ویلنٹائن ڈئے اور مشرقی اقدار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

14 فروری کوویلنٹائن ڈئے دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں اس دن کے موقع پر خصوصی تعطیل کی جاتی ہے اور اس دن کو مکمل طور پر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لوگ یہ دن تجدید محبت کے طور پر مناتے ہیں اور ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں اور دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ صرف امریکہ میں کرسمس کے بعد ویلنٹائن ڈئے پر سب سے زیادہ کم و بیش 200 بلین کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے۔

ڈنمارک میں لوگ اس دن ایک دوسرے کو سفید پھول اور چاکلیٹ کے تحائف دیتے ہیں۔ جرمنی میں بھی ویلنٹائن ڈئے 14 فروری کوروایتی جوش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لڑکایا لڑکی جسے پسند کرتے ہیں اُس کو سرخ رنگ کے پھول دیتے ہیں۔ جاپان میں ویلنٹائن ڈئے کو (Whit Day) کہا جاتا ہے اور یہاں پر محبت کرنے والے ایک دوسرے کو چاکلیٹ کا تحفہ دیتے ہیں۔ کوریا میں بھی ویلنٹائن ڈئے اسی طریقے سے منایا جاتا ہے۔

اٹلی میں یہ موسم بہار کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ تہوار کھلے آسمان کے نیچے منعقد کیا جاتا ہے جہاں نوجوان اکٹھے ہو کر باغ سجاتے ہیں، موسیقی سنتے ہیں اور شاعری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح یہ دن اب پاکستان میں بھی منایا جانے لگا ہے اور پاکستان کی مارکیٹوں میں اس دن کی مناسبت سے کارڈ اور پھول بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈئے کی اگر تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ دن 269 ء سے ہر سال 14 فروری کو منایا جاتا ہے۔

ویلنٹائن ڈئے کے حوالہ سے مختلف ادوار میں مختلف کہانیاں پیش کی گئیں۔ قدیم روم میں ویلنٹائن ڈئے کا حوالہ ”LUPERCALIA“ کے تہوار کے طور پر آتا ہے۔ یہ سالانہ تہوار عام طور پر 15 فروری کو منایا جاتا تھا۔ پوپ جیلائس کے مطابق 496 ء میں عیسائی ایک تہوار منایا کرتے تھے جو بعد میں 14 فروری کو منایا جانے لگا اس تہوار کو بعد میں ویلنٹائن ڈئے کانام دے دیا گیا۔

ویلنٹائن ڈئے کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ ”ایس ٹی ویلنٹائن“ ایک پادری کا نام تھا۔ کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ویلنٹائن نام کے تین پادری گزرئے ہیں جن میں سے ایک روم میں دوسرا ٹرنی میں پادری تھا۔ جبکہ تیسرا ایس ٹی ویلنٹائن نامی پادری تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے اپنی زندگی کے آخری ایام افریقہ میں گزارئے تھے اور اُن تینوں پادریوں میں ایک حیرت انگیز اتفاق یہ ہے کہ اُن تینوں کو 14 فروری کو قتل کیا گیا۔

مگر سب سے زیادہ شہرت اور پذیرائی اس واقعہ کو ملی جس پر تحقیق کرنے والوں کا بھی اتفاق ہے کہ تیسری صدی میں روم میں ایک ایس ٹی ویلنٹائن نامی پادری گزرا ہے۔ اُن دنوں روم پر کلاڈیس نامی ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایس ٹی ویلنٹائن اُس بادشاہ کو اُس کی پالیسیوں کے سبب سخت ناپسند کرتا تھا۔ کیونکہ اُس بادشاہ نے ایک عجیب و غریب قانون نافذکیا تھا کہ جس کی وجہ سے پادری ایس ٹی ویلنٹائن اور وہاں کی عوام بھی بادشاہ سے نفرت کرنے لگے تھے۔

کلاڈیس بادشاہ جنگی جنون میں مبتلا تھا اور ملک کے اندر ایک بہت بڑی فوج بنانا چاہتا تھا اور اس کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بہت سے لوگ اپنا گھر بار، بیوی بچے اور خاندا ن کو چھوڑکر فوج میں جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ لہذا انہوں نے فوج میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اس پر بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور اُس نے اس کا عجیب و غریب حل یہ نکالا کہ نوجوانوں کی شادی پر پابندی عائد کر دی۔

نوجوانوں نے بادشاہ کے اس فیصلہ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے ٹھکرا دیا اور پادری ایس ٹی ویلنٹائن نے بھی اس فیصلہ کی بھر پور مخالفت کی۔ ایس ٹی ویلنٹائن کا موقف تھا کہ چونکہ وہ ایک پادری ہے اس لیے لوگوں کی شادیاں کرانا اُس کے مذہبی فرائض میں شامل ہے۔ اس لیے اس قانون کے ہونے کے باوجود اُس نے لوگوں کی شادیاں کروانے کی تقریبات جاری رکھیں۔ شادی کی یہ تقریب صرف تین افراد پر مشتمل ہوتی تھی جس میں پادری ایس ٹی ویلنٹائن کے علاوہ دولہا اور دلہن ہوتے تھے۔

شادی کی یہ خفیہ تقریب ویلنٹائن ایک کمرئے میں منعقد کرتا جس میں موم بتی روشن کی جاتی اور ویلنٹائن سرگوشی میں شادی کے کلمات ادا کرتا۔ لیکن ایک رات اُس کے یہ کلمات بادشاہ کے درباریوں نے سُن لیے اور اچانک چھاپہ مار کر ویلنٹائن کو گرفتار کر لیا۔ مگر گرفتاری سے قبل پادری ایس ٹی ویلنٹائن نے دولہا اور دلہن کو بھگا دیا۔ اس جرم کی پاداش میں ویلنٹائن کو موت کی سزا کا حکم سنا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ لیکن پادری نے موت کا غم کرنے کی بجائے اپنی اسیری کے یہ ایام انتہائی خوشی کے ساتھ بسر کیے۔

وہ اپنے مذہبی فرائض کو پورا کرنے کی وجہ سے مطمئن تھا۔ ایام اسیری کے دوران بہت سے نوجوان پادری سے ملنے کے لیے جیل آتے اور جیل کی سلاخوں سے اُس پر سرخ گلاب پھینکتے اور اس کے آٹو گراف لیتے۔ ان ملنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں سے ایک لڑکی جیل کے نگران کی بیٹی تھی۔ وہ اکثر وہاں آتی اور گھنٹوں پادری ویلنٹائن سے باتیں کرتی۔ کہتے ہیں کہ پادری کو اُس لڑکی سے محبت ہو گئی تھی۔ جس روز ایس ٹی ویلنٹائن کو پھانسی دی جانی تھی اُس دن پادری نے اُس لڑکی کے نام ایک خط لکھا جس میں اُس نے اُس کی دوستی اور وفاداری کا شکریہ ادا کیا اور خط کے آخر میں یہ جملہ لکھا ”LOVE FROM، Yours Valentine“ اور یہ مختصر مگر جامع فقرہ اتنا پسند کیا گیا کہ آج تک محبت کے اظہا ر میں استعمال ہوتا ہے۔

اسلامی اقدار اور اسلامی معاشرت اس طرح کے تہواورں کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتی تا ہم یہ دن آہستہ آہستہ نوجوان نسل میں مقبول ہو رہا ہے اور لوگ اپنے چاہنے والوں کو سرخ گلاب، چاکلیٹ اور کارڈز دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سب سے محبت کا اور امن کا درس دیتا ہے تاہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے 14 فروری کو اس تہوار کو منانا کسی طور پر مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ صرف محض دو انسانوں کے درمیان محبت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک تو یہ کہ یہ پادری کے مذہبی فرائض کی بجا آوری کے طور پر منایا جانے والا دن ہے۔ دوسراہماری مشرقی اقدار، ہماری معاشرت اور ہمارا مذہب ہم کو کسی طور اس طرح کے تہوار کو منانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے بزرگوں سے اپنے والدین، اپنے ملک اور اپنے مذہب کے ساتھ محبت کا اظہار رب کائنات کے حضور سجدہ ریز ہو کر کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *