منگوُ رے منگُو نیا قانون آیا کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کہا کرتے تھے ہالینڈ کا وزیراعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے تو اِسے خیال آیا کہ جب نیا پاکستان بنے گا تو پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ بھلا باؤلے کو کسی نے کیوں نہ سمجھایا کہ میاں ہالینڈ میں تو سائیکل امیر غریب ہر کسی کی سواری ہے۔ پاکستان میں تو اب سائیکل نایاب ہے۔

ہاں امیروں کے بچوں کے پاس سائیکلیں ہوتی ہیں تو تم نے کیا پاکستان کے وزیراعظم کو امیروں کا بچہ سمجھا ہوا ہے؟ یہ کہو تو جواب آتا ہے ہمارے ہاں موٹرسائیکل جسے نئے دور کے لونڈے بایئک کہنے لگے ہیں عوامی سواری ہے۔ خود میرے پاس بھی تو موٹر سائیکل ہے۔ کوئی بتاتا کہ میاں تمہارے دادا کے نانا جنہیں لوگ حاجی بابا کہتے تھے موٹر سائیکل کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ فرماتے تھے یہ شیطانی چرخہ ہے تو ہو سکتا ہے وزیراعظم جو پیر پرست بھی واقع ہوئے ہیں نے کہیں سے اُن کا قولِ مبارک سُن لیا ہو۔ سو ”شیطانی چرخے“ سے دور رہتے ہوں۔

پھر یہ دوبارہ تلملا اُٹھا کہ ترکی کے عزت ماب صدر کے آنے پر سارا ریڈ زون کاہے کو بند کر دیا۔ اصل دکھ تو شاید یہ ہو کہ چکر کاٹ کر آنا پڑا اور موٹر سائیکل کے پٹرول کا خرچہ بڑھا۔ پٹرول تو ویسے بھی اِس کا دل جلاتا ہے کہ وزیراعظم جب وزیراعظم نہیں تھے تو ٹیکسز کا حِساب لگا کر بتایا کرتے تھے کہ پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ کرپٹ حکمرانوں کے لگائے یہ ٹیکس ہیں۔ ہو سکتا ہے وزیراعظم کو بھی اب اِس کی طرح حساب پسند نہ رہا ہو جو اب حساب نہیں رکھتے۔

بات پٹرول کے خرچے کی ہی ہو گی مگر اِسے تو لگا کہ یہ جمہور کی توہین ہے کہ اُنہیں کہیں گزرنے یا جانے سے وی آئی پیز کی امد کی وجہ سے روکا جائے۔ یعنی یہ ”بچہ جمہورا“ ہی رہا اور آج تک جمہوریت پر یقین کیے بیٹھا ہے۔ حالانکہ عزت ماب ترکی کے صدر آئے ہیں تو ضرور کچھ دے کے ہی جائیں گے۔ اِس لیے یہ جو خود کو اور جمہور کو اِس ملک کا مالک سمجھے بیٹھے ہو تو اِس میں تمہارا نقصان ہی ہے۔

پھر اِسے تو تب بھی غصہ آیا جب اِس نے اسلام آباد کی ایک مسجد کی قریبی سڑک کو بند دیکھا۔ سوچا ہو گا کہ یہ تو خدا کا گھر اور پھر حکومتی ادارے کے تحت چلنے والی مسجد ہے کوئی غریب کا پلاٹ تو نہیں جس پر جب چاہے کوئی قبضہ کر لے۔ ریاست کی رِٹ قائم رکھنے کے بارے میں تو اِس نے بہت سُنا ہے۔ یہ بھی سُنا ہے کہ ریاست کے چند بگڑے بچوں نے جب حقوق کے نام پر تحریک چلائی تھی تو دھر لیے گئے تھے۔

سوشل میڈیا کے ”دانشور“ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں۔ جیسے وہ ٹوپیاں افغانستان سے آئی ہیں جو یہ لوگ پہنتے ہیں۔ جانے افغانستان نے اِتنا کپڑا کہاں سے منگوایا ہو گا۔ سُونگھ کر دیکھنا چاہیے تھا کہ کہیں اِن ٹوپیوں میں سے بھی پٹ سن کی بُو نہ آ رہی ہو جیسے ایک زمانے میں مجیب کو اسلام آباد کی سڑکوں سے آتی تھی۔ ہاں مولوی کی ٹوپی کا نہیں پتہ کہ کہاں سے آئی ہے۔

اِس ٹوپی میں کوئی تو کمال ہے ورنہ ریاست کو اگر اپنی رِٹ کی چیلنج کرنے کا شک بھی ہو جائے تو عوامی ورکر پارٹی کے پڑھے لکھے صدر کو بھی تحویل میں لے کر مقدمہ درج کرا دیتی ہے۔ شاید پچھلی دفعہ کے تلخ تجربے کی وجہ سے محتاط ہیں کہ رِٹ تو قائم ہو گئی تھی مگر مظلومیت کا ناٹک کرنے والے فسادیوں نے ملک بھر میں خُون کی ہولی شروع کروا دی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں اور عوام کی قربانیوں کے بعد خدا خدا کر کے تو ملک میں امن ہوا یے۔ یہ سوچ کر یہ بھی ریاست کی احتیاط سے متفق ہو جاتا ہے۔

بھلے سب باتوں کے جواز ہوں گے مگر یہ تو نیا پاکستان ہے یہاں کچھ تو بدلنا چاہیے تھا۔ یہ سوچتے ہوئے شاید اِسے منٹو کا وہ افسانہ یاد نہیں ہوگا جس کا نام تھا ”نیا قانون“۔ اگر یاد ہوتا تو کبھی نئے پاکستان سے ایسی امیدیں نہ باندھتا مگر کیا کرے یہ رہا نا منگو کا منگو۔ کل گورے صاحب کا غلام تھا تو خاکم بدہن، گستاخی معاف، جان کی امان پاؤں تو عرض کروں، آج کالے صاحب کا غلام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *