سوشل میڈیا قوانین اوراظہاررائے کی آزادی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے، جدید ٹیکنالوجی نے جس انداز سے ترقی کی ہے، ماضی میں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، اس جدید ٹیکنالوجی نے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھے افراد کو آمنے سامنے لا کر بٹھا دیاہے، اس کی بدولت ایک دوسرے کے کلچر تک رسائی بہت آسان ہو چکی ہے۔ موجودہ دورکے ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکنڈوں میں دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے، لیکن جس طرح ہر چیزکے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں، اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی دونوں قسم کے اثرات ہیں۔

سوشل میڈیا کا مقصد رابطوں کو فروغ دینا تھا، مگراس کا استعمال کرنے والوں نے حقیقی مقاصد کو نظر اندازکرنا شروع کر دیاہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی خرابیوں نے فروغ پایا اور ایسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے اور باہمی انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کے لئے، بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، تصاویر اور خاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر یا افواہ تحقیق کے بغیر نشر کرنا عام سی بات ہے، نوجوان نسل کے ذہن ودماغ پرسوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہوچکا ہے، وہ اپنے کام اور پڑھائی کے اوقات بھی سوشل میڈیا پر صرف کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پرکسی قسم کی کوئی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص کو اچھی بری بات کہنے اور لکھنے کی آزادی حاصل ہے، اس لیے کوئی شخص بلاروک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پرکیچڑ اچھال سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر مخالفین کے خلاف پروپیگنڈے کی مکمل آزادی کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے معاشروں میں پاکستانی سماج بھی شامل ہے، جہاں ہر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات اس کے مثبت اثرات کے مقابلے میں زیادہ شدت سے فروغ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کا منفی استعمال دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے افراد فیس بک پر مخالف سیاست دانوں کے لئے انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

فیس بک سمیت بیشتر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اس طرح کی زبان استعمال کرنے اور اس نوعیت کی تصاویر اور وڈیوز اپ لوڈ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اس رجحان کے باعث نہ صرف فیس بک، بلکہ عملی زندگی میں بھی مختلف سیاسی و مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان کدورتیں اور دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں جس کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے، مگر خیال رہے کہ سوشل میڈیاکے منفی اثرات کے سد باب کے بہانے انفارمیشن بلیک آؤٹ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

یہ امرواضح ہے کہ اس وقت بہت سارے فتنے فساد سوشل میڈیا کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں، مخالفین پر کیچڑ اچھالنا ’فتنہ انگیز خبروں سے ٹارگٹ کرنا‘ سیاسی ’لسانی‘ مذہبی اور علاقائی تعصبات کو ہوا دینا معمول بن چکا ہے۔ اس کے برعکس مغربی ممالک کا جائزہ لیا جائے تو وہاں زیادہ تر سوشل میڈیا صرف سوشل ایکٹیوٹی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، وہاں مخالفین کو سوشل میڈیاکے ذریعے تعصب کا نشانہ بنانے کی گنجائش ہے نہ ہی کسی قسم کے ممنوعہ مواد اَپ لوڈکیا جاسکتا ہے، مگر وہاں بھی مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لیے اسی سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اُمت مسلمہ کے لیے توہین رسالت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، مسلم اُمہ اور بالخصوص پاکستانی عوام کسی طور پر بھی رسالت مآبؐ کی شان اقدس میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے، لیکن بعض دین بیزار عناصر اس حساس مسئلے کو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا کر جان بوجھ کر مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں، کچھ عرصہ قبل ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی۔ اسی طرح پاکستان میں بھی دین بیزار عناصر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں۔

پاکستانی قوانین کے تحت جب ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو پوری دنیا میں لادین قوتیں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیتی ہیں، اس لئے اگر سوشل میڈیا کو ریگولیٹری کر دیا جاتا ہے تو نہ صرف ایسے مسائل سے بچا جا سکتا ہے، بلکہ معاشرے میں پھیلی بے راہ روی پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے گا۔ عالمی طاقتیں اپنے مفاد کے پیش نظر تو قوانین بنا لیتی ہیں، لیکن جب مسلمانوں کی باری آتی ہے تو خاموش ہو جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہولو کاسٹ بارے آج بھی دنیا میں کچھ تحریر کیا جا سکتا نہ ہی اس کی تصاویر اپ لوڈ کی جا سکتی ہیں، مگر مسلمانوں کے خلاف ا ٓزادی ٔاظہار کیے نام پر زہر اگلنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، عالمی دنیا کے قول فعل کا تزاد منفی معاشرتی تقسیم کا باعث بن رہا ہے جس پر غور وفکر کے ساتھ منصفانہ طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پا کستان میں سوشل میڈیامثبت سے زیادہ منفی پروپیگنڈہ اور جھوٹی خبروں کے جدید آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، اسی پہلو کی جانب صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی نشاندہی کی ہے۔ صدر پا کستان کاسوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے غیر محتاط استعمال کی بابت تشویش کا اظہار کرنا اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ اربابِ حل و عقد میں بھی اس پلیٹ فارم کے منفی و بے دریغ استعمال کے حوالے سے فکر پائی جاتی ہے۔

اسی لیے حکومتی کابینہ نے سوشل میڈیا ریگولیٹری قوانین کی منظوری دینے میں عجلت کا مظاہرہ کیا ہے، سوشل میڈیا قوانین کے تحتیو ٹیوب ’فیس بک‘ ٹوئٹر ’ٹک ٹاک کے لئے اسلام آباد میں دفتر کھولنا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔ اگرسوشل میڈیا کمپنیوں نے قواعد پر عمل نہ کیا تو 50 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ حکومت نے قومی سلامتی‘ دہشت گردی ’انتہا پسندی‘ نفرت انگیز تقریر ’بدنامی اور جعلی خبروں سے متعلق آن لائن مواد کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے سٹیزن پروٹیکشن رولز 2020 ء کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کے 50 ملین سے زائد اکاؤنٹس موجود ہیں، جبکہ فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 30 ملین سے زائد ہے، انہیں لازمی طور پر ریگولیٹ کرنا ضروری تھا، لیکن ریگولیٹ قوانین آزادی اظہار کے طے کردہ قوانین کے منافی نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ صحت مند معاشرے کی تکمیل میں میڈیا کا بنیادی کردار بڑا ہی اہم ہے جو ادارہ جاتی خامیوں ’کمزوریوں اور سماجی برائیوں کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کر کے معاشرے میں لاقانونیت‘ من مانیوں ’اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسری سماجی برائیوں کے تدارک میں معاون بنتا ہے۔ اس لحاظ سے میڈیا کا کردار ایک آئینے سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں سب کو اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔

آزادی صحافت کے اسی تصورکی بنیاد پر سماجی برائیوں اور حکومتی ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے تدارک کے اقدامات کر کے معاشرے کو حقیقی معنوں میں برائیوں سے پاک کر کے فلاحی جمہوری معاشرے کے قالب میں ڈھالنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں میڈیا کو ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ آئین کی دفعہ 19 میں آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ پریس کی آزادی کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا ریگولیٹری قوانین کی منظوری سے جہاں منفی رجحان کی روک تھام کا مقصد واضح ہو تا ہے، وہاں یہ تاثر بھی اُبھرتا ہے کہ حکومت نے عوام کا انفارمیشن بلیک آؤٹ کیاجارہا ہے، کیو نکہ نیشنل میڈیا پہلے ہی قدغن کا شکار ہے، اب آزاد ئی اظہار کے طاقتور ذریعے سوشل میڈیا کوبھی منفی رجحان کا لیبل لگاکرمحکوم بنایا جارہا ہے۔

وہ افراد یاپا لیسی ساز ادارے جو آزاد ئی اظہار پر کسی سازشی سوچ کے ساتھ قدغن لگانا چاہتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی وآمر حکومت لاکھ کوشش کے باوجودآزادی ٔ اظہار پر قدغن لگانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ا س لیے اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے بجائے لوگوں کو اظہاررائے کے مواقع فراہم کرناہی معاشرے کی بقا کا ضامن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *