آزادی بھی اِک آیت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5 فروری مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے اور ہر عمر کے لوگوں نے بھر پور احتجاج میں حصّہ لیا۔ اس دفعہ خوشبوؤں اور آرٹ کے شہر پیرس میں بھی فنکار بنے نہتے کشمیریوں کی آواز۔ پاکستان سے مختلف مصوروں کی کشمیر کے مظالم پہ بنائی گئی تصویروں کی نمائش پیرس کی ایمبیسی میں ہوئی۔ ان تصویروں میں ایک پینٹنگ میری بھی آویزاں تھی۔ مظلوم کشمیریوں کے حق میں لکھنا اور پینٹ کرنا مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ میں ان کی جدوجہد میں شریک ہوں۔ سیمنار سے خطاب میں پاکستان کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ خدا کرے ہم سب کی کاوشیں رنگ لے آئیں۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیریوں کے دل راکھ سے ہوئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر ڈل جھیل میں تقریباً دس ہزار لوگ اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جو شکارے میں رہتے ہیں۔ ان غریبوں کا کاروبار ملیامیٹ ہوگیا ہے۔ ان کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ ظاہر ہے وہاں صرف سیاحت ہی ذریعہ معاش ہے۔ وہ کہاں جائیں؟ کس کو اپنی فریاد سنائیں؟ روز ازل سے ہی کشمیریوں سے ان کا حق خود ارادیت کچھ اس طرح سے چھینا گیا کہ سامراجی بھارتی حکمران نہ صرف وہاں ناجائز قبضہ کیے بیٹھے ہیں بلکہ پچھلے چھے مہینے سے ظلم و بربربیت کا گھناؤنا راج بھی قائم کر رکھا ہے۔

بھارتی فوجی مظلوم کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔ وہاں پہ چھایا اُداسیوں کا موسم بہت لمبا ہو گیا ہے۔ دہشت و خوف کی ہوائیں سائیں سائیں کرتی ہیں۔ چناروں کے پتے بھی پیڑوں سے گر جاتے ہیں۔ پنچھی گھونسلوں کے رستے بھول جاتے ہیں۔ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ بھانت بھانت کی سیاسی جماعتیں آخر کب تک امریکہ بہادر کے احکامات پر عمل کرتی رہیں گی۔ جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا تمناؤں کا خون ہوتا رہے گا۔ حریت رہنما آج تک نظر بند ہیں۔

تمام حریت پسند رہنما تحریک آزادی کشمیر کے سربکف رہنما ہیں۔ ان کے آزاد ہوتے ہی کشمیر کی تحریک زور پکڑے گی۔ ان سب لوگوں نے اپنا حقِ خود ارادیت مانگنے کے جرم میں اور پاکستان کی حمایت کے الزام میں اپنی زندگیوں کو جیلوں میں بسر کیا۔ بھارت کے ساتھ جبری الحاق جو آج مکمل طور پر قبضہ بن چکا ہے وہ سب اس کے زبردست مخالف ہیں۔ سیّد علی گیلانی وہ بزرگ رہنما ہیں جن کا جذبہ آج بھی ایک نوجوان جیسا ہے۔ اپنی اورکشمیری عوام کی آزادی کے حق میں وہ سچائی بولتے ہیں جو ہندو توا کے حامیوں کو زہر جیسی کڑوی لگتی ہے اسے سن کے ان کے لکھے خط پڑھ کے غالب یاد آتے ہیں۔

؂ رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

ایک محاورہ بھی میری یادداشت سے آٹکراتا ہے آوازِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو۔ لیکن کیا بُرا زمانہ آگیا ہے کہ طاقت خلق کی آواز کو اپنے پاؤں تلے روندے جارہی ہے۔ دنیا جو سمٹ کر مٹھی میں سما چکی ہے اُسے صرف اپنی پڑی ہے۔ مظلوم کی آواز بے گناہ کی للکار اور معصوم کی دستک سے انصاف کا کوئی در نہیں کُھلتا۔ کہیں یہ دنیا ختم ہونے والی تو نہیں۔ ۔ ۔ ؟ اقوام متحدہ نے خود کشمیری عوام کو خود ارادیت کا انسانی حق دینے کے لیے رائے شماری کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

مگر بد قسمتی سے یہ کتنا بڑا ستم ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان دانشور کشمیریوں کی آزادی اور قلبی یگانگت کے ساتھ وفا فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ نجانے کشمیر کی قسمت کیسی ہے کہ اس خون آلود وادی کی آزادی اولین مرحلے سے ہی برٹش کانگریس گٹھ جوڑ کے باعث نا انصافی کا شکار ہوئی۔ آج کشمیر ایک محصور قلعہ بن چکا ہے جہاں فوجی گردی دہشت و بربریت کا اعلان کرتی نظر آتی ہے۔ بھارت مخالف نعرے لگانے والے نوجوانوں کو گھروں سے اُٹھا لیا جاتا ہے۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوئے چھے ماہ گزر گئے ہیں۔ پندرہ ہزار سے زیادہ افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ سینکڑوں زیر حراست ہیں۔ انٹرنیٹ پر ہنوز پابندی ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ٹیکسٹ پیغام جاسکتا ہے لیکن باقاعدہ بات چیت نہیں ہوسکتی۔ سیاسی رہنما قیدو بند میں ہیں۔ صرف بی جے پی ”سُنجیاں ہوجاون گلیاں وچ مرزا یار پھرے“ کے مصداق اکیلی ہی دندناتی پھر رہی ہے۔ کشمیر میں نہ صرف گُھٹن ہے بلکہ لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔

لگتا ہے کشمیری جو اب تک پاکستان سے آس اُمید لگائے بیٹھے تھے شاید اب مایوسی کی چادر اوڑھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے بھلے کچھ بھی ہوجائے ہم اپنی آزادی کی جنگ خود ہی لڑیں گے خود ہی لڑ رہے ہیں۔ ماضی سے لے کر آج تک پوری مغربی دنیا کشمیریوں کی آزادی کے جہاد کو بدنام کر کے ختم کرنے کے در پے ہے۔ انصاف کا راستہ صرف اور صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کی طرف جاتا ہے۔ بحیثیت انسان اور پاکستانی ہمارے کشمیری بھائی بہنوں کی نہ صرف اخلاقی بلکہ عملی مدد ہم پر فرض ہے۔

ہمارے وزیر اعظم عمران خان جو خود کشمیر کا سفیر بھی کہتے ہیں ان کو یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر اخلاق کے تقاضے فراموش ہوجائیں تو قومیں کبھی معاف نہیں کرتیں۔ برسوں سے جاری ہماری اقتصادی ابتری جوں کی توں بدحال ہے۔ معلوم نہیں یہ حکومتوں کے عملی فقدان کی کمی ہے یا بدعنوانیوں کی پیدا کردہ دلدل کی۔ کوئی بھی حکومت ہو ہماری معیشت عالمی بینکوں اور عالمی قرضوں کے ان تالوں سے بندھی ہوئی ہے جو ہماری زبانوں پہ پڑے ہیں۔ جب تک ہم دنیا کے ان ستم پیشہ مہاجنوں سے آزادی حاصل نہیں کرتے ہم اپنی شہ رگ کو کیسے حاصل کر پائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو میں ارباب اختیار کی عدالت میں چھوڑے جارہی ہوں۔ کالم کے آخر میں کشمیر کے لیے میری ایک نظم اپنے قارئین کی نذر۔

دُور کہیں بڑے بڑے پہاڑوں پر

درخت بہت تھے چنار کے

اس کے دامن میں بستی

اک وادی تھی گُلنار کی

بس پیار ہی پیار کی

خوشبو تھی گل و گلزار کی

دیکھتے ہی دیکھتے آگ لگی چناروں میں

دہکنے لگی آگ پھر سیبوں کے شراروں میں

وادی کے مکانوں پر آسیب

کے سایے سے پڑنے لگے

گھر مردہ خانے سے بننے لگے

چنار کے قدیم درخت

مُرجھانے لگے مرجانے لگے

دُکھ لوگوں کی آنکھوں تک

سر سرانے لگے ڈوب جانے لگے

آزادی کی جلتی بُجھتی چلم

سے آگ ملے گی کب ان کو

کشمیر کی آزادی کی چنگاری پہ

اگر بتی کی مہکتی باس سے

کب کشمیریوں کی کایا پلٹے گی

آزادی بھی اک آیت ہے!

اپنا حق بھی اک آیت ہے!

کون جانے کب کہاں

کس گھڑی یہ کس زمین

پر اُترے گی!

کشمیریوں کی جدوجہدو بالکل اس شاہ تُوس

جیسی ہے جس پر اُن کی دل فگار

انگلیاں حقِ خود ارادیت

کے پھول تو کاڑھتی رہتی ہیں

لیکن شاہ تُوس سے اُڑنے والی

اُون ان کی آنکھوں، دل اور

پھیپھڑوں پر جالے بُنتی جاتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *