کوئی تو خاموشی کو سمجھے

سکوت کو زندگی کا زیور گردانہ جاتا ہے اور اس کے نظم و ضبط سے آشنائی کامرانی کی دلیل۔ دریں حالانکہ شور صرف تماشا کی طرف دھیان گیان کراتا ہے جبکہ سکوت کی پکار سے آشنائی کائنات کے بھید سمجھنے کا ذریعہ ہے، شکیب جلالی نے کہا تھا یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے، کہرام…

Read more

ٹرمپ کی ثالثی: کیا بس یہی آخری آپشن ہے؟

ایک بزرگ سیاست دان کی بات یاد آئی، سیاست کا کسی خدمت کے جذبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، یہ فرائض منصبی کانام ہے، ایک سنجیدہ کاوش! مگرہمارا تعلق ”قبیلہ میر“ سے ہے، وہ لکھتے ہیں۔ میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دو الیتے ہیں القدس فوج…

Read more

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور پولیو کے سہولت کار

بے بسی اور بے حسی کا ایک صحن میں بسیراشاذ ہی دیکھا گیا تھا مگر یہ ایک زمانہ پہلے کی بات ہے، اب ان ”سوغاتوں“ کا معاملہ، ایک ڈھونڈو ہزار ملتی ہیں، والا ہے منیر نے کہا تھا۔ چار چیزیں چپ ہیں، بحروبر، فلک اورکوہسار دل دہل جاتا ہے، ان خالی جگہوں کے سامنے آبادی…

Read more