زخمی ان داتا۔ کوہ کارونجھر

رائٹرز اینڈ ریڈرز کیفی آرٹس کونسل کراچی کی مہربانی جس نے ہمیں آپ سے مخاطب ہونے کا موقع دیا۔ سب سے پہلے میں اس فورم سے کراچی سندھ کے بیٹے دو معزز جج صاحبان جسٹس ارشد حسن خان اور جسٹس شفیع صدیقی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنھوں نے کارونجھر کا فیصلہ اس طرح لکھا جس طرح ایک زمین زاد کو یہ فیصلہ لکھنا چاہیئے تھا۔ یہ دھرتی قیامت تک ان دونوں معزز جج صاحبان پر اتنا ہی

Read more

اچھوتوں کی ڈائری۔ سندھ گلال

رانا محبوب اختر کی نئی کتاب ”سندھ گلال“ سندھڑی کی وہ گم شدہ آواز ہے جو لوٹ آئی ہے۔ یہ آواز دیوتاؤں کی داستانوں کے سامنے مقامی آدمی کی کہانی ہے۔ وہ آواز جو حملہ آوروں کے رزمیہ داستانوں کی دھج اور جھوٹ میں کے گم ہو گئی تھی۔ یہ ڈیوجی، سورتے، سنبھو اور پھلاج کی کہانی ہے۔ یہ سارنگ، سنگھار، سرہے اور لکھمیر کی کہانی ہے۔ یہ ان زمیں زادوں کی کہانی ہے جو بادشاہوں کے شاہناموں میں اچھوت،

Read more

ناول نیلیاں سلہاں پچھوں: اچھوتوں کی ڈائری

رفعت عباس کا نیا سرائیکی ناول ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ اس دھرتی کے مقتولوں اور مقبوضہ شہروں کی وہ کتھا ہے جو پہلی مرتبہ مفتوحہ لوگوں کی طرف سے بیان کی گئی ہے۔ اس سے پہلے قاتل اور قبضہ گیر کا موقف معتبر ہو کر بول رہا تھا۔ یہ ناول اس بات کا اعلان ہے کہ اب دھرتی واسیوں کے بولنے کی باری ہے۔ وہ دھرتی واس جن کو فاتح کی لغت کے تحت راکھشس، داسو، اچھوت، شودر اور ملیچھ بنا

Read more

کارونجھر : الرکھیو کھوسو کا ساتھ دیں

پارکر کی زمین پر محمود شاہ بیگڑے کے گھوڑے کے پاوٴں کے نشان ابھی تک موجود ہیں لیکن تاریخ کے اوراق میں بیگڑے سے مزاحمت کرنے والوں کے بہتے خون کے قطرے غائب ہیں۔ ننگرپارکر کی قتل گاہ میں قبضہ گیر کی تلوار آج بھی چمک رہی ہے اور بھوڈیسر کی مسجد کے احاطے میں موجد نو گزی اجتماعی قبروں میں مدفون مقامیوں کا کہیں اندراج ہی نہیں ہے۔ پارکر غداروں کی غداریوں اور وفاداروں کی وفاداریوں کے مختلف ادوار

Read more

کارونجھر پہاڑ کو بچانے کے لیے بڑا احتجاج

بی بی سی اردو والوں نے انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں کموڈور ڈریگن پہ ایک ڈاکیومینٹری بنائی ہے۔ اس ڈاکیومینٹری کا اصل موضوع یہ ہے کہ اتنی بڑی اور خطرناک مخلوق کے ساتھ انسان کیسے رہائش پذیر ہے کہ یہ اگر کاٹ لے یا چھو لے تو صرف باہ گھنٹے میں موت واقع ہو جائے۔ اس بارے میں میں جب آئی لینڈ پر رہنے والے لوگوں سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ خطرناک تو آپ کو

Read more

اچھوت: دھرتی کے حقیقی سورما

ویرجی کولہی نے کیا حسین کام کیا ہے۔ انہوں نے انگریزوں کی ننگر پارکر پر قبضہ گیری کے خلاف مزاحمت کرنے والے اچھوت سورما روپلو کولہی پر کتاب لکھی ہے اور وہ بھی اچھوت آنکھ سے۔ یہ کتاب پڑھ کر مجھے ایک بات یاد آئی کہ جب تک شیر نہیں بولے گا تب تک جنگل کی تاریخ شکاری بیان کرے گا۔ اس دھرتی کی تاریخ اب تک وہ تھی جو حملہ آوروں نے خود لکھی یا کسی درباری مورخ سے

Read more

حسن درس: سندھڑی کا امر بیٹا

ہمارا دوست رفعت عباس لکھتا ہے ”میں اپنی ماں کی گود میں جاگا ہوں اور اپنی ماں بولی کی آغوش میں سو جاوٴں گا“ ایک شاعر اور ناول نگار نے اپنی زبان سے کتنا حسین تعلق جوڑا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی ماں بولی کی جھولی میں سو گئے وہی امر ہوئے۔ شاہ لطیف بھٹائی اپنی سندھی زبان کی آغوش میں سو گیا ہے۔ شیخ ایاز اپنی ماں بولی کے دامن میں چلا گیا۔ حسن درس بھی اپنی مادری زبان

Read more

کالاشی کہتے ہیں ”جنت جانے کا کوئی اور راستہ ڈھونڈیں“

آج سے بیس پچیس سال قبل میں نے شیخ ایاز صاحب کی کتاب ’جے کاک ککوریا کاپڑی‘ میں پڑھا تھا کہ ’میں پہاڑ پر چڑھ رہا تھا تو اچانک میرے سامنے وہ لڑکی آ گئی اور میں نے سوچا اے بھگوان، اے بھگوان! تمہارا جلوہ میرا پیشہ کر رہا ہے‘ ۔ ان کی مشہور زمانہ نظم دور ہیمنت میں چاند کیلاش کا میرے دل کو بلاتا رہا پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خواہش جاگی تھی کہ میں زندگی

Read more

پارانے’ کے بازار میں جھانجھر باجے

ننگر پارکر دنیا کی نگاہوں کا مرکز ہو اور تھرپارکر سردیوں چاہے گرمیوں میں سیاحوں سے بھرا ہوا ہو، یہ مجھ سمیت کئی تھریوں کا خواب ہے۔ ہماری دلی تمنا ہے کہ یہاں کے حسین نظاروں میں سیاحوں کے لئے سہولتوں اور آسائشوں کا انتظام ہو اور یہاں قیام گاہیں، تفریحی مقامات، جھیلیں اور پارک وغیرہ بنائے جائیں۔ اس سلسلے میں ہم ایسی سرگرمیاں تواتر سے کرتے رہتے ہیں جن سے تھرپارکر دنیا کی نظروں میں رہے، کیونکہ ہمارا یقین

Read more

اب اچھوت بولے گا

حال ہی میں ایک دوست نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے موہن جو داڑو کی ایسی خوبصورت تصویریں بنائیں جو ہمیں ایسے تصوراتی لمحات میں لے گئیں جہاں خوشیاں قدیم زمانوں کی بارش کی طرح برس رہی تھی۔ بیل گاڑی کو جوت کے میں ”موہن“ کی بازار کو نکلا ساری بستی سکھ بسی ہے اک سپنا دھرتی دیکھتی ہے اچانک آریا ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے اور ہماری دھرتی پر قبضہ کر لیا۔ ہم دھرتی واس راکھشس ٹھہرے اور وہ

Read more

منش میں کیسے مٹی مہکے

بالا آخر دھرتی ہم سے چھوٹ گئی یہ الفاظ رانا رتن سنگھ کے پوتے نے سندھ چھوڑتے وقت کہے تھے۔ رانا رتن سنگھ جس کو انگریز نے امر کوٹ کے قلعے کے میں سولی چڑھایا تھا اور اسے ائر پورٹ پے الوداع کہنے کے لیے اکیلا سورہیہ بادشاہ کا بیٹا ہی تھا! سورہیہ بادشاہ جس کی لاش انگریزوں نے گم کردی تھی۔ اسی طرح تھرپارکر کے ارجن سنگھ ٹھاکر نے، جو اپنے پورے گاؤں سمیت ہجرت کر رہا تھا، گھوڑے

Read more

اچھوت کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے

سب سے پہلے میں لمز یونیورسٹی کا شکر گزار ہوں کہ جس نے میری سندھی شاعری کے سرائیکی ترجمے کی تقریب رونمائی رکھی۔ مجھے، میری شاعری کو اور دو خطوں کی مادری زبانوں کو قبولیت کا اعزاز بخشا۔ ہم تھر اور تھرپارکر سندھ کے رہنے والے ہیں اور اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں انتہائی مجبوری کے عالم میں بولتے ہیں۔ اس لیے میری اس اردو گفتگو میں کسی بھی طرح کی کمی بیشی کو در گزر فرمایا جائے۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ میں پاکستان کے انتہائی اہم تعلیمی ادارے میں اپنی شاعری میں ابھرنے والے نئے سورماؤں کی داستان بیان کروں گا۔

Read more

یہ قصہ کیا ہے معنی کا – پاکستانی اقوام کا مشترکہ تنقیدی اثاثہ

ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اردو تنقید کو تخلیقی روش پر ڈال دیا ہے۔ ان کی تنقید پڑھتے ہوئے جہاں کسی فن پارے کی حیثیت کا تعین ہوتا ہے وہیں اس فن کی تاریخ اور اس کے ارتقا کا عمل بھی اجاگر ہونے لگتا ہے۔ اس طرح ان کی تحریر مسلسل انکشافات کا باعث بنتی ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ”یہ قصہ کیا ہے معنی کا“ اپنے قاری کو سوچ کی ایک نئی راہ پر ڈال دیتی

Read more

شفیع فقیر اور سندھ کی حقیقی گائیکی

شفیع فقیر سے مجھے اتنی شکایات تھیں کہ ہم ایک بہتی ہوئی ندی کے دو کناروں کی مانند ہو گئے تھے لیکن اپنی محبت عاجزی اور انکساری سے اس نے ان شکایات کا ازالہ کیا اور وہ پھر سے میرے دل میں اسی جگہ آ کے بیٹھ گیا، جہاں صرف وہ لوگ بیٹھے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقی قوت، ہنر مندی اور ریاضت سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اس کے ساتھ تعلق بہت پرانا ہے، اس لیے مجھے اس کی

Read more

اب اچھوت بولے گا

ہاکڑہ ادبی فورم سندھ نے سرمایہ داروں کے ہاتھوں چوری ہونے والے گلابی گرینائٹ کے جبل کارونجھر کی ایک خوبصورت پہاڑی پر حال ہی میں سرائیکی زبان میں شائع ہونے والے رفعت عباس کے ناول ”لون دا جیون گھر“ جس کا اردو ترجمہ منور اکاش نے ”نمک کا جیون گھر“ کے عنوان سے کیا اور جسے فکشن ہاؤس لاہور نے چھاپا، کی مہورتی تقریب سندھ کے جادوئی شہر ننگرپارکر میں منعقد کی۔ گرینائٹ کی ایک بڑی گلابی سل پر کارونجھر

Read more

رفعت عباس کا ناول "نمک کا جیون گھر”: دنیا کے لیے امن معاہدہ

دسمبر 2021 میں رفعت عباس کا ناول ”نمک کا جیون گھر“ کے شائع ہونے کے بعد اس دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ناول ”نمک کا جیون گھر“ پڑھا ہے اور دوسرے وہ جنہوں نے ناول ”نمک کا جیون گھر“ نہیں پڑھا ہے۔ ناول میں موجود لونی شہر اس دنیا کی آخری امید ہے۔ دنیا کو لونی میں بدل کر ہی رہنے لائق بنایا جا سکتا ہے، ورنہ جنگ اور دھرم دنیا کو مزید

Read more

ایک دن انقلاب کے ساتھ

ہم ساتھی مٹھو مہیری اور نصیر نہڑیو کی سنگت میں کامریڈ احمد خان لغاری کے پاؤں چھونے گوٹھ داد جروار پہنچے۔ یہ قتل گاہوں کے در تک جانے اور پھانسی گھاٹ کے رسے پر جھولنے والے سندھ قافلے کے ایک اہم انقلابی کے درشن کا وقت تھا۔ ہم نے ایک دوست کی معرفت ملاقات کا وقت حاصل کر لیا تھا۔ ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے وہ ایک چھپر کے نیچے چارپائیاں اور چادریں تکیے لگا کر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہمیں گلے ملتے ہوئے عمر رسیدگی اور نقاہت کے باوجود کامریڈ کی گرم جوشی دیدنی تھی۔

تنہائی پہاڑ جیسے مردوں کو کھا جاتی ہے لیکن جب کامریڈ احمد خان لغاری سے ملے تو کھلا کہ شاہ لطیف بھٹائی نے یہ مصرع کامریڈ احمد خان جیسے حوصلہ مندوں کے لئے لکھا ہے۔

Read more

سوات کے نئے ہیروز

سوات عہد در عہد مختلف مہم جوئیوں، حملوں اور مذہبوں کی زد میں رہا ہے۔ سوات کا پرانا تعارف بدھ مت اور شاہی خاندان ہے۔ اس شاہی خاندان کے وسیع و عریض محلات اب وہاں کے مشھور ہوٹلوں میں بدل چکے ہیں۔ مینگورہ سے کچھ فاصلے پر ایک حسین و پر فضا مقام پر بہتے ہوئے چشمے کے ساتھ چناروں کے قد آور درختوں کے عین درمیان میں ایک سحر انگیز بادشاہی محل (وائٹ پیلس) تھا۔ اس مرمریں محل کو

Read more

وطن اور محبت کا شاعر — مست توکلی

شاہ محمد مری کہتا ہے کہ روزِ قیامت اس کے داہنے ہاتھ پہ اس کی مست توکلی پہ لکھی کتاب ہو گی۔ وہ سچ کہتا ہے کہ یہ کتاب خود شاہ محمد مری کے جنون کی داستان ہے۔ یہ اس کے نامہ اعمال کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ اس کتاب کی ترتیب میں ایک ایک واقعے کی تصدیق کے لیے وہ بلوچستان کے ریگزاروں میں مہینوں چلا۔ یہ کتاب لوگوں کے سینوں میں محفوظ مست توکلی کو احاطہ نگاہ

Read more

ادبی میلے اور بھتہ خوری

دو سال پہلے میرے انتہائی پیارے دوست اور اسلام آباد میں مادری زبانوں کا ادبی میلہ سجانے والے نیاز ندیم نے فون کیا کہ اس مرتبہ ہم آپ کی شاعری کی کتاب کا مھورت اپنے میلے میں کرانا چاہتے ہیں میرا پہلا سوال تھا کیا آپ تھر میں کوئلہ نکالنے والی کمپنی اینگرو یا تھر فاؤنڈیشن سے پیسے لے رہے ہیں۔ اس نے بولا نہیں، میں نے ہاں کردی میں اسلام آباد آپ کے میلے میں آؤں گا۔ میرے علم

Read more

کیسوبا کے کارونجھر کا سرمایہ دار کمپنیوں سے سودا کس نے کیا؟

کارونجھر کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی سرائیکی زباں کے لیجنڈ شاعر رفعت عباس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ”یہ پہاڑ تو نہیں ہے یہ تو کوئی تہذیب ہے جو پتھرا گئی ہے ہر پتھر ایک حسیں مورت کی طرح ہے“ واقع میں کارونجھر عام پہاڑوں سے مختلف اور دنیا کے حسیں پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ہر پتھر کھلتے گلاب کی مانند ہے۔ یہ پہاڑ دیکھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔ کارونجھر ہر

Read more

کارونجھر؛ ہنستا و گنگناتا پہاڑ

تھر کے دلکش، پرسوز اور سر سبز صحرا اور گھنے رن کچھ کے سنگم پر موجود برسوں پرانے بے حد حسیں کارونجھر کے پہاڑ سے گرینائیٹ اور دیگر قیمتی ذخائر لینے کے لئے سرمائیدار کمپنیاں لیز لے کے پہاڑوں کو کاٹ رہی ہیں۔ جس کے خلاف مقامی شاعر، لکھاری، صحافی اور سماجی لوگون کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان سے فطرت سے محبت کرنے والے لوگ سراپا احتجاج کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ دن پہلے یے ٹاپ ٹرینڈ بھی

Read more

مقامی آدمی کا موقف اور رفعت عباس

کبھی کبھار تاریخ میں بڑے بڑے سپہ سالار گم ہو جاتے ہیں، شکست فاش سے دوچار ہوجاتے ہیں، لیکن کسی طوائف کے گھر کی دیوار پر جلتا ہوا چراغ صدیوں تک روشن رہتا ہے، وہ انکار کی علامت بن کر قائم رہتا ہے اور قومیں اسی طوائف کے انکار پر فخر کرتی رہتی ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار ہے رفعت عباس کی شاعری کا، جس کا نام ہے : ”موراں“۔ جب محمد شاہ تغلق نے ملتان کو فتح کیا تو

Read more