محبتوں سے ڈرتے ہم لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم محبتوں سے خوفزدہ لوگ ہیں۔ ہمیں محبت لفظ سے ہی خوف محسوس ہوتا ہے۔ جیسے یہ کوئی اچھوت لفظ ہے۔ جسے بولنے سے ہی ہماری زبانیں ناپاک ہو جاتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ بنیادی طور پہ ہمارے ڈی این اے میں ہی کوئی خرابی چلی آ رہی ہے۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اردگرد محبت کا اظہار کرنے والے لوگ نظر آئیں۔ اچھا، نظر نہ آئیں اس کے پیچھے بھی بے شمار توجیحات پیش کر دی جاتی ہیں۔ میں ان سب توجیحات کو ہمیشہ ایک جملے میں ختم کرتی ہوں۔ کہ بھئی جب محبت ہے تو ہے۔ آپ محبت کی توہین نہیں کر سکتے۔ آپ اسے محسوس کرتے ہیں۔ وہ آپ کو سرشار کرتی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو چاہا جائے۔ آپ بھی کسی کو چاہیں۔ یہ انسانی جبلت ہے کہ وہ محبت کرنا چاہتا ہے۔ ماسوائے ان کے جن کو محبت لفظ سے چڑ ہے۔

سن دو ہزار کے بعد جہاں ٹیکنالوجی نے تیزی سے ترقی کی۔ ہماری زندگیاں آسان بنائیں۔ وہیں انسانی رویے اور رویوں میں بڑھتی شدت پسندی بھی واضح بڑھتی نظر آئی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہم گلیوں میں لڑکی لڑکے کی تخصیص کے بنا خوب کھیلتے تھے۔ مسجد میں قرآن کی دہرائی کے لیے جاتے ہمیں کبھی ڈر نہیں لگا۔ گلی محلے کی دکانوں سے سودا لیتے وقت کبھی کسی انکل نے ٹافی گولی کا لالچ دے کر بیڈ ٹچ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تب راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔

میرے خود کے ساتھ کچھ واقعات ہوئے۔ لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس وقت آج جتنی فرسٹریشن نہیں تھی۔ لوگوں میں دید لحاظ تھا۔ جو کہ آج بالکل نہیں رہا۔ کیا وجہ ہے کہ آج شدت سے محبتوں کے خلاف بات کرنے والے معاشرے میں فرسٹریشن اپنی انتہا پہ ہے۔ کیوں چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں درندوں سے محفوظ نہیں۔ کیوں راہ چلتی عورت آوازیں کسنے، جھانگیں کھجانے، ساتھ چلنے کی آفرز سن کے اگنور کرکے چلنے پہ مجبور ہے۔ اگر ہمارے رویے یا سوچ اتنی ہی جاندار ہوتی تو آج ایسا نہ ہو رہا ہوتا۔ جیسا آج کل ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے۔ ایک سانحے کے بعد دوسرا سانحہ۔

بات محبت کی شروع کی تھی۔ کہاں سے کہاں نکل گئی۔ تو چند سال پیچھے تک چلتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جیسے جیسے انٹرنیٹ سے آگاہی اور اس کا استعمال بڑھا۔ ویسے ویسے ہمیں دنیا میں ہونے والے تہواروں و فیسٹیولز بارے پتہ لگنا شروع ہوا۔ مدرذ ڈے، فادرز ڈے یا ویلنٹائن ڈے یہ سب آگاہی ہمارے ملک میں سن دو ہزار کے بعد عام ہوئی۔ کیا وجہ ہے کہ مدرذ ڈے پہ ہمارا میڈیا ہماری مارکیٹس تو زوروشور سے اس ایونٹ کو منانے کی ترغیب دیں۔

ہم فادرز ڈے پہ تو باپ کی عظمت کی شان بیان کرتے نہ تھکیں۔ ہماری ایڈورٹائزنگ انڈسٹری ایونٹس کو سپانسر کرے۔ مگر جب بات ہو ویلنٹائن ڈے منانے کی تو اس پہ آپ کی طرف سے اعتراض آ جائے کہ یہ کافروں کا تہوار ہے۔ یہ اعتراض چند سال پہلے نہ تو عام تھا نہ ہی لوگوں کو اس پہ اعتراض اس قدر زیادہ تھا کہ اس کے مقابلے پہ آپ کو حیاء ڈے منانا پڑتا۔ حیاء ڈے کی بھی خوب کہی۔ کہ ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ حیاء کے نام پہ یہاں کیا کیا اور کیسے کیسے ڈرامے کیے جاتے ہیں۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ بہن بنا کے ٹھرک نہیں جھاڑی جاتی یا منہ بولا بھائی بنا کے اپنے جذبات کو تسکین نہیں دی جاتی۔ ہم کبوتر ہیں؟ جو بلی کو دیکھ کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ مگر بچتا بہرحال نہیں ہے۔ محبت کا تعلق سیکس سے جوڑ دینے والوں کی عقل پہ بھی سو توپوں کی سلامی دینے کو جی چاہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جس سے محبت ہو اسے چھونے کی خواہش بہرحال ہوتی ہے۔ لیکن صرف چھونے کی خواہش محبت نہیں ہوتی۔ ہراسمنٹ، سیکس کی آفرز اور دو طرفہ محبت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ فرد کی آزادی کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے آپسی تعلقات کیسے ہیں یا وہ کیا کرتے ہیں۔ یہ سوچنا آپ کا کام نہیں۔ ان کا کام ہے جن کے درمیان معاملات چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ انہیں طے کرنے دیں کہ وہ سیکس کریں گے یا نہیں کریں گے۔ آپ اپنے معاملات حل کریں۔

محبت کرنے کے لیے پورا سال ہے۔ ایک دن مخصوص کیوں۔ کچھ لوگوں کا یہ اعتراض بھی ہوتا ہے۔ اب بھئی پورا سال آپ کام کاج روزگار مختلف مصروفیات میں ہوتے ہیں۔ شاید محبت کا اس طریقے سے اظہار نہیں کرتے جیسے کرنا چاہیے۔ اگر سال کا ایک دن آپ محبت کے نام کر دیں تو اس میں برائی کیا ہے۔ اگر محبت کا اظہار کرنے و سننے سے آپ کا ڈوپامین اور سیروٹائن لیول بہتر ہوتا ہے۔ تو یہ تو اچھی بات ہے۔ محبوب کی آنکھوں بالوں اور ہونٹوں سے کھیلنا یقینا آپ کو تروتازہ کرے گا۔ وطن عزیز میں جو حالات چل رہے ہیں۔ میں تو سمجھتی ہوں یہاں ویلنٹائن جیسے تہوار مہینے میں ایک بار تو ضرور ہوں۔ کہ انسان زندہ رہنے کے لیے کچھ سامان جمع کر سکے۔

میں اس ویلنٹائن کو تمام محبت کرنے والوں کے نام کرنا چاہتی ہوں۔ ان تمام کے نام جنہوں نے مجھ سے زندگی میں کبھی محبت کی۔ یہ ویلنٹائن اس کے نام جو گھنٹوں گلی میں مجھے دیکھنے کھڑا رہتا تھا اور مجھے پتہ ہی نہ تھا۔ یہ اس کے بھی نام جس کی محبت نے مجھے یہ احساس ہی بھلا دیا کہ میں اپنا ایک الگ وجود بھی رکھتی ہوں۔ اس الگ وجود کو پہچان کرانے والوں کے نام۔ ہر اس انسان کے نام جس نے مجھے زندگی کو جینے کا ہنر سکھایا۔ محبت آپ کو احساس دلاتی ہے کہ آپ ایک خوبصورت وجود کے مالک ہیں۔ ایک ایسا وجود جو دوسروں کے لیے باعث راحت ہے۔ اپنے وجود سے راحت کا احساس دلائیے۔ محبت کیجئیے۔ یقین مانیں زندہ رہنے میں آسانی رہے گی۔

میری طرف سے آپ سب کو ہیپی ویلنٹائن ڈے۔ خوش رہیں خوشیاں بانٹیں۔ جئیں اور محبت کرنے والوں کو بنا فتوے جینے دیں۔ محبت کرنے والے معاشرے کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ محبتوں سے روکنے والے یقینا ہیں۔ آخری بات کہ کیا میں اپنی بیٹی کو اس سب کی اجازت دوں گی۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ میں کون ہوتی ہوں اجازت دینے والی۔ میں تو بس گائیڈ کر سکتی ہوں۔ وہ بھی تب تک جب تک وہ خودمختار نہیں ہو جاتی۔ سو مجھے اس پہ بھی مشورے مت دیجئیے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *