اور آنا گھر میں ”مچھلیوں“ کا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ عیاشی اور فارغ البالی کی زندگی گزار گزار کر بور ہوگئے ہیں تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ ایک عدد ایکواریم اور اس کے ساتھ پندرہ بیس چھوٹی بڑی رنگ برنگی مچھلیاں گھر لے آئیں۔

لیجیے سرکار!

آپ کے برے دن شروع ہوگئے۔

سب سے پہلا جھٹکا جو آپ کی خوش فہمیوں کی عمارت کی بنیادیں ہلائے گا وہ ایکواریم میں پانی ڈالنے کے فوراًبعد ہوگا۔ جب نہایت پرجوش انداز میں آپ بالٹی پر بالٹی بھر کر جلد سے جلد ایکواریم کو بھر رہے ہوں گے تاکہ وہ بھی مصر کے شہر اسکندریہ کے مشہور زمانہ ایکواریم کی طرح کے صاف شفاف اور چمکدار پانی سے دیکھنے والے کی آنکھوں کو خیرہ کر سکے۔

مگر یہ کیا؟

جیسے ہی ایکواریم بھرا اس میں موجود بجری اور اس پر لگی ریت مٹی نے پانی میں حل ہو کر ایسا گدلا محلول تیار کیا کہ پہلی نظر میں دیکھنے پر گمان ہو کہ پانی راولپنڈی کے نالہ لئی سے بھرا گیا ہے۔ اب آپ دل کو تسلی دیں گے کہ یہ مٹی ریت آہستہ آہستہ نیچے پیندے میں بیٹھے گا تو یہ ایکواریم بالکل ویسا نظر آئے گا جیسے اس دکاندار کی دکان میں ڈسپلے میں لگے ہوئے تھے جہاں سے آپ نے یہ ایکواریم خریدا تھا۔ اب مچھلیاں ڈالنے کی باری ہے۔

مچھلیوں کا شاپر جیسے ہی آپ نے ایکواریم میں انڈیلا آپ کو 11000 وولٹ کا ایک اور جھٹکا لگے گا جب آپ کی 2 عدد خوبصورت مچھلیاں ”شہید“ ہوچکی ہوں گی۔ اب آپ 90 s کی فلموں کی طرح اپنا دماغ ریوائنڈ کریں گے تو آپ پر یہ حقیقت کھلے گی کہ بے ہنگم ٹریفک کے باعث جو 2 گھنٹے سڑک بلاک رہی اور اگلے 2 گھنٹے جو آپ نے گھر میں ایکواریم کی مناسب جگہ کا انتخاب کرنے اور اسے سیٹ کر کے بھرنے میں لگائے اس دوران شاپر کے اندر ”حبس بے جا“ میں رہنے کی وجہ سے دو مچھلیاں اب بقیہ 18 مچھلیوں میں نہیں رہیں۔ حق مغفرت کرے۔

خیر دل مضبوط کرکے آپ ایک بار پھر سے خود کو تھپکی دیں گے کہ بقیہ تو زندہ ہیں ناں!

اب آکسیجن پمپ لگانے کی باری آئے گی۔ اکسیجن پمپ لگانے کے بعد آپ تھوڑا اطمینان کا سانس لینے ہی لگیں گے کہ بجلی چلی جائے گی۔

اوہ خدایا!

اب کیا کریں؟

آکسیجن بند رہی تو باقی بھی مر جائیں گی۔ الیکٹریشن بلائیے اور آکسیجن پمپ کو یو پی ایس سے کنکشن دیجیئے۔ یوں آپ اپنا ایک پورا دن ذہنی اذیت میں گزارنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ بات یہاں پر بھی ختم ہوجائے تو پھر ٹھیک ہے لیکن آپ کی ایسی قسمت کہاں؟

صبح آنکھ کھلتے ہی آپ جیسے ہی خوراک ڈالنے جائیں گے ایک مچھلی کی لاش پانی کی سطح پر تیرتی ہوگی باقی اس کو نوچ نوچ کر کھاتی ہوں گی۔ معلوم ہوا کہ ان میں سے یہ فلاں سلور رنگ والی گوشت خور ہے۔ دکاندار کو فون کیا تو پتا چلے گا کہ اس ایک گوشت خور کو الگ کر دیا جائے ورنہ باقیوں کو بھی کھا جائے گی۔

ارے او نا ہنجار انسان!

جب تجھے معلوم تھا کہ گوشت خور اور دیگر مچھلیاں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں تو خریدتے وقت تو نے کیوں نہ بتایا؟

اب کچن سے ایک بڑا برتن زوجہ سے ادھار مانگئیے اور نیم کے رس میں ڈوبی ان کی گفتار سے اپنی تواضع کرائیے۔ گوشت خور مچھلی کو اس برتن میں منتقل کرتے وقت یاد رہے اگلے دن اس مچھلی کو مردہ حالت میں ڈسٹ بن میں بھی آپ نے خود ہی پھینکنا ہے ورنہ ایک بار پھر ”نیم تواضع“ کے لئے تیار رہیں۔

اب دن میں 2 وقت آپ نے خوراک ڈالنی ہے۔ ایک ہفتے بعد مزید 2 سے 4 مچھلیوں کی ہلاکت پر آپ کو معلوم ہوگا کہ زیادہ خوراک نہ صرف انسانوں بلکہ مچھلیوں کے لئے بھی قاتل ہے۔

15 دن بعد پانی بالکل دیکھنے کے قابل نہ رہے گا۔ تبدیل کرنا پڑے گا۔

پانی تبدیل کرنا کوئی عام بات نہیں جناب۔

پہلے نہایت احتیاط سے پانی کا ایک ایک جگ ایکواریم سے نکال کر مچھلیاں بالٹی یا کسی ٹب وغیرہ میں منتقل کریں اور پھر بجری جو ایکواریم کے پیندے میں ہے اور بجری کے ساتھ ساتھ مچھلیوں کا فضلہ بھی آپ نے ہی صاف کرنا ہے۔

کوئی 4 گھنٹے کی محنت شاقہ کے بعد آپ کا ایکواریم اور باقی ماندہ مچھلیاں دوبارہ سے دیکھنے کے قابل ہوجائیں گی۔ شام کو تھکے ہارے گھر آئیں تو آپ کو لگے گا کہ دو تین مچھلیاں نیچے پیندے میں دبکی بیٹھی ہیں اور حالت نزع میں ہیں۔ گھبرا کر آپ پھر سے دکاندار کو فون کریں گے۔

” اوہ اچھا اچھا! اے کوئی بات نہیں جی۔ وہ سردی کی وجہ سے ہے۔ پانی ٹھنڈا ہوگیا ہوگا ناں۔ آپ ایکواریم کا ہیٹر نہیں لے گئے تھے کیا؟ ٹھنڈے پانی میں مچھلی مر جاتی ہے۔ آپ دکان پر آجائیں اور ہیٹر لے جائیں صرف 2000 کا ہے۔ “

ہائیں؟

اس میں ہیٹر بھی لگتا ہے؟ مگر بھائی دریا میں تو کوئی ہیٹر نہیں ہوتا؟

”تو سر دریا میں تو آکسیجن پمپ بھی نہیں ہوتا۔ آپ کو دریا اور ایکواریم میں فرق نہیں پتا؟ “

اور آپ کو پہلی بار اپنی دماغی حالت پر شک ہونے لگے گا اور دکاندار پر غصہ بھی آئے گا لیکن اس کے باوجود آپ ہیٹر خریدنے کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے۔ ہیٹر کی کیا احتیاطی تدابیر ہیں وہ آپ کو ایک یا دو ہیٹر ٹوٹنے کے بعد ہی سمجھ آئیں گی۔ اس سب کے بعد آپ بمعہ اہل خانہ اگر 2 یا 3 دن کے لئے کسی رشتہ دار عزیز کی شادی بیاہ یا کسی اور کام سے گھر کو تالہ لگا کر چلے گئے تو واپسی پر 4۔ 5 مچھلیاں خوراک نہ ملنے پر ویسے ہی مرچکی ہوں گی۔

اگر اس سب کشٹ سے آپ بچ بھی گئے تو کچھ عرصے بعد بیٹھے بٹھائے بلاوجہ آپ کو لگے گا کہ قالین گیلا ہو رہا ہے۔ آپ ذرا غور فرمائیں گے تو آپ پر اب تک کا سب سے خوفناک انکشاف ہوگا کہ ایکواریم کا ایک شیشہ ٹوٹ چکا ہے۔

اب جو آپ کی حالت ہوگی خدا کی پناہ!

آپ نیم دیوانگی کی حالت میں پورے گھر میں ایسے بھاگتے پھریں گے گویا سرخ مرچوں کی ایک چٹکی آپ کے نازک اعضا پر مل دی گئی ہو۔

مچھلیوں کو بچائیں یا گھر کے سامان کو؟

جنگ عظیم کا سماں ہوگا بوکھلاہٹ میں دو چار ظروف ٹوٹیں گے اور دماغ ماؤف ہوجائے گا۔ کسی طرح مچھلیوں کو ایک بار پھر بالٹی یا ٹب میں منتقل کیجیئے اور اس کے بعد میری طرح خلق خدا کو اس فتنے کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے خبردار کیجئیے کہ یہ صدقہ جاریہ ہے۔

اور مجھے لگتا ہے کہ میری مچھلیوں کا آکسیجن پمپ ٹب سے دوبارہ باہر نکل گیا ہے لہذا مجھے اجازت دیجیئے۔

اللہ حافظ و ناصر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *