نواز شریف شدید فرسٹریشن کا شکار ہوگئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف شدید فرسٹریشن کا شکار بتائے جاتے ہیں، باخبر ذرائع کے مطابق ان کے مزاج میں قدرے چڑچڑا پن آگیا ہے، انہیں برطانیہ سمیت کسی غیر ملک سے تیمارداری کی غرض سے ملاقات کا وقت لینے کے لئے کوئی فون کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں ”سیاست پہ کوئی بات نہیں کرنا“ ذرائع کے مطابق پاکستان سمیت کہیں سے بھی موصول ہونے والی ٹیلی فون کال پر نواز شریف کال کرنے والے سے زور دے کر کہتے ہیں ”آپ میرے ساتھ سیاست پہ کوئی بات نہ کیجئے گا، پاکستان کی سیاست پر تو بالکل بھی بات نہیں کرنی، مجھے کوئی دلچسپی نہیں، میں بیمار ہوں، میں نے سیاست چھوڑ دی ہے“

۔ ۔ ”I am totally out of politics“

نواز شریف کی شدید فرسٹریشن کی وجہ شہباز شریف کی طرف سے کروائی گئیں تمام یقین دہانیوں کا پورا نہ ہونا بتایا جاتا ہے۔ ۔

ادھر نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز نے اپنا کاروبار سعودی عرب سے ترکی منتقل کرلیا ہے اور اپنی بزنس کمپنی ”HILL METALS Est۔ “ کا پورا سیٹ اپ ترکی شفٹ کرلیا ہے جس میں ترکی کی حکومت نے حسین نواز کو ہر طرح کی سہولت کاری اور مدد فراہم کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات خارج از امکان نہیں کہ ترک صدر اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام سے شریف فیملی کے مفاد میں اقدام کے لئے بات کریں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ترکی اور پاکستان کے شہریوں کو بیک وقت دونوں ملکوں کی شہریت دے دیے جانے کے معاہدے پر دستخط ہوجاتے ہیں تو تاجروں کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گی۔

ادھر شہباز شریف کے چھوٹے صاحبزادے سلیمان شہباز کی سعودی عرب میں ”قاف لیگ“ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کا امکان ہے جو عمرہ کی ادائیگی کی غرض سے پہلے سے ہی وہاں موجود ہیں، سلیمان شہباز لندن سے چند دیگر شخصیات کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وہ چوہدری شجاعت حسین کے لئے شریف فیملی کا اھم پیغام لے کر گئے ہیں کیونکہ شریف خاندان کی خواہش ہے کہ چوہدری شجاعت شریف فیملی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے کروانے کے لئے پل کا کردار ادا کریں۔

اس سے قبل سعودیہ میں شریف فیملی کے نمائندوں کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی توقع کی جارہی تھی مگر مولانا فضل الرحمن اس دوران ”نوُن لیگ“ کی اعلیٰ قیادت کے رویے سے مایوس ہو کر اس سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں جبکہ پاکستان میں شریف خاندان کے خلاف صورتحال میں تناؤ آجانے سے شریف برادران اب مقتدر قوتوں سے دوبارہ ”معاملہ“ کرنے کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چند روز قبل اعلیٰ ترین باوردی شخصیت نے بھی اسی روز وزیراعظم سے ملاقات کی تھی جس روز وزیراعظم کی خواہش پر حساس ادارے کے چیف سول لباس میں وزیراعظم سے ملے تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اھم شخصیات سے کہا کہ شریف فیملی کو جو ریلیف دینا تھا، دے چکا، اب مجھ پر مزید کسی رعایت کے لئے دباؤ نہ ڈالا جائے بلکہ شریف برادران اور ان کے حواریوں کے خلاف اب سخت اقدامات یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کے بنچ نے ایک روز قبل متاثرین کی درخواستوں پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس پر 3 ماہ میں فیصلہ سنانے کا جو حکم دیا ہے، اس کی روشنی میں مبصرین کا خیال ہے کہ اب کم از کم 3 ماہ تک تو شہبازشریف کی پاکستان واپسی کا امکان نہیں، بلکہ اس مقدمے کے فیصلے کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر راناثناءاُللہ کی پھر سے گرفتار کر لیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply