میں یہ کیسے مان جاؤں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ بے شک ایماندار بھی ہیں، سچے بھی ہیں اور دل کے صاف بھی ییں۔ آپ مقبول بھی بے تحاشا ہیں اور یہ جان کر تو ہمارے سر فخر سے بلند ہوجاتے ہیں کہ پوری دنیا میں اس ملک کے غریب مکین جب خود کو متعارف کراتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم عمران خان کے پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے بارے میں سنیل گواسکر کہتے ہیں کہ ایک بار ہم ساؤتھ افریقہ کے مضافات میں سیر و سیاحت سے لطف اندوز ہورہے تھے تو ایک بڑھیا سے ملاقات ہوگئی جس سے جب ہم نے کہا کہ ہم کرکٹرز ہیں تو اس نے ماننے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ آپ کے ساتھ تو خوب صورت عمران خان نہیں ہے میں نہیں مانتی کہ تم سب کرکٹرز ہو۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکی اگر اردوان سے محبت کرتا ہے، ہندوستان اگر مودی کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے، امریکہ بہادر اگر ٹرمپ پر محبتوں کے پھول نچھاور کرتا ہے تو پاکستان کے کروڑں دل آپ کے لئے دھڑکتے ہیں۔

کیا کبھی آپ نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں رات کو جب والدین بچوں کو لوریاں سناتے ہیں تو ساتھ میں آپ کا ذکر بھی کرتے ہیں اور شاید یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس ملک کا بچہ بچہ آپ سے واقف ہے۔

آپ بے شک اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور اس اخلاص کا ثبوت آپ کبھی ورلڈکپ کی یاد دلا کر اور کبھی شوکت خانم کا ذکر کرکے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کم از کم آپ کو تو علم ہونا چاہیے کہ سادہ لوحوں کی اس سرزمین پر جان چھڑکنے والوں کی ہرگز کمی نہیں اور وجہ جس کی یہ ہے کہ جب بھی آپ کے ہونٹ ہلے لوگوں نے گھروں کے دروازے باہر سے بند کیے اور کبھی سڑکوں پر تو کبھی چوراہوں پر آپ کے شانہ بشانہ نئے پاکستان کا نعرہ بلند کرتے رہے۔

آپ نے کہا مجھے وزیر اعظم بننا ہے سادہ لوحوں نے سوچا اگر قسمت اور وقت کا دھارا بدلنا ہے تو خان صاحب کو بنی گالہ کے تین سو کنال اراضی سے وزیر اعظم ہاؤس پہنچانا ضروری ہے پھر کیا تھا پلک جھپکنے کی دیر میں آپ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ گئے لیکن بھلانے میں آپ بھی اوروں کی طرح ماہر ہی نکلے۔

میں یہ مانتا ہوں کہ جن دنوں کرکٹ کا خمارپاکستان جیسے غریب ملک کے باسیوں کی آنکھوں سے مسلسل ٹپک رہا تھا اسی زمانے میں آپ عالمی میدانوں میں ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور چیتے کی تصویر والی ٹی شرٹ پہن کر کھلاڑیوں کو مخاطب کرکے کہا کرتے ”یہ چیتا ہے اور اپنے شکار پر خود جھپٹتا ہے یاد رکھو ورلڈ کپ ہمارا شکار ہے اور ہم نے اس شکار پر جھپٹ پڑنا ہے اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ کرکٹ کا عالمی میلہ آپ نے لوٹ لیا۔

میں دل و جان سے مانتا ہوں کہ جب کینسر کی وجہ سے ترقی یافتہ دنیا پریشان تھی تو آپ نے اپنے غریب ملک میں کینسر کا ہسپتال بنایا اور کروڑوں بے بس لوگوں کی دعائیں لی۔

میں کیسے ماننے سے انکار کرسکتا ہوں کہ صحت کے بعد تعلیم پر جب آپ کی توجہ پڑی تو نمل جیسا شاہکار بنایا۔

میں اگر نہ مانوں تو یہ منافقت ہوگی کہ جب سیاست کے اکھاڑے میں آپ اتر گئے تو پہلے ہی دن سے کرپشن، اقرباء پروری اور قومی چوری کے خلاف آواز بلند کی اور آج تک انہی موضوعات پر آپ کی گونج برقرار ہے۔

ان سارے حقائق کو ماننے کے بعد مگر میں یہ کیسے مان جاؤں کہ لٹے پٹے غریب عوام جن کے لئے آپ آخری امید تھے کو آپ نے بھی ویسی ہی عزت اور محبت دی جیسے آپ کو ملی تھی۔ میں کیا کوئی بھی بھلا یہ کیسے مان لیں کہ ریاست مدینہ کی جو دھاڑ اس کرہ ارض پر سنی گئی تھی اس کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاؤٹ آپ خود نہیں ہیں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے جب آپ اپنی تنخواہ کا رونا رو رہے تھے تو میرے قریب موجود پسینے میں شرابور مزدور ہنس ہنس کر رویا پھر میرے پاس یہ دلاسا موجود نہیں تھا کہ صبر کر پیارے نیا پاکستان بن رہا ہے۔ آپ نے کیا کبھی ایک بار یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ صرف آپ کی خاطر لوگ آپ کے کم فہم، ناسمجھ اور عقل کے اندھے وزیروں کو برداشت کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔

مجھے یاد ہے جب آپ نے آئی ایم ایف نہ جانے کا وعدہ کیا تو دن بھر کے تھکے ماندے مزدوروں نے بھوکے پیٹ جشن منایا تھا لیکن تیز آندھی گویا آپ کے اپنے ہی خیمے میں چلی جو آپ نے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

میں کیسے مان جاؤں کہ آپ ہی وہ مسیحا ہیں جن کے انتظار میں سات دہائیاں گزر گئیں کہ آپ تو خود کہتے ہیں کہ آٹے اور چینی کا بحران جنہوں نے پیدا کیا وہ میرے اپنے ہیں لیکن میں نام نہیں لے سکتا۔ کیا یہ شدید بے بسی ایک حکمران کو زیب دیتی ہے؟

میں کوشش کررہا ہوں کہ مان جاؤں لیکن کیسے کہ آپ کے پارٹی کے اندر اختلافات عروج پر ہیں اور جس کی وجہ سے آپ کے وزراء ڈیلیور نہیں کرپارہے۔

میں اب بھی تسلیم کرتا ہوں کہ آپ بے شک بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن ایسے میں ساہیوال کے بچے سامنے آجاتے ہیں تو دھڑام سے گرجاتا ہوں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے اسمبلیوں کے اندر موجود ملک کے بڑوں نے مہنگائی کا رونا رویا اور تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا اور دوسری طرف غریب شہر سارا دن ایک نوالے اور بیمار بچوں کی معمولی دوائیوں کی خاطر تڑپتا بھی ہے اور ترستا بھی ہے۔

میں کیسے مان جاؤں کہ آپ ہی وہ ہیں جن سے امیدیں وابستہ ہیں کہ حالات تو پہلے سے زیادہ خراب ہیں۔ اب بھی ملک کے بڑے دن بہ دن امیر ہوتے جارہے ہیں اور غریب مٹتا جارہا ہے۔

میں ماننے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں لیکن کامیاب نہیں ہو پارہا۔ ایک بات یاد رکھیئے لاکھوں نوجوان مایوسی کی دلدل میں اور بھی پھنس جائیں گے اگر حالات یہ رہے۔

ایک دلیر راہنما کا سب سے بڑا کمال نڈر فیصلے کرنا ہوتا ہے۔ یہ ملک اور یہ قوم کہیں چپ کا روزہ ہی نہ رکھ لیں۔ وقت تیزی سے ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے آگے بڑھیئے فیصلہ کیجیئے کہ آپ نے اپنے عہد میں جینا ہے کہ تاریخ میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *