کوئی تو خاموشی کو سمجھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکوت کو زندگی کا زیور گردانہ جاتا ہے اور اس کے نظم و ضبط سے آشنائی کامرانی کی دلیل۔ دریں حالانکہ شور صرف تماشا کی طرف دھیان گیان کراتا ہے جبکہ سکوت کی پکار سے آشنائی کائنات کے بھید سمجھنے کا ذریعہ ہے، شکیب جلالی نے کہا تھا

یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے، کہرام ہوجائے

سفارت کاری میں دو باتوں کو اہمیت دینا از حد ضروری سمجھا جاتا ہے کہ کیا کہنا بہت ضروری ہے اور موقع کی مناسبت سے کیا نہ کہنا کتنا اہم۔ یوں تو سفارت کاری کو مخالف فریق کو قائل اور مائل کرنے تک محدود سمجھا جاتا ہے مگر ایسا کامیابی سے کرڈالنا ان دو باتوں کے بغیر چنداں ممکن نہیں، ”کیا نہ کہنا“ کو کچھ کہہ دینے سے سفارتی محاذ پر بھرتی حاصل ہے، ایک دور تھا جب اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف ہی بڑی کرسی پر براجمان تھے مگر وہی ”کل وقتی“ وزیر خارجہ بھی تھے، قریبی لوگوں کی رائے یہی تھی کہ ماضی کے تلخ تجربات کے باعث وہ یہ عہدہ اپنے دفتر میں رکھنے پر مجبور تھے۔

دھیمی طبیعت کے باوجود یار لوگوں کے ساتھ خلش ان کی شخصیت اور ماضی کا حصہ رہی ہے، اب ایسا ہر گز نہیں۔ 24 / 7 وزیرخارجہ اپنے عہدے پر موجود ہے جو ایک متحرک شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ عہدہ انہیں دوسری دفعہ سونپا گیا ہے، ماضی میں ان کا ”ڈٹ جانا“ اور پہلی فرصت میں وزارت سے مستعفی ہوجانا بھی عوام کو یاد ہے۔ اپنے مضبوط وزیر خارجہ کے دفتر کے علاوہ بھی وزیراعظم عمران خان سفارت کاری میں مشغول نظر آتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ اہم کہ کسی بھی ریاست کے سربراہ کی آواز کو ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بہت اہمیت دی جاتی ہے انہوں نے بطور وزیراعظم اپنی ذات کو جس چیز سے زیادہ نتھی کیا ہے وہ ہے کشمیریوں کی ترجمانی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سفارتی جدوجہد۔

وزیرخارجہ اور وزیراعظم جیسی دو متحرک ترین شخصیتوں کے ہوتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”دونوں طرف آگ ہے برابر لگی ہوئی“ موجودہ دور سمٹ کا دور ہے، عالمی اکابرین کسی بڑے مسئلے کے حل کے لئے جو مذاکرات و سفارتی کوششیں کرتے ہیں اسے سمٹ کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں ملائشیا میں ایک سمٹ ہوئی ہے اس میں پاکستان اس لئے شرکت نہ کرسکا کہ اس سے مسلمان ممالک آپس میں کسی نئی طرز کی خلفشاری اور ریشہ دوانی کا شکار ہوسکتے تھے، یہ پیغام وزیراعظم کو اُن کے حجاز کے دوست حکمرانوں کی طرف سے عین اُس موقعے پر موصول ہوا جب وہ اس اجلاس میں شرکت کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ ”جو مزاج یار میں آئے“ کے طور پر اس پیغام کو لیتے ہوئے اُنہوں نے شرکت نہ کرکے اس حکم پر مہر ثبت کرڈالی کہ ہماری معیشت کا پہیہ گمانے میں انہی دوست ممالک کی سعی ہے۔

گو کہ مسلم امہ کو ایک بلاک کی شکل میں لانے کی تجویز جناب عمران خان نے ہی اپنے ملائشیا سے تعلق رکھنے والے ہم منصب مہاتیر محمد کو دی تھی۔ فکر یہ تھی کہ اس کے ذریعے مسلمان ممالک آپس میں ایک جسم کی شکل اختیار کرلیں گے جس سے آپس کے اختلافات اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا، ساتھ ہی ترقی یافتہ ممالک کو مضبوط طریقے سے اپنے متحد ہونے کا احساس کرایا جائے گا۔ اس عدم شرکت کا گو کہ مہاتیر محمد نے حجاز کے حکمرانوں سے شکوہ کرکے واقعہ کی اصل صورتحال بیان کردی تھی۔ مگر ہم ماضی کی روایات کے مطابق معیشت کی مضبوطی کے خواہاں تھے۔

حالیہ دورہ ملائشیا کے دوران وزیراعظم نے عدم شرکت کی وجہ کو وہاں کے ابلاغ کے سامنے ببانگ دہل بیان کرڈالا، عقل مند یہی کہتے ہیں کبھی کبھار کی خاموشی سو آوازوں پر بھاری رہتی ہے۔ چند روز ہی گزرے ہیں جب ملائشیا اور ترکی 5 اگست کے بھارتی یک طرفہ اقدام کے بعد کھل کر پاکستان کے موقف کی حمایت میں کود پڑے تھے۔ جبکہ حجاز کے دوست حکمرانوں نے او۔ آئی۔ سی کے اجلاس تک کی عزت و تکریم بھارتی وزیرخارجہ کو بخش ڈالی تھی۔

ان حالات و واقعات کے پیش نظر اہم یہی تھا کہ جن پہ تکیہ ہے کم از کم ان پتوں کو ہوا دینے سے گریز کیا جائے، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جن دوستوں نے کوالالمپور اجلاس میں شرکت سے رُکنے کا درس دیا تھا اُن کی مسلم امہ کو درپیش خلفشاریوں سے نکالنے میں کتنی جدوجہد ہے۔ ایسا ہی واقعہ آزادکشمیر کے اسمبلی اجلاس میں نظر آیا، جب آزاد خطہ کے وزیراعظم نے عمران خان سے یہ استدعا کی کہ ہم کو متحد ہونا چاہیے اور آپ اس کی قیادت کریں مگر یکجہتی کے مضبوط تاثر کے باوجود وہ اپنے خاموشی سے جڑے ہوئے اعصاب کو قابو میں نہ رکھ سکے۔

وزیرخارجہ سے متعلقہ او۔ آئی۔ سی کے ہونے والے اجلاس میں عرب والوں کی مسئلہ کشمیر پر بحث کرنے سے عجلت برتنا کئی سوالوں کو جنم دے رہا ہے۔ یہی ممالک صدی کے سب سے بڑے ”امن منصوبے“ پر بغلیں بجا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے اس امن کو سبوتاژ کرنے کے منصوبے پر لب کشائی، ملائشیا، ترکی اور ایران ہی کرسکے ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال عرب کے حکمرانوں کی دوستیاں مضبوط عالمی ممالک سے بہت گہری ہیں۔ بے بسی اور مجبوری کو محسوس کرنے کی حس پہلے ہی نحیف ہوچکی ہے، موجودہ دور تجارت اور مفادات کا دور ہے جس میں خاموشی کے سکوت کو شور کی گونج سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران اس راز سے وابستہ کہانیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *