اقتدار کی گلی

انسان کے خمیر میں خطا کا عنصر موجود ہے۔ ساتھ ہی اس کے دائیں ہاتھ پہ اصلاح کا پہلو رکھا گیا ہے اور بائیں ہاتھ کے مقدر اس رویے کو دہرانے کی روش۔ ہوش والے دانائی کے موتی چن لیتے ہیں اور نادان اس ہنر نایاب سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ شاعر نے کہا تھا ~ ہائے وہ تیر نیم کش، جس کا نہ ہو، کوئی ہدف انگلستان سے پاکستانیوں کا گہرا تعلق ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بسلسلہ

Read more

سلسلہ قومی افسوس کا

بے حسی اور غیر ذمہ داری موت کے رقص کا باعث بن سکتی ہے۔ عوام اور حکمران کے لیے شعور اور نظم و ضبط کی پابندی لازم ہے۔ جس نگہبان سے احساس نگہبانی چھن جائے تو یہ استغفار کی گھڑی ہے، سجدہ ریز ہونے کا وقت ہے۔ سرائے عالمگیر سے تعلق رکھنے والے استاد شاعر سید انصر نے پکار کر کہا تھا میرے بکھرے ہوئے ٹکڑے تو سمیٹے جائیں آپ کو جشن منانے کی پڑی ہے، اور میں آج کل

Read more

دھوپ کے پجاری

شفاف اور نکھرے ہوئے راستے دل کی دہلیز تک رسائی کے راستے ہیں اور گرد و غبار سے اٹے پڑے راستے تو منزل سے دور ہونے کا استعارہ ہیں  جو مسافر کو منزل سے ہی نہیں، نقش پا سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ ظفر صاحب نے کہا تھا صاف و شفاف تھی، پانی کی طرح، نیت دل دیکھنے والوں نے دیکھا، اسے گدلا کر کے توجہ طلب بات یہ ہے کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنہوں نے چمن کی

Read more

اعتراف کی سچائی اور بے دھیانی کی حقیقت

معاشرہ خوبیوں و خامیوں کا مرکب ہوتا ہے۔ اس کی اکائی فرد ہے جو ان دونوں صفات کا عملی نمونہ ٹھہرتا ہے۔ ایک لفظ ’مجبوری‘ ہے، جو کسی ذی روح کی خوبی کا درجہ تو حاصل نہیں کر سکتا تاہم اسے معاشرتی خامی کہنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ یہ ایک لفظ نہیں، جہان زندگی ہے۔ جس کا تعلق پروردگار کی آزمائش کے زیادہ قریب ہے۔ اس کی بے پناہ جہتیں ہیں اور لامحدود وسعتیں۔ عدیم نے کہا تھا: تمام

Read more

زبان اور بیان، اللہ حافظ!

سفر کو دوام ہے، مسافر کو نہیں۔ کوئی آج اس جہاں تو اگلے دن کا اجالا پھیلنے تک، ابدی وادی کے حسین و جمیل مرغزاروں میں۔ منیر نیازی نے کمال مہارت سے ٹکڑا دل کی حقیقت بیان کر دی تھی جس کی سمجھ بوجھ کو آج بھی طبی دنیا میں ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں صبح کاذب کی ہوا میں، درد تھا، کتنا منیر ریل کی سیٹی بجی، تو دل لہو سے، بھر گیا وہ گرمیوں کی

Read more

کنفیوژن راہ نجات نہیں۔ ۔ ۔

غلط فیصلے اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے جتنی کنفیوژن۔ یہ انسان کو مایوسی کے سپرد کر دیتی ہے۔
کبھی ’ہاں‘ کی پکار اور کبھی ’نہیں‘ کی لپک ایک معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے چنداں آسان فہم نہیں۔

وادی ابہام سے نکلنے کے لیے غصے کی پگڈنڈیوں پر پاؤں جمانے سے احتراز برتنا چاہیے۔ بے ساختہ شاعر اکبر معصوم نے ایک یہ منظر پیش کیا تھا

دن نکلتے ہی، میرے خواب بکھر جاتے ہیں
روز گرتا ہے اسی فرش پر، گلدان میرا

Read more

پچیس برس کی ریاضت اور افغان امن معاہدہ

ابھی وقت ہے کچھ کر گزرنے کا، اس کے لیے توانائی کی یکسوئی کی ضرورت ہے اور بہت حد تک معاملہ فہمی کے ادراک کی۔ حصول مقصد میں دیر ہو جانا ایک معمول کی علامت ہو سکتا ہے مگر اندھیر ہو جائے تو کیا کیا جائے، چراغ طور کو کہاں سے روشن کیا جائے۔ ثروت حسین نے کہا تھا میں نے خود کو جمع کیا، پچیس برس میں یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہو گا تحریک انصاف کو

Read more

کرونا اور حکومتی تجاہل عارفانہ

کیسی عجیب بات ہے کہ انسان کی فہم و فراست، جرات رندانہ اور تقدیر کا فیصلہ حالات کیا کرتے ہیں، سمندر انسانی کی موجودگی نہیں۔ حالات کی سنگینی چاہے تو رگوں کو کسی پت جڑ کے موسم کی طرح شکستہ کر دے اور اگر نظر کرم کر دے تو ہیرو بنا کر پیش کر دے۔ اصل کمال تو سہنے والے کا ہے جو جس سمت چاہے اس بہتے دریا کا راستہ موڑ دے۔ کنارے کی طرف یا عین منجدھار کی طرف۔ اقبال نے یہی درس دیا تھا

Read more

ووٹ سے وباؤں کے دانت کھٹے ہونے دو

جان، مال، عزت نفس اور حق خود ارادیت، ان چار کونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہی میر انیس کا ہر دم قائم رہنے والا خیال خاطر غبار۔ کائنات کی چاروں سمعتوں میں ان چار کونوں کا رنگ اور ترنگ پایا جاتا ہے۔ ان جہتوں کو تحفظ کی فراہمی گویا زندگی کی چاردیواری کی مضبوطی کی علامت ہے۔ حق خودارادیت کی ایک شکل ووٹ کا استمعال ہے جس کا درست استمعال ہر شہری کے بنیادی فرائض میں سے ایک ہے اور

Read more

وبا، جنگ و جدل کے میدان اور صحافی کا قلم

انسان اشرف المخلوقات ہے، اس سے ڈرنے کی بجائے دل میں انسانیت کا خوف ہونا ضروری ہے۔ انسان کا خوف نہیں احترام درکار ہوتا ہے، درحقیقت یہی درس انسانیت ہے، یہی انسانیت کی تعریف ہے۔ شاعر نے یہی آفاقی درس دیتے ہوئے کہا تھا یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں کہ کام آئے دنیا میں، انسان کے انساں حضرت اقبال کی شاعری آفاقی ہے، اس کی کئی جہتیں ہیں، کئی سمتیں ہیں، بے پناہ منظر ہیں، لاکھ پس منظر

Read more

آزاد کشمیر میں نئے ڈاکٹروں کے مسائل

ریاست کو ’گھر‘ کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ادارے اس گھر کے فرد کہلاتے ہیں۔ اپنے مکینوں کو بیرونی یلغاروں سے بچانے کے لیے ’گھر‘ سے بڑی ڈھال اور مثال اور کوئی ہو نہیں سکتی۔ لاکھ طوفان آئیں اور در و دیوار کے پاوں کھسکائیں، تاہم مکینوں کا شکست و ریخت بال بیکا تک نہیں کر سکتی۔ ریاست اور اس کے اداروں کے درمیان کبھی کبھی اونچ نیچ بھی ہو سکتی ہے ان حالات میں ریاست کو دو قدم

Read more

تم زمین پر تو قابض ہو سکتے ہو، دلوں پر نہیں

ملکی حالات کو زیر نظر رکھنے کے لیے پارٹی سیاست بھی کافی ہو سکتی ہے، جس کا شکار ہمارا معاشرہ ہے۔ مگر عالمی حالات کی سمجھ بوجھ کے لیے حکمت اور دانش درکار ہوتی ہے۔ جب چہار سو غالب والا ”کارخانہ ہو جادو کا“ تو حالات و واقعات کی تہ تک رسائی کے لیے آنکھ اور دل کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ احمد مشتاق نے کہا ہے: جب اسے دیکھو، آنکھ اور دل کو ساتھ ملا لینا ایک آئینہ،

Read more

روٹی بھی ضروری ہے اور انٹرنیٹ بھی

انسان جدوجہد کے معاملے میں تقسیم در تقسیم ہے وہ بیک وقت اپنے وجود کو کئی محازوں پر برسر پیکار پاتا ہے۔ ایک جنگ انسان کی اپنے باطن کے ساتھ ہوا کرتی ہے، یعنی منازل کے حصول تک کی جستجو، اس چنگاری کو لپکتے رہنا چاہیے، شکیب جلالی نے کہا تھا۔ یہ کائنات ہے، میری ہی خاک کا ذرہ میں اپنے دشت سے گزرا تو بھلا پائے بہت ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان کا شخصیت پرست دور اختتام کو

Read more

عورت کی آزادی اور عزت نفس میں فرق ہے

عزت حسن کچھ چار دیواری تک محدود ہے اور کچھ دریچہ دل تک، ان حدود و قیور کا ادراک ہونا ضروری ہے احساس عزت وہ چیز ہے جو تقسیم کرنے سے بڑھتا ہے مگر الجھنے سے ہر گز نہیں، شاعر نے کہا تھا تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا عالمی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے کاروبارزندگی بری طرح متاثر ہوا ہے، فضائی سفر بند ہے، افغانستان اور ایرانی سرحد سے متصل بارڈرایریا کو سیل کر دیاگیا ہے،

Read more

جنگ جراثیم

خوف کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتا، اس کی بے جا کثرت شخصیت کو پارہ پارہ کر دیتی ہے، چنانچہ اس کے وجود میں اعتدال ہوناضروری ہے۔ ایک جذبہ احساس ذمہ داری ہے جس کی اساس اشرف المخلوقات کے ضمیر سے اٹھائی گئی ہے اس کی فروانی کسی بھی شخصیت کے نکھرنے کے لئے ضروری ہے۔ ڈاکٹر ابرار عمر کا یہ قلم توڑ شعردیکھئے۔ صحن تک آگئی تھی بربادی اور وہ سو رہا تھا کمرے میں الفاظ سے

Read more

ایک تیر بہدف نسخہ کی تلاش

امن کا فروغ حدود و قیود سے ماورا چیز ہے، اس کا پرچار کرنا اور اس کی روشنی پھیلانا ایک مشترکہ عمل ہے، کسی فرد واحد کی جدوجہد اس کی حکمرانی کے لئے ناکافی ثابت ہوسکتی ہے، امن کی شمع کو مل کر جلانا چاہیے اور اس کی روشنی و حرارت کو ماند کرنے والی ہواؤں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ بقول جون ایلیا چارہ گر ہار گیا ہو جیسے اب تو مرنا ہی دواہوجیسے عالمی سطح پر جابجا شورش نظر

Read more

کوئی تو خاموشی کو سمجھے

سکوت کو زندگی کا زیور گردانہ جاتا ہے اور اس کے نظم و ضبط سے آشنائی کامرانی کی دلیل۔ دریں حالانکہ شور صرف تماشا کی طرف دھیان گیان کراتا ہے جبکہ سکوت کی پکار سے آشنائی کائنات کے بھید سمجھنے کا ذریعہ ہے، شکیب جلالی نے کہا تھا یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے، کہرام ہوجائے سفارت کاری میں دو باتوں کو اہمیت دینا از حد ضروری سمجھا جاتا ہے کہ کیا کہنا بہت ضروری ہے اور موقع کی مناسبت

Read more

ٹرمپ کی ثالثی: کیا بس یہی آخری آپشن ہے؟

ایک بزرگ سیاست دان کی بات یاد آئی، سیاست کا کسی خدمت کے جذبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، یہ فرائض منصبی کانام ہے، ایک سنجیدہ کاوش! مگرہمارا تعلق ”قبیلہ میر“ سے ہے، وہ لکھتے ہیں۔ میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دو الیتے ہیں القدس فوج کے جرنیل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد، عالمی سطح پر کچھ تزویراتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، یہ بھی ذہن نشین رکھناضروری

Read more

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور پولیو کے سہولت کار

بے بسی اور بے حسی کا ایک صحن میں بسیراشاذ ہی دیکھا گیا تھا مگر یہ ایک زمانہ پہلے کی بات ہے، اب ان ”سوغاتوں“ کا معاملہ، ایک ڈھونڈو ہزار ملتی ہیں، والا ہے منیر نے کہا تھا۔ چار چیزیں چپ ہیں، بحروبر، فلک اورکوہسار دل دہل جاتا ہے، ان خالی جگہوں کے سامنے آبادی بم کے باعث یوں تو تل دھرنے کی جگہ نہیں مگر منیر نیازی والی ”خالی جگہیں“ جابجا ہیں، خالی جگہوں پر آنے سے پہلے ایک

Read more