کیا مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں عام آدمی کے تناظر میں اس وقت ایک بنیادی مسئلہ بنیادی ضروتوں سے جڑی مہنگائی کا معاملہ ہے۔ اگرچہ مہنگائی کا مسئلہ ہمیشہ سے ہماری سیاست اور عام آدمی کے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی آمدن اور خرچ میں جو عدم توازن ہے اس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا جن ہے جو اس کے لیے زیادہ معاشی بدحالی کے ماحول کو قائم کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو اس کو بڑا چیلنج مہنگائی پر کنٹرول کرنا اور عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ معاشی تحفظ اور ریلیف دینا ہوتا ہے۔ لیکن کیونکہ ہمیں حکمرانی کے نظام میں لاتعداد سطح پر مسائل کا سامنا ہے اور بری حکمرانی کے عمل نے ہماری سیاسی، سماجی، انتظامی اور معاشی مشکلات کو بڑھادیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر لوگ حکمرانی کے نظام سے نالاں نظر آتے ہیں۔

تحریک انصا ف کی حکومت جو بنیادی طور پر بڑے بڑے سیاسی نعروں، وعدوں اور بہت کچھ تبدیل کرنے سمیت نئے پاکستان کے نام پر آئی تھی۔ پہلے سو دنوں میں انہوں نے اپنی حکمرانی کا ایک ایسا روڈ میپ دینے کی بات کی تھی جو بہت کچھ بدلے گا۔ لیکن عملی طور پر اب تک کی سولہ ماہ کی حکمرانی میں ہمیں اس حکومت کے نظام میں عام آدمی کی مشکلات کم نہیں بلکہ زیادہ بڑھتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ عام آدمی کا اہم مسئلہ آٹا، چینی، دالیں، سبزی، تیل، ڈیزل، بجلی، گیس، پٹرول، ادویات، علاج اور تعلیم سے جڑے مسائل ہوتے ہیں۔ اگر عام آدمی کو ان اہم معاملات میں معاشی ریلیف ملے اور معاملات اس کی آمدن کے اندر رہیں تو اس کی نہ صرف مشکلات کم ہوتی ہیں بلکہ اس کا سیاسی نظام پر اعتماد بھی قائم ہوتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور بالخصوص وزیر اعظم عمران خان خود اعتراف کررہے ہیں کہ عام آدمی واقعی ان کی حکومت میں مہنگائی سے پریشان نظر آتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے مہنگائی کو قابو پانے کے حوالے سے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور معاشی ٹیم کو واضح اور سخت پیغام دیا ہے کہ وہ عام آدمی کو ہر صورت میں معاشی ریلیف دینے کی ٹھوس حکمت عملی اختیار کریں۔ وزیر اعظم نے فوری طور پر عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے پندرہ ارب روپے کا معاشی ریلیف پیکج اور ضروری اشیا کی فراہمی کے لیے دو ہزار کے قریب ایسے سٹور قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں عام آدمی کو سرکاری نرخ پر چیزیں دستیاب ہوں گی۔ اسی طرح وزیر اعظم نے آٹا اور چینی کے بحران کو پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بھی بڑی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

اس وقت قومی سیاست میں جو بنیادی نعرہ گونج رہا ہے وہ حزب اختلاف کی سیاست سے جڑے مسائل کم یا حکومت کو عملی طو رپراپنے سیاسی مخالفین سے خطرہ کم اور زیادہ خطرہ معاشی بحران یا بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہے۔ عملا اس حکومت کو سب سے بڑا خطرہ بھی اپنی ہی حکومت یا اپنی حکمرانی کے نظام سے ہے۔ اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس اس موجود ہ معاشی بدترین صورتحال میں مہنگائی کو کنٹرول یا عام آدمی کو معاشی ریلیف دینے کے حوالے سے کیا سیاسی اور معاشی آپشن موجود ہیں۔

کیونکہ جس انداز سے آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت پر سخت پابندیاں عائد کررہی ہے اس کی موجودگی میں عام آدمی کی مشکل کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھے گی۔ اس لیے حکومت خود اس مسئلہ پر ایک بڑے بحران سے گزررہی ہے۔ اگرچہ حکومت اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کو اپنی ناکامی ماننے کی بجائے سابقہ حکومتوں کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے حکومت کی یہ منطق مان بھی لی جائے تو تب ہی لوگوں نے ان کو ووٹ دیے تھے اور ان ہی سے بڑی تبدیلی کا توقع بھی کی تھی۔ اب اس حکومت کا ہنی مون پریڈ ختم ہوگیا ہے اور اب محض سابقہ حکومتوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرکے وہ اپنا دامن نہیں بچ سکے گی اور اسے خود عملی طور پر کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اصل ذمہ داری وفاقی حکومت کے مقابلے میں صوبائی حکومت کی ہوتی ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر موجود حکومتیں حکمرانی کے نظام کو موثر اور شفاف بنانے سمیت عام آدمی کو ریلیف دینے کی زیادہ ذمہ دارہیں۔ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کی مدد سے مقامی نظام اور عام آدمی کے مسائل کو زیادہ فوقیت دے کر حکمرانی کے نظام میں لوگوں کا اعتماد بڑھائیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہماری صوبائی حکومتیں وہ بڑی ذمہ داری لینے کے تیار نظر نہیں آتی جو ان کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

اگر لوگوں کی آمدن میں تواتر سے خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہو تو مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں بنتی۔ لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ نہ صرف لوگوں کی آمدن میں اضافہ نہیں ہورہا بلکہ پہلے سے موجود لوگ روزگار سے محروم ہورہے ہیں اور نئے لوگوں کے لیے بھی روزگار موجود نہیں۔ یہ صورتحال ایک غیر معمولی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے اور اس کے لیے غیر معمولی اقدامات ہی بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کیا کرے۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے حکومت کو لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم اقدامات کی سطح پر ایک موثر حکمت عملی درکار ہے۔ اول حکومت نے جو مقامی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں تشکیل دی تھیں وہ عملی طور پر ناکام ہوگئی ہے ان کو ختم کرکے نئے سرے سے اس نظام کی سرجری کی جائے اور نگرانی کا نظام موثر اور شفا ف ہونا چاہیے۔ دوئم جو لوگ بھی ذخیرہ اندوزی، منافع خوری یا ناجائز طریقے سے مصنوعی بحران پیدا کرکے خود فائدہ حاصل کررہے ہیں وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہو ان کے خلاف بلا امتیاز احتساب کی جائے اور ان کو کڑی سزا ئیں دی جائیں۔

سوئم حکومت وفاقی اور صوبائی سطح پر اپنے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں اور بڑی سرجری کرے، بہت زیادہ بیوروکریسی پر انحصار کرنے کی بجائے قومی اور صوبائی ارکان یا مقامی ارکان کو مہنگائی پر کنٹرول اور نگرانی کے نظام میں بڑا کردار دیا جائے۔ چہارم عام اور کمزور آدمی کے لیے خصوصی پیکج سبسڈی کے تناظر میں دیا جائے لیکن یہ سبسڈی ہر فرد کے لیے نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ مخصوص طبقہ یعنی کمزور طبقات تک محدود ہو۔ پنجم حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز یا اس طرز کے مراکز زیادہ سے زیادہ کھولے اور عام آدمی کو سرکاری نرخ پر ضروری اور بنیادی اشیا فراہم کرے۔ ششم اپنے ٹیکس کے نظام کو منصفانہ اور شفاف بنائے یعنی طاقت ور طبقات سے ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانا اور عام آدمی کو ریلیف دینا اس کی اہم ترجیح ہونی چاہیے۔

عمومی طور پر مقامی نظام اور عام آدمی کے لیے مقامی حکومت کا نظام کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں چاروں صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں مقامی نظام حکومت کو مضبوط بنانا نہیں ہے۔ ان صوبائی حکومتوں نے عملی طور پر مقامی نظام حکومت کو مفلوج بنادیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر نگرانی اور جوابدہی کا نظام استحصال کا شکار ہے اور اس کا نزلہ عام آدمی کی زندگی کو مفلوج بناتا ہے۔ وزیر اعظم کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چاروں وزرائے اعلی کا اجلاس طلب کرے اس میں صوبائی سطح پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا جامع پلان یا حکمت عملی سمیت صوبائی حکومتوں کو پابند کیاجائے کہ فوری طور پر صوبائی سطح پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کی مد سے مقامی نظام کو زیادہ مستحکم اور مضبوط بنانے میں بڑی پیش رفت کریں۔

وزیر اعظم کی یہ بات درست ہے کہ مہنگائی بحران پیدا کرنے میں ایک بڑا مافیا موجود ہے اور یہ مافیا یقینی طور پر حکومت کے اندر بھی موجود ہے اور حکومت سے باہر بھی۔ اس مافیا نے باہمی گٹھ جوڑ کی مد دسے حکومت کو مفلوج بھی کیا ہوا ہے۔ لیکن یہ بات وزیر اعظم کو سمجھنی ہوگی کہ یہ معالہ اتنا سیدھا نہیں ہے اور نہ ہی اس مافیا کو آسانی سے کمزور کیا جاسکے گا۔ اس کے لیے ایک بڑی سرجری کی مدد سے مافیا کے نظام کو کمزور کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آکر پوری قوم کو اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہوگا اور جو بھی معاشی حقایق ہیں یا جو مہنگائی بڑھ رہی ہے اس کی اصل وجوہات پر بات کرنی ہوگی۔ یہ کام حکومت تن تنہا نہیں کرسکتی اس کے لیے یقینی طور پر حزب اختلاف کو ساتھ ملانا ہوگا۔ اسی طرح کاروباری طبقات اور بڑے تاجروں کو بھی اس مشاورت کا حصہ بنایا جائے اور سمجھا جائے کہ کہاں اصل خرابی ہے اور اس موجود خرابی کو کیسے دور کرنا ہوگا تاکہ ہم نہ صرف مہنگائی کے جن کو قابو پاسکیں بلکہ عام آدمی کو معاشی ریلیف بھی دے سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply