رہے گی اور ہم اپنے کنویں سے نظر آنے والے چھوٹے آسمان کو دیکھ کر خوش ہوتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *