مسلم دنیا کا زوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سولہویں صدی میں جب برطانیہ کا سفیر مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں آیا تو تعارف کے بعد اکبر کا پہلا سوال یہ تھا کہ یہ جزیرہ نما کہاں ہے۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک دنیا کے کل جی ڈی پی کا اسی فیصد ایشیا پیدا کرتا تھا جس میں غالب حصہ مسلم دنیا کا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک یہ بازی کیسے پلٹ گئی۔ اس کا جواب ہے یورپ کی کاروباری اصلاحات۔

اسلامی دنیا میں جاگیر داری نظام رائج تھا جہاں جاگیر کا مالک اپنی ضرورت سے ہزاروں گنا زیادہ حاصل کر رہا تھا چنانچہ اسے کسی ترقی یا پیداوار بڑھانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ کاروباری طبقہ حقیر سمجھا جاتا تھا اور انہیں بنیے سمجھا جاتا تھا۔ ایک کاروباری جب کسی نئے ملک آتا تو سب سے پہلے بادشاہ کو اپنا بہترین مال پیش کرتا جو بادشاہ ازراہ عنایت قبول فرما لیتا اپنی چیز کی قیمت طلب کرنا انتہا درجے کی گستاخی سمجھی جاتی تھی اور بادشاہ انعام کی صورت میں اس کا بدل تاجر کو دیتا تھا جو اصل زر سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتا تھا اور کم بھی۔

یورپ میں حالات فرق تھے اور کاروبار کو عروج حاصل ہو رہا تھا یہودیوں کی سربراہی میں کاروباری اخلاقیات مروج کی گئیں اور کاروباری حضرات کو قانونی تحفظ حاصل ہوا۔ کاروباری حضرات تحفظ ملنے کے بعد کھل کھیلنے لگے اور جب منافع حد سے بڑھ گیا تو نئی سائنسی ایجادات اور استحصال کے لئے نئی دنیا کی دریافت میں سرمایہ کاری کرنے لگے۔

یہ وہ بنیادی اینٹ تھی جس نے یورپ کی ترقی کی بنیاد رکھی۔ اسلامی دنیا آج بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکی۔ ایک شریف کاروباری اپنے مال کی قیمت آج بھی شرافت سے وصول نہیں کر سکتا۔ آپ کسی بھی اسلامی ملک کا ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو کاروبار مشکل نظر آئے گا۔ پاکستان افغانستان بنگلہ دیش وہ ممالک ہیں جہاں کاروبار باقی اسلامی دنیا سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

اب سوال یہ بچتا ہے کہ اب ہم کیا کریں کہ نکلی ہوئی ٹرین پکڑ لیں۔ تو سب سے پہلے ہمیں ذخیرہ اندوز چاہے وہ اشیا کا ہو یا زمین کا اسے کاروباری تاجر سے علیحدہ کرنا پڑے گا۔ دوسری چیز تاجروں کے لئے آسان ٹیکس اور فری عدالتیں قائم کرنی پڑیں گی۔ اور تیسری سب سے اہم چیز تاجروں کو فری کنسلٹینسی دینی چاہیے تاکہ وہ دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *