کیا حکومت بڑھتی مشکلات پر قابو پا سکے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل صبح اٹھتے ہی افراتفری والی خبریں ملتی ہیں۔ کبھی سٹاک مارکیٹ گرنے کی خبر تو کبھی حکومت جانے کی پیشین گوئیاں۔ قومی اسمبلی کے حالات دیکھیں تو حکومت کی جانب سے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی البتہ روز لڑائی جھگڑوں یا دھینگا مشتی کی خبریں ضرور سامنے آتی ہیں۔ حکومت کا انداز حکمرانی ایسا ہے کہ کسی بھی مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ مسئلہ حل کرنے کی بجائے اس بحران کو بڑھانے میں زیادہ محنت نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس اٹھارہ ماہی حکومت کو صرف دو ہی کام مہارت سے آتے ہیں۔ ایک تو اپنی ہر نا اہلی کا الزام پچھلی حکومت پر ڈال کر خوب غلط بیانی کرنا اور دوسرا کام پرانے وعدوں کی تکمیل کے بغیر عوام کو مزید ’سبز اور سنہرے‘ خواب دکھانا۔

وزیراعظم کا بیان اخبار میں پڑھا کہ ہم ریکوڈک کے سونے سے قرضہ اتاریں گے۔ یعنی اگر سوئس بینکوں والے دو سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر نہ مارسکے تو کیا ہوا، ہمارے وزیراعظم ریکوڈک سونے سے قرض ادا کرنے کا نیا خواب دکھا رہے ہیں۔ وزیراعظم یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ ریکوڈک کا معاملہ ابھی تک عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے۔ جانے کب سابقہ کمپنی سے تصفیہ ہو اور کب ہم سونا حاصل کر پائیں۔ یہ بھی واضح نہیں جب یہ تصفیہ ہو اسوقت موجودہ حکومت ہو گی بھی یا نہیں مگر جھوٹے خواب دکھانے میں کیا حرج ہے۔ اسی طرح انڈوں، مرغیوں اور کٹوں کی باتیں صرف غیرسنجیدگی کا مظاہرہ تھیں۔ اس طرزعمل سے عوام میں بددلی پھیل رہی ہے اور حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت کی بڑھتی مشکلات میں سب سے اہم مہنگائی ہے لیکن مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے حالیہ امدادی پیکیج سمندر میں ایک قطرہ ہے اور اس سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ حکومت اس بحران کی پیمائش کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ مہنگائی کم کرنے کے لئے جو حقیقی اقدامات کرنے چاہیے تھے وہ نہیں ہو سکے۔ حکومت کی جانب سے عوام کے لئے سازگار ماحول بنائے بغیر وزیراعظم کی بات بے وزن محسوس ہو گی۔

آئے دن کے بحرانوں نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ اس حکومت سے کام نہیں ہو گا۔ عمران خان کی کابینہ میں اکثریت ان وزراء کی ہے جو پچھلی حکومتوں کے ساتھ بھی کام کر چکے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کسی کو بھی کچھ نہیں پتا کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ عمران خان سمیت پوری ٹیم انتہائی خراب پرفارمنس دکھا رہی ہے۔ ہر پاکستانی مہنگائی کے بھاری بھرکم وزن کے نیچے دبا ہوا ہے مگر حکومت طرزعمل مزید مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ایک طرف حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے تو دوسری طرف اپوزیشن اراکین کے ساتھ جوڑ توڑ میں بھی مصروف نظر آتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اراکین اسمبلی کو اپنے حلقہ بندیوں کے لئے لاکھوں روپے کے ترقیاتی فنڈز، ان کے تھانہ کچہری کے معاملات کے لئے مکمل تعاون، مقامی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے مکمل کوآرڈینیشن اور سہولت اور ایسی بہت سی چیزیں جو حکومت پیش کرسکتی ہیں وہ سب کی گئیں مگر حیران کن طور پر کوئی بھی رکن اسمبلی اپنی جماعت مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوا۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت گرنے کی باتیں شدومد سے ہو رہی ہیں تو شاید ڈوبتی حکومتی کشتی میں کوئی بھی سوار نہیں ہونا چاہتا۔

حکومت عوام کو بالکل بھی ریلیف نہیں دے رہی۔ حکومت کی ساری توجہ صرف سیاسی مخالفین پر کیسز بنانے پر ہے۔ حکومت عام آدمی کی رسائی صرف سوشل میڈیا تک ہے لیکن حکومت وہاں بھی بولنے کی آزادی دینے پر تیار نہیں۔ باوجود اس کے کہ وہ کمپنیاں پاکستان میں آپریٹ ہی نہیں کر رہیں لیکن حکومت نے تمام سوشل میڈیا کمپنیوں پر دس شرائط لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا حکومت ایسی پابندیوں سے سوشل میڈیا کو روک پائے گی تو جواب ہے کہ نہیں۔

ایسے بہت سے طریقے موجود ہیں کہ بلاک ویب سائٹ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے عروج پانے والی جماعت نجانے کیوں اپنی توانائی اصل کاموں کی بجائے ایسے کاموں پر لگا رہے ہے کہ جن سے صرف وقت ہی ضائع ہو گا۔ حکومت اس طرح کے بے سروپا اقدامات سے پریشان حال عوام کی زندگی مزید اجیرن کر رہی ہے اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ بڑھا رہی ہے۔

حکومت کی مسلم لیگی اراکین کو اپنی طرف جھکانے کی کوششوں کے باوجود لندن میں موجود نواز شریف نے اپنے کارڈز سینہ کے ساتھ لگائے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ لندن میں مقتدر حلقوں سے ملاقاتوں کی خبر بھی اڑاتے ہیں مگر ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو ملاقاتیں ہونی تھیں وہ ہو چکی ہیں، جو منصوبے بننے تھے وہ بن چکے، اب عملدرآمد کا وقت ہے۔ حکومت آہستہ آہستہ ڈھلوان راستے سے پسپائی کی جانب جا رہی ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ موجودہ حکومت بڑھتی مہنگائی اور کرپشن کی وجہ سے گھر جائے تاکہ کسی ڈیل کا تاثر نہ ہو مگر پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں پر ہر حکومت کی تبدیلی میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار واضح طور پر نظر آتا ہے۔ کل تک جو اینکرز حکومتی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے تھے، حیران کن طور پر آج وہی حکومتی ناکامیاں گنوا رہے ہیں۔ ان سب مشکلات پر قابو پانا ہی حکومت کا اصل امتحان ہے۔

قیاس آرائیاں ہیں کہ گزشتہ چند دنوں میں عمران خان اور مقتدر حلقوں میں ہوئی کچھ ملاقاتوں کے باعث حالات میں ٹھہراؤ نظر آ رہا ہے۔ اتحادی بھی دوبارہ حکومت کے گن گا رہے ہیں اور تحریک انصاف کا پارٹی فنڈنگ کیس بھی دوبارہ گہری نبیند سو گیا ہے۔ حکومتی وزراء کے لہجوں کی کڑواہٹ بھی مٹھاس میں بدل رہی ہے۔ معیشت کی بحالی کے لئے اپوزیشن کو اہم بتایا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ کب تک برداشت کر پائے گی۔ ہاتھ حکومت کے ساتھ ہو گا یا اپوزیشن کو اسی تنخواہ پر کام کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی بہار کی آمد آمد ہے۔ اگلے دو ماہ میں واضح ہو جائے گا کہ عوام کے لئے موسم کی یہ تبدیلی مشکلات میں کمی کا خوشگوار احساس لائے گی یا ہمارے مقتدر حلقوں کا تجربات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *