سوات کے نئے ہیروز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوات عہد در عہد مختلف مہم جوئیوں، حملوں اور مذہبوں کی زد میں رہا ہے۔ سوات کا پرانا تعارف بدھ مت اور شاہی خاندان ہے۔ اس شاہی خاندان کے وسیع و عریض محلات اب وہاں کے مشھور ہوٹلوں میں بدل چکے ہیں۔ مینگورہ سے کچھ فاصلے پر ایک حسین و پر فضا مقام پر بہتے ہوئے چشمے کے ساتھ چناروں کے قد آور درختوں کے عین درمیان میں ایک سحر انگیز بادشاہی محل (وائٹ پیلس) تھا۔ اس مرمریں محل کو بھی آج کل ہوٹل بنا دیا گیا ہے۔

وہ محل ملکہ برطانیہ کے دورہ سوات کے موقع پر بادشاہ نے شاہی مہمان کی رہائش کے لیے بطور خاص بنوایا تھا۔ اس محل کو جاتے ہوئے بائیں جانب ایک عجیب وغریب قصے کی حامل دیوار دکھائی پڑتی ہے۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں یے کہ بادشاہ نے یہ دیوار خطے کو ملکہ کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کے لیے بنوائی تھی کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ سوات ایک غریب ریاست ہے۔ اس محل سے آگے ایلم پہاڑی ہے جہاں پر ہندو مذہب کے روحانی پیشوا شری رام چندر جی نے چلہ کاٹا تھا۔ اس مقام پر ہر سال میلہ لگتا ہے اور ملک بھر سے ہندو برادری شریک ہوتی ہے۔

ان سارے حوالوں سے ماورا ملالہ یوسفزئی اور اس کا والد ضیا الدین یوسفزئی سوات کی نئی پہچان بن گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ظلم و بربریت کی کالی رات میں شمشیرِ بے اماں ملا فضل اللہ کو للکارا۔ طالبان سے مزاحمت میں جس طرح انہوں نے اپنا کردار ادا کیا وہ مثالی ہے۔ سوات میوزیم کے ملازمین بھی قابلِ تحسین ہیں کہ انہوں نے میوزیم کے نوادرات کو طالبان سے بچانے کے لیے اپنے خرچ پر چپ چاپ اور راتو رات سوات سے حسن ابدال منتقل کر دیا تھا۔

بعد ازاں وہ میوزیم طالبان نے تباہ کر دیا اور ملازم ادھر ادھر محفوظ مقامات پر چھپ گئے۔ وہ سامان اب واپس لاکر نئے تعمیر شدہ سوات میوزم میں رکھا گیا ہے۔ میں نے ان عام ملازموں کے اپنی تاریخ اور تہذیب سے پیار کو آنسو بھری آنکھوں اور کانپتے بدن سے محسوس کیا۔ سوات کے لوگ آج بھی ان ملازموں کا ذکر کسی بہادر ہیرو کی طرح کرتے ہیں۔ سرکار نے بھی انھیں اعزاز سے نوازا ہے۔ ہمارے میزبان ڈاکٹر جواد اقبال کے چچازاد کو طالبان نے جیپ کے پیچھے باندھ کر گھسیٹا اور بیدردی سے قتل کردیا۔

ڈاکٹر جواد کے دادا تاریخ کی 36 کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ بزرگ انتہائی ضعیف العمری میں گھر سے نکلے اور گوتم بدھ کے اس مجسمے کے ٹکڑے جمع کیے جسے طالبان نے بم فٹ کر کے تباہ کردیا تھا۔ انہوں نے یہ ٹکڑے محفوظ رکھے اور طالبان کے جانے کے بعد یہ کہتے ہوئے دوبارہ جوڑ دیے کہ یہ بدھ کا نہیں سوات کا تہزیبی چہرا ہے۔ یہ عظیم انسان اپنے جوان بیٹے کا اذیت ناک قتل سہہ گیا لیکن گوتم بدھ کے مجسمے کی مسماری پر آب دیدہ ہو گیا۔

وہ اپنی اور پوتے کی زندگی کا رسک اٹھا کر بھی اس مجسمے کے ٹکڑے سمیٹنے گیا۔ وہ یہ ٹکڑے سمیٹ کر گھر لایا اور بولا کہ ان ظالموں کو پتا ہی نہیں وہ ہمارا کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں۔ اسی دہشت کے ماحول میں ملالہ کا باپ بیٹی سے مل کر طالبان کی بربریت کو للکارتا ہے۔ یہ باپ بیٹی اس وقت بولے جب سب چپ تھے اور طالبان کے خلاف بولنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ تب ملالہ کی آواز بی بی سی سمیت تمام عالمی نشریاتی اداروں پر گونجنے لگتی ہے۔ اسی پر امن سوات میں ایک اطالوی ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر لو مقیم تھا جو 1975 میں گوتم بدھ کے مجسمے دیکھنے آیا اور سوات کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ وہ آج کل مینگورہ میں رہتا ہے پشتو بولتا ہے اور سوات کے آثار قدیمہ کی بحالی اور تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔

ہمارے میزبان نے بتایا کہ ملالہ پر حملے سے پہلے اس کے والد ضیا الدین کی زندگی روپوشی میں گزری۔ وہ در بدر خوار ہوا لیکن جھکا نہیں اس نے ہار نہیں مانی۔ وہ ملا فضل اللہ کی سفاکی کے سامنے ڈٹا رہا۔ ۔ اس کی زندگی میں وہ دن بھی آئے کہ اس کے پاس مینگورہ سے اپنے گاؤں سیدوشریف جانے کے لیے کرایہ نہیں تھا۔ اس عرصے میں جب مالاکنڈ ڈویڑن کے تمام سرکاری ملازمین بشمول کمشنر اور پولیس افسر ان نے ڈیوٹی سے انکار کیا اور اپنے فرائض چھوڑ کر چلے گئے، تب بھی ضیا الدین یوسفزئی اپنے پرامن، خوبصورت اور حسین وطن کے لیے کالی رات کے سامنے اکیلا چراغ بکف ڈٹا رہا اور سوات کو اس کا تعارف واپس دلانے میں کامیاب ہوا۔

ہم اس جگہ پھول رکھنے گئے جہاں پر ملالہ کو گولیاں لگیں تھیں۔ ہم اس اسکول ”خوشحال اسکول اینڈ کالج“ میں بھی گئے جو ملالہ کا با ہمت باپ چلاتا تھا۔ اس سکول میں آج بھی مینگورہ کی غریب لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور ضیا الدین انہیں سپورٹ کرتا ہے۔ اس ادارے میں پڑھنے والی غریب لڑکیوں کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے کہ وہ مزدوری نہ کریں۔ وہ ان لڑکیوں کے والدین کی بھی مدد کرتا ہے۔ سوات اپنے علم، فکر اور رویے سے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنے پرامن اور سیکیولر تعارف کے لیے لڑا ہے۔

سوات مینگورہ میں وہ خونی چوک ہے جہاں طالبان لوگوں کو ذبح کر کے لٹکاتے تھے۔ لوگوں کو پھانسی لگاتے تھے۔ طالبان کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت پولیس والوں کی ہے۔ کتنے ہی پولیس والے خوف سے استعفی دے کر چلے گئے لیکن جو ان حالات میں بھی لڑے وہ آج سوات کے ہیرو ہیں۔ ہم اس وادی کے خوبصورت نظاروں کے ساتھ اس کے گمنام بہادر ہیروز سے بھی ملے اور مقامی لوگوں کی مزاحمت سے بھی واقف ہوئے جن کے ہر تیسرے گھر میں ایک شھید ہے۔ سوات کا نیا تعارف ملا فضل اللہ نہیں ملالہ یوسفزئی اور اس کا والد ضیا الدین ہیں۔

ہم بھی اگر آج اپنے ارد گرد موجود ظالموں اور قبضہ گیروں سے خالی ہاتھوں لڑ سکیں تو سرداری، جاگیرداری اور کاروکاری کے حامل تعارف کو ختم کر سکتے ہیں۔ تھوڑی سی جرات اور ہمت سے ہم بھی رول ماڈل بن سکتے ہیں۔ اس کالم میں مجھے یہی بات کہنا تھی کہ نہتے لوگ بھی ہمت باندھیں تو سوات کے لوگوں کی طرح اپنی جنگ جیت سکتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *