ضلعی انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف والے ناراض ہوتے ہیں کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بے بنیاد کرپشن رپورٹ کیوں جاری کی؟ جبکہ ہمارے گردوپیش کے حالات بتاتے ہیں کہ کرپشن کا طوفان مہنگائی کے طوفان میں ضم ہو کر ایک خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر کسی بھی شہر کی ضلعی انتظامیہ اور ترقیاتی ادارے مل کر شہر کو خوبصورت اور دیدہ زیب بناتے ہیں لیکن وفاقی دارالحکومت میں یہ دونوں معتبر ادارے شہر سے تقریبا بے پرواہ دکھائی دیتے ہیں۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے ایک غیر رسمی گفتگو میں انکشاف کیا کہ مجھے علم ہے کہ سیب کی پیٹیوں میں رقم کس ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار کو بھجوائی گئی۔ درحقیقت وزیر داخلہ اسلام آباد میں ہونیوالی ذخیرہ اندوزی اور خود ساختہ مہنگائی پر برہم تھے اور ان کا نظریہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ کے افسران کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ کرپٹ مافیا کے ہاتھوں میں کھلونے بن کر رہ جائیں۔ چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی ایک عمدہ اور منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں ان کی موجودگی کا حکومت کو یہ تو فائدہ ہے کہ بڑے بڑے سکینڈل ان کی وضع داری اور محبت میں اہل صحافت ”پی“ جاتے ہیں لیکن ان وارداتوں سے دھواں اٹھتا رہتا ہے۔

اسی طرح ایک اور سکینڈل وزارت داخلہ کی راہداریوں میں گردش کر رہا ہے کہ ایک کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے عہدیداروں نے کامیابی کے قدم چومنے سے پہلے پیسوں کی ”سبیل“ لگائی اور پھر کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ کہا جارہا ہے کہ پیسوں کی ”سبیل“ بھی اسی افسر کے لئے لگائی گئی جس کو سیبوں کی پیٹیوں میں رقم پہنچائی گئی۔

اسی طرح یہ خبر بھی گرم ہے کہ مارکیٹ کمیٹی اسلام آباد کا مبینہ خود ساختہ چیئرمین روشن دل خان اپنی ایک سالہ مدت پوری ہونے کے باوجود کس عہدیدار کی آشیر باد سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے؟ روشن دل خان نے اپنی خدمات کے عوض وزارت داخلہ  کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور جموں و کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کی گرین بیلٹ پر عظیم الشان بنگلہ تعمیر کر کے اپنے اثرورسوخ کے جھنڈے گاڑھ دیے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سی ڈی اے نے یہ بنگلہ گرانا چاہا تو روشن دل خان کے سرپرست عہدیدار نے فورا سی ڈی اے کے اہلکاروں کو واپس پلٹنے کا حکم دیدیا۔ وزارت داخلہ کی گیلریوں میں آغوش کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی فیز II کی سٹراند بھی اٹھ رہی ہے اور ایک ضلعی انتظامیہ کا افسر فیز IIسے قبضہ مافیا کا قبضہ ختم کرانے میں کو ئی دلچسپی نہیں لے رہا۔ یہ بھی مصدقہ معلومات ہیں کہ لنگر خانوں کی آڑ میں سرکاری افسران نے کرپشن کے جہاز ”لنگر انداز“ کررکھے ہیں۔

دوسری طرف نیب میں ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر کے خلاف سیکٹر  D 12 کے 58 پلاٹوں کا کیس کالے ناگ کی طرح پھنکار رہا ہے لیکن فی الحال وہ اپنے کچھ مہربانوں کی وجہ سے اس ناگ سے محفوظ ہے اور سیکٹر ای الیون میں ایک ہائی رائز بلڈنگ کا غیر قانونی معاملہ بھی تیزی سے ابھر رہا ہے جو کہ ضلعی انتظامیہ کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس وقت چار بڑے کیسوں کی انکوائریاں جان بوجھ کر سرد خانے میں ڈالی گئی ہیں جو کسی بھی وقت دہکتی ہوئی چنگاریوں کا روپ دھار سکتی ہے۔ اول شہریار آفریدی کے گھر کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والے اخراجات پر وزیراعظم نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا لیکن یار لوگوں نے اسے منوں مٹی تلے دفن کر دیا لیکن وہ اب بھی سانس لے رہی ہے۔

دوئم کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اسلحہ لائسنسوں کے اجراء پر بھی انکوائری بٹھائی گئی تھی لیکن یہ انکوائری دوبارہ اٹھ ہی نہیں سکی اگر وزیر داخلہ کی نظر پڑ گئی تو اس انکوائری کے ساتھ کئی لوگوں کی نوکری اٹھ جانے کا امکان ہے بتایا جا رہا ہے کہ وزارت داخلہ کے ایک سید زادے نے اس کو اپنی میزکے نیچے رکھا ہوا ہے۔

مزید برآں ضلعی انتظامیہ سے کہا گیا تھا کہ نیب کو بے نامی جائیدادوں کا ریکارڈ فوری طور پر فراہم کیا جائے لیکن تا حال ضلعی انتظامیہ اس ”کار خیر“ میں اپنا حصہ ڈالنے میں دانستہ ناکام ہے یا پھر اسلام آباد میں بے نامی جائیدادیں موجود ہی نہیں ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ کا اقرار یا انکار ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

چیف کمشنر اسلام آباد جناب عامر احمد علی نے معاملات کو شفاف بنانے کے لئے کو آپریٹیو ڈیپارٹمنٹ کو ڈی سی آفس سے الگ کرنے کے احکامات دیے تھے تا کہ کام میں نکھار آسکے لیکن تا حال ان احکامات پر اسی طرح عمل نہیں ہو سکا جس طرح وزیراعظم کی ٹیکس وصولی کے حکم پر عمل نہیں ہو سکا۔

اسلام آباد کی حالت یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کا عہدہ ایک سال سے زائد عرصہ سے خالی پڑا ہے۔ اسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ کنٹرولر دستیاب نہیں ہے اور انسپکٹر فوڈ بھی ضلعی انتظامیہ کو نہیں مل رہا۔ یقینی طور پر یہ سارے معاملات چیف کمشنر جناب عامر احمد علی نے حل کرنا ہیں اور اگران کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو ان کی اچھی ساکھ پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ لہذا ایسی صورتحال کا فوری تدراک بہت ضروری ہے لہذا پی ٹی آئی والے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر سیخ پا ہونے کی بجائے ان افسران پر نظررکھیں جو عوام کو اور قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 74 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *