الحمدللہ ہمارا دٖفاع مضبوط پے، حافظ سعید کی ضرورت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں کل سے ایک کر نل صاحب کا یہ جملہ بے طرح یاد آ رہا ہے کہ لشکر طیبہ کو وردی پہنا لیں تو پاک آرمی اور پاک آرمی کی و ردی اتار دیں تو لشکر طیبہ کے سرفروش مجاہدین بن جاتے ہیں۔ یہ معنی خیز جملہ انہوں نے 2014 میں ارشاد فرما یا تھا اور ہم بھی زیر لب مسکرا کے رہ گئے تھے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کالعدم جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کو مختف مقدمات میں مجموعی طور پر گیارہ سال کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ان پر دہشت گردی کی دفعہ گیارہ ایف ٹو اور گیارہ این کے تحت سزا سنائی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ دہشت گردوں کو غیر قانونی فنڈنگ کر رہے تھے۔ ایف اے ٹی ایف کے اہم اجلاس سے چند روز پہلے عدالت کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں نے آخر کار اپنے قیمتی اور سٹریجیک اثاثوں کو عالمی دباٶ کے سامنے قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ حقیقت ایک بار پھر درست ثابت ہوئی کہ چار سال قبل نواز شریف نے ایسے ہی ”اثاثوں“ سے نجات حاصل کرنے کا بروقت، صائب اور مشکل فیصلہ کیا تھا مگر اس وقت ان کے خلاف ڈان لیکس کا شوشا چھوڑ کے انہیں غدار ی کا سرٹیفکیٹ عطا کیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ جماعت الدعوہ، لشکر طیبہ، جیش محمد اور اس طرح کی بہت سی دوسری عسکری و فسادی تنظیموں نے فلاحی اداروں کی آڑ میں ملک کے اندراور باہر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر کے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جو ایٹمی طاقت پانچ لاکھ پیشہ ور اور سرفروش مجاہدین پر نازاں و شاداں ہو، اسے بھلا پرائیویٹ جہادیوں اور فتنہ پرور لشکروں کی کیا ضرورت ہے جو پوری دنیا میں اس کا تاثر برباد کرتے پھریں۔

یاد رہے کہ جماعت الدعوہ نے دعوت الارشاد، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، الحمد ٹر سٹ اور المدینہ فاٶنڈیشن جیسے فلاحی اداروں کی آڑ میں بھاری بھرکم اثاثہ جات بنائے اور مبمئی حملوں سمیت بے شمار خونریز یلغاروں میں بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے 2014 میں جماعت الدعوہ کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل کر کے اس پر مالیاتی پابندیاں عائد کیں۔ حافظ سعید، عبد الرحمان مکی سمیت جماعت الدعوہ کے بہت سے سرکردہ راہنما اس سے قبل بھی کئی بار گھروں میں نظر بند یا پابند سلاسل کیے گئے مگر ہر بار وقت نے یہ ثابت کیا کہ یہ سب کارروائیاں محض دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کی گئی تھیں۔

اس بار بظاہر تو خصوصی عدالت کی سزا بڑی سخت دکھائی دیتی ہے مگر کون جانتا ہے کہ یہ حربہ بھی فنانشل ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے آزمایا گیا ہو اور مطلب براری کے بعد سپریم کورٹ کے ذریعے اپنے قیمتی سٹریٹجیک اثاثوں کی حفاظت کا کام دل و جان سے جاری و ساری کر دیا جائے۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اگر انہوں نے اب سنجیدگی اور خلوص نیت سے مہذب دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو نہیں ڈھالا اور حسب سابق لا ابالی پن، طفلانہ و بچگانہ پالیساں جاری رکھیں تو خدانخواستہ ہم اپنے ایٹمی اثاثوں سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *