مغرب زدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغرب مسلمانوں کے دینی احکام میں سائنس کو بطور دلیل پیش کرتا رہا ہے اوراس کا سب سے زیادہ ٹارگٹ مسلمانوں کی سماجی زندگی رہی ہے کہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں انسان کا براہ راست دخل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب نے ہر میدان میں اسلام کے احکام کا مقابلہ کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ معاشرتی زندگی میں بہت سے ایسے امور ہیں جو اغیار کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے اپنے سماج میں بڑی بہادری سے رائج کر لیے ہیں اور جنہیں اسلامی معاشرے میں اس طرح انجام دیا جاتا ہے کہ گویا انقلابی دنیا میں ان کا کوئی اہم مقام و مرتبہ ہے۔

مغربی طرز معاشرت سے یہ سمجھ لیاگیا ہے کہ اگر اس طریق پر نہ چلے تودنیا قدامت پسند کہے گی۔ پتھروں کے دور کے طعنے دیے جائیں گے، پھر یہ خوف بھی دامن گیر ہوگیا کہ اگر دنیا کے شانہ بشانہ نہ چلے تو ناکامی مقدر ہوگی۔ مشرقی طرز معاشرت میں مغربی عکس باخوبی دیکھا جاسکتا ہے جس میں دن بدن جدت پیدا ہورہی ہے۔ اگر آپ کسی تقریب میں شریک ہوں، مہمانوں کے لیے ضیافت کا انتظام ہو، بیٹھنے کی جگہ ہونے کے باوجود لوگ کھڑے ہو کر کھانا کھا رہے ہو ں توآپ ان کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے۔

اگر آپ نے انہیں بیٹھ کر کھانا کھانے کا کہہ دیا تو پھر آپ کو کھڑے ہو کر کھانا تناول کرنے کی سائنسی دلیلیں سننی پڑیں گی، جبکہ ہمارے ہاں یہ عرف عام ہے کہ کسی بھی تقریب میں چاہے کتنی ہی مذہبی کیوں نہ ہو، کھڑے ہو کر کھانا کھانے والے اپنی اس انفرادی عادت سے محفل کو منور ضرور کرتے ہیں۔ صاحب تقریب کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ وہ ان مہمانوں کو روک بھی نہیں سکتا، کیوں کہ وہ ان کے مقربین میں سے ہوتے ہیں جنہیں کسی طورپرناراض کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ مجبوراً پھر میزبان کو اپنوں کی کڑوی کسیلی سننی پڑتی ہے، لہذا وہ ایسے مہمانوں کی غیر اخلاقی، غیر اسلامی حرکات پر ناک بھوں چڑھاتا رہتا ہے، کیونکہ اسے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات مغرب زدگی کی زد میں ہیں۔

مغرب نے ہمیشہ سے آسان ہدف اپنایا ہے۔ اس نے پھرتی سے اپنی زہر آلود زبان سے اسلام کے طور طریقوں پر حملہ کیا اور فکری انتشار کا طوفان بپا کردیا ہے۔ ان حملوں میں مؤثر ترین حملہ عورت پر کیا گیا کیوں کہ مغرب جانتا ہے کہ اسلام میں عورت کا مقام مرتبہ بہت بلند ہے۔ اسلام نے عورت کو ہر نہج پر ایک خوبصورت جگہ دی ہے۔ ماں، بہن، بیٹی، بیوی جیسے رشتوں سے اسے متصف کیا اور انسانی تربیت کے لیے اول درس گاہ بنایا، لہذ ا اس کے احترام کو ختم کرنا ازحد لازمی سمجھ کر اس پر کئی طرح کی جرحیں شروع کروا دی گئی۔

عورت کو باور کرایا گیاکہ اسے فیملینزم کی جیل سے آزاد ہونا ہے، مذہب کی بیڑیوں کو توڑ نا ہے، اپنی آزادی مانگنی ہے اور مذہب کی قید وبند سے خود کو چھڑانا ہے۔ تب ہی اسے مردوں کے مساوی حقوق مل سکیں گے نہیں تو وہ ساری زندگی مرد کی غلامی میں گزارے گی۔ یوں عورت کو کئی طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کیا گیا اور ان کے مذہبی شکوک کو ختم کرنے اور عقلی دلیلوں کی بھر مار کے لیے نام نہاد مذہبی پیروکاروں کی بھرتیاں کی گئی تاکہ عورت کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔

فروغ بے حیائی کے اس طوفان سے معاشرے میں اتنا زیادہ عورت بگاڑ پھلایا گیا کہ آج کی مسلمان باحیا عورت مغرب زدگی میں مغربی عورت کو مات دینے لگی، جبکہ دوسری طرف مغربی عورت اپنے ہاں حقوق نسواں کی غیر مساوی تقسیم، غیر انسانی سلوک، غیر محفوظ سوشل زندگی، ڈر خوف پر سراپا احتجاج بن گئی۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں می ٹو کی مہمیں چلائی جارہی ہیں، این جی اوز حقوق عورتاں کے لیے دن رات اس بات پر کام کررہی ہیں کہ کس طرح عورت کو محفوظ کیا جائے۔

مغرب زدگی نے کئی خطرناک وائیرسز پھلائے ہیں جن کا علاج از حد ضروری ہے۔ ایسی خوف ناک بیماریاں پیدا کردی گئی ہیں کہ جنہیں دیکھ کرمسلم معاشرے کی روح تڑپ جاتی ہے۔ کچھ دن قبل ایک دوست کی دعوت پر ان کے اسکول جانا ہوا۔ دفتر کی طرف جاتے ہوئے راہداری کے ایک طرف طلبہ کے لیے بنائے ہوئے واش رومز سے ہمیں لگا کہ کوئی کھڑے ہو کر پیشاب کررہا ہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں رفع حاجت کرنے والی کی مخصوص عادات ہوتی ہیں جنہیں بند دروازے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔

کھڑے ہو کر رفع حاجت کرنے کوہمارے دین میں بری بات اورنازیبا حرکات میں شمار کیا جاتا ہے جس پر وعیدیں موجود ہیں، اس کے بعد اس فعل کو فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے۔ سائنس آج اس بات کی قائل ہو چکی ہے کہ کھڑے ہو کر واش روم استعمال کرنا انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور اس عمل کے مستقل کرنے سے شدید ذہنی بیماریا ں لاحق ہو سکتی ہیں۔ مغرب خود کو بہت ترقی یافتہ کہتا ہے، لیکن اگر دیکھا جائے تو ترقی کی آڑ میں وہاں فکری پسماندگی اپنے عروج پرنظر آتی ہے۔

مغربی معاشرہ فکری تنزلی کا شکار ہے جس کی وجہ سے انسان کوکئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ لہذا حقیقی مسلم معاشروں کی روح خالصتاً اسلامی ہونی چاہیے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنی سوسائیٹیوں، محفلوں، تقریبات اور ارد گرد کے ماحول پر گہری نظر رکھیں تاکہ غیر اسلامی افعال سے خود بچیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں۔ تاکہ مغربی طرز معاشرت کے جرثوموں کا خاتمہ ہو، اسلامی طرز معاشرت کا احیاء ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply