دہلی انتخابات:اسلام آباد کے حکمران کے لئے نوشتہ دیوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کی دارالحکومت نئی دہلی میں ریاستی اسمبلی کے ارکان کے انتخاب کے لئے 8 جنوری کو ووٹ ڈالے گئے۔ الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ ان انتخابات میں بھارت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی ) ، دہلی کی حکمران جماعت، عام آدمی پارٹی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کے درمیان مقابلہ تھا۔ نتا ئج کے مطابق ریاستی اسمبلی کے 70 نشستوں میں سے 62 نشستوں پر عام آدمی پارٹی کو کامیابی ملی ہے جبکہ مرکزی حکمران جماعت بی جے پی کو صرف اٹھ نشستیں ملی ہیں۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کا دہلی سے صفایا ہو ا ہے اور وہ ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہو ئی۔ مرکز میں حکمران جماعت بی جے پی کو دہلی میں شکست ہوجانے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی یہ بات درست ثابت ہو ئی ہے کہ ”لوگ کارکردگی کو دیکھ کر ووٹ دیں“۔ عوام نے ان کے قول پر عمل کرتے ہوئے کارکردگی کو ووٹ دیا۔ الزامات، غداری کے نعروں اور بڑھک کی سیاست کو بھارت کے دل نئی دہلی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کرکے الزامات لگانے والوں، دوسروں پر غداری کے فتوی لگانے اور بڑھک مار سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو پیغام دیا کہ عوام میں شعور بیدا ر ہو چکا ہے۔ اب وہ الزامات، خالی نعروں، اور بڑھک مارسیاست کو نہیں بلکہ کارکردگی کو ووٹ دیں گے۔

دہلی میں جب ریاستی اسمبلی کی انتخابی مہم شروع ہوئی تو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے دست راست، وزیر داخلہ امیت شاہ نے روایتی انداز سے یہاں بھی جلسوں سے خطاب کیا۔ قومی انتخابات میں جس طرح پاکستان مخالف مہم کو جواز بنا کر انھوں نے عوام سے ووٹ لیا اسی طر یقہ واردات کو یہاں بھی نہایت چالاکی اور مکاری کے ساتھ آزمایا۔ دہلی میں چونکہ بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت وزیر داخلہ امیت شاہ کر رہے تھے اس لئے انھوں نے پاکستان مخالف رویہ اپنا یا۔

انھوں نے عوام کو اکسانے کی کوشش کی۔ بار بار اس بات کو دہرایا کہ ”بھارت نے پاکستان کی بری حالت کر دی ہے اور اب اسلام آباد، دہلی کے نام سے کانپتا ہے“۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر الزام عائد کیا کہ ”انھوں نے حکومت کی بہترین سکیم کے نفاذ میں روکاٹیں ڈالی“۔ بی جے پی نے اس انتخابی مہم میں مذہب اور قوم پرستی کا خوب استعمال کیا۔ ”دیش کے غداروں کو گولی مارو کے نعرے لگائے گئے“۔ شاہیں باغ میں موجود احتجاج کرنے والوں کے بارے میں الزام لگایا گیا کہ ”یہ آپ کے گھر وں میں گھس کر آپ کی بیٹیوں کا ریپ کر سکتے ہیں“۔

اروند کیجریوال کو ”شدت پسند“ کہا گیا۔ اس کے بر عکس عام آدمی پارٹی نے عام لوگوں کے مسائل پر بات کی۔ عام آدمی پارٹی نے تعلیم، صحت، بے روزگاری، پینے کے صاف پانی، بہتر سڑکوں، بنیادی نظام میں تبدیلی، بجلی کی مفت فراہمی اور غریبوں کو مفت رہائش کی بات کی۔ بھارت کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے الزامات کے لحاظ سے یہ بدترین انتخابی مہم تھی۔

دہلی میں انتخابی مہم کی قیادت خود وزیر داخلہ امیت شاہ نے کی۔ انھوں نے یہاں درجنوں جلسوں سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نر یندر مودی نے بھی کئی جلسوں میں شرکت کی۔ وفاقی وزراء اور بعض ریاستوں کے وزرائے اعلی نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ اس کے باوجود دہلی میں بی جے پی کو شکست ہو ئی۔ کیوں؟ اس لئے کہ بی جے پی نے یہ انتخابات مذہب پر ستی اور قوم پر ستی کے نام پر لڑے۔ انھوں نے کارکردگی کی بجائے الزامات کی سیاست کی۔

انھوں نے عوام کو جوڑنے کی بجائے تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے لوگوں میں غداری کے تمغے بانٹے۔ انھوں نے شدت پسندی کی بات کی جبکہ دوسری طرف عام آدمی پارٹی نے اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے الزام تراشی سے گریز کیا۔ انھوں نے انتخابی مہم میں مذہب اور قوم پر ستی کے استعمال سے گریز کیا۔ انھوں صاف اور سیدھے انداز میں عوام کے سامنے اپنی بات رکھی اور ان سے کہا کہ ”اگرآپ کو میرا کام پسند ہے تو آپ مجھے اپنی رائے دے ورنہ نہیں“۔

دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی جیت اور بی جے پی کے شکست کے بعد بھارت میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ مستقبل میں عوام الزامات، غداری کے نعروں اور بڑھک مار سیاست دانوں اور سیاست جماعتوں کا ساتھ دیگی یا کارکردگی کی بنیاد پر حکمرانوں کا انتخاب کرے گی۔ بھارت میں زیادہ تر سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دہلی کی سیاست نے وہاں کی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قومی سیاست پر اس کے اثرات جلد یا بدیر ضرور نمودار ہوں گے۔ ان کا مانا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ عوام انتخابات میں خیالی نعروں کی بجائے کارکردگی کو ووٹ دیں گے۔

دہلی کی عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بڑے سیاسی قد کاٹ کو مسترد کیا۔ انھوں نے بی جے پی اور کانگریس جیسی بڑی جماعتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اس لئے کہ بڑی قدکاٹ کی شخصیات نے ہمیشہ ان سے ووٹ تو لیا لیکن ان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس وہاں کی عوام نے ایک مرتبہ پھر نریندر مودی کے مقابلے میں چھوٹی سیاسی قدکاٹ کے مالک اروند کیجریوال پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انھوں نے علاقائی جماعت عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا اس لئے کہ گزشتہ دو رحکومت میں انھوں نے عوامی مسائل پر توجہ دی اور ان کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کی۔

اسلام آباد کے حکمران کو بھی بی جے پی کی شکست سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ نر یندر مودی بھارت میں اس سے زیادہ مقبول رہنما ہے جتنا کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان میں ہے۔ ان کو بھارت میں وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ اکثریت حا صل ہے لیکن اس کے باوجود وہ دارالحکومت میں انتخابات اس لئے جیت نہ سکے کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں ناکام رہے۔ وہ الزامات لگانے کے ماہر تھے لیکن عوام کے مسائل سے بے خبر تھے۔ غداری کے فتوے لگانے میں ان کا ثانی نہیں لیکن ملکی مسائل سے نابلد ہے۔

بڑھکیں مارنے میں ان کا کوئی برابر نہیں لیکن عوام کیا چاہتی ہے اس کو وہ سمجھنے سے قاصر رہے اس لئے دہلی انتخابات میں بدترین شکست یہاں کے حکمرانوں کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ سرحد کے اس پار بھی تمھار انجام یہی ہوسکتا ہے اگر تم نے بھی خالی نعروں، الزامات اور بڑھکوں پر انحصار کیا اور عوامی مسائل حل نہ کر سکے، اس لئے کہ کسی کو کچھ وقت کے لئے بے وقوف تو بنایا جاسکتا ہے لیکن زیادہ مدت کے لئے نہیں۔ یہاں کامیابی اس کو ملتی ہے جو کارکردگی دکھائے۔ جو کردارکا غازی ہو گفتار کا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *