زیرِ آسماں : لکھت اور لکھاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمگیریت کے خروش میں، مقامیت سے انحراف کے اس زمانے میں اگر کوئی اپنی مٹی سے جڑے رومانوں کی بات کرے، اپنی ثقافت کے اجلے رنگوں کو یاد کرے، اپنی تاریخ کے روشن حوالوں اور کرداروں اور قصوں کی کھوج کرے، اپنے آس پاس کی زندگی کے تابندہ نقش ابھارے، اپنے گزرے ہوئے اچھے کل سے وابستہ یادوں کو دُہرائے اور اپنے گھمبیر آج میں سے روشنی کے نشان ڈھونڈ نکالے اور لکھے اور بار بار لکھے تو یقینا حیرت ہوتی ہے۔ اور یہ حیرت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب پتہ چلے کہ شخص مذکور کوئی قدیمی وضع کا منجمد خیال آدمی نہیں بلکہ جدید اور روشن خیال آدمی ہے۔

محمد حسن عسکری اور احسن فاروقی کی روایت کا آدمی؛ کہ جس کی ساری زندگی انگریزی زبان و ادبیات کی سیاحی میں گزری ہے، جس نے سماجی فلسفوں اور علوم تاریخ و تہذیب کو ازبر کر رکھا ہے، جو ممتاز ماہر تعلیم بھی ہے اور عصری دانش کا رمز آشنا بھی۔ جو استاد بھی رہا ہے، استادوں کا نگران بھی اور ایک عظیم جامعہ کا وائس چانسلر بھی، جس نے ملک و بیرون ملک پڑھا بھی ہے اور پڑھایا بھی، جو پچھلی کئی دہائیوں سے مقتدر علمی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی سلسلہ ہائے قیل و قال کا بنیادی کردار بھی رہا ہے اور عینی شاہد و نقاد بھی۔

پس حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسے دور میں جب سیاست کی غلام گردشوں میں گھومتی ادھوری خبریت اور عالمی بازاروں سے مستعار لی ہوئی بے رس جدیدیت ہمارے لکھاریوں کا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہے، یہ مرد باکمال اپنی شناخت کے دیسی حوالوں پر مصر ہے اور ان کو ابھارنے اور نمایاں کرنے میں ذرا بھی متامل نہیں۔ اس نے جرات کے ساتھ لکھا ہے، فخر سے اپنے لوکیل میں اترا ہے اور ایک دیوانہ وار سرشاری کے ساتھ بتایا ہے کہ خوشی اور سکون یہیں کہیں ہمارے آس پاس ہی ہے، روشنی اور نور کی کرنیں ہمارے کچھ جانے پہچانے راستوں میں ہماری منتظر ہیں، خواب اور رومان کا سفر دراصل اپنی جڑوں کی تلاش کا سفر ہے، امید اور یقین ہماری اپنی زمین اور مٹی کے رنگ رس کی کہانی ہے، علم و اخلاق اور جرات و غیرت ہمارے اپنے اسلاف کے نورانی ہیولے ہیں اور زندگی میں کچھ پانے کچھ کر دکھانے کو درکار طاقت دراصل ہمارے قرب و جوار کی طاقت ہے کہ جسے اکثر نادانی میں ہم بھول جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی صاحب کے کالم پڑھتے ہوئے حیرت کے اس فوری احساس کے ساتھ لکھت اپنی طرف کھینچتی ہے اور نکتہ نکتہ محویت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

یہ محویت کیا ہے؟ کیسے اترتی ہے، کیوں کر گھیر کرتی ہے اور لکھاری ایسا کیا اٹکل اپناتا ہے کہ پڑھنے والا مزاحمت کیے بغیر ڈھیر ہو جانا قبول کر لیتا ہے۔ افسانوی لکھت میں تو کہہ سکتے ہیں کہ کہانی پن اور اساطیر اور ڈرامائی بنت کا جادو چلا ہے اور شاعری میں شاعرانہ وسیلوں پر بات آتی ہے لیکن کالم جیسی سپاٹ صنف میں یہ کوملتا کیوں کر اترتی ہے یہ شاہد صدیقی صاحب کو خوب باور ہوا ہے۔ بات کہاں سے شروع کرنی ہے، کتنی کہنی اور کتنی بچا رکھنی ہے، بات کے اندر بات کیسے شامل کرنی، کب شامل کرنی ہے، کب گریز کا پتہ پھینک کر نئی جہت کی طرف مڑنا ہے اور کتنا دور چل کر لوٹنا یا آگے بڑھنا ہے ؛ یہ سب کچھ کسی ماہر پروگرامر کی طرح وہ خوب جانتے ہیں۔ اور ایسے میں پڑھنے والے پر کم ہی کھلتا ہے کہ لکھاری نے اسے گھیر لیا ہے۔ پس محویت کے دائرے کھنچتے چلے جاتے ہیں اور یہیں وہ مرحلہ بھی آغاز ہو جاتا ہے کہ لکھاری اپنے من چاہے غلبے کے ساتھ قاری کو جذبے و احساس کی شدید لہروں کی طرف دھکیل لاتا ہے۔ خوشی، غمی، جوش، شکستگی، بھولپن، وارفتگی، اداسی

اور یقین، امید، شکوہ اور وقار کی ہزار رنگ کیفیتیں پے در پے وارد ہوتی اپنا اثر دکھاتی چلی جاتی ہیں۔ یہیں کہیں وہ چاشنی کہ جس کی بدولت قاری، لکھت کی بھول بھلیوں میں کھویا ہوا اور حد درجہ محو رہ کر بھی تھکتا نہیں۔

یہ چاشنی کیا ہے؟ کدھر سے نزول کرتی کن زاویوں اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ لکھت کوئی سی بھی ہو، کیسی ہی تحیر آمیز و اسرار بھری، کیسی ہی دلچسپ و رومان پرور، لکھاری اسے خود پر طاری کیے بغیر لکھے تو ممکن ہے حیران و محو تو کرے مگر چاشنی سے عاری ہی رہے گی؛ بے رس، کھردری، کم ذائقہ سی، تھوڑی سی پڑھت کے بعد تھکن اتارتی ہوئی۔ پس یہ واضح ہے کہ چاشنی موضوع و تکنیک کے سوا کسی اور ہنر سے جڑی ہے اور وہ ہنر بہت قریب سے لکھاری کی شخصیت میں پیوست ہے۔

اسلوب اور شخصیت کے تانے بانے محض لفظوں کے برتنے کے میکانکی عمل کی بنا پر نہیں لکھت کے طاری ہونے اور بیتنے کی بنیاد پر اپنا مفہوم رکھتے ہیں اور اگر یہی مفہوم سامنے رکھ کر بات کی جائے تو شاہدصدیقی صاحب کی لکھت ان کی شخصیت کے سیاق میں زندگی بھری اور تروتازہ نظر آتی ہے۔ لفظوں لفظ یہ تازگی حاوی و طاری ہوتی جملوں اترتی اور لکھت میں وہ جادوئی رنگ رس بھر دیتی ہے کہ قاری پڑھتا چلا جاتا ہے، تھکتا نہیں۔ یہ چاشنی ہے، شخصیت کے نہاں خانوں سے جوش کرتی، لکھت میں برتے ہوئے لفظوں اور لفظ و معنی کی نو بہ نو ساختوں میں روح بن کر اتری ہوئی، جدا و ممتاز۔

کالم نگاری عام طور عجلت کی اسیر سمجھی جاتی ہے۔ روا روی میں جاری موضوعات نپٹائے جاتے ہیں اور زیادہ تر خبر اساس جائزے اور تجزیے ہی بار پاتے ہیں۔ اقتدار کی غلام گردشوں کی سرگوشیاں، قیاس اور اندازے اور واہمے کالموں میں روز کے روز لپیٹے، پھیلائے جاتے ہیں اور ہر بیتتے دن کے ساتھ لکھت اور لکھاری پلٹیاں کھاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ان باوقار لکھاریوں کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے جو کالم نگاری کو پیشے کو طور پر نہیں بلکہ قومی فریضے کے طور اختیار کرتے، نہایت سنجیدگی، تفکر و تدبر اور بھرپور ذمے داری سے نبھاتے ہیں۔

اس میں بھی خوب و خوب تر کی تمیز بہرحال موجود ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی خوب تر کے زمرے کے سرخیل کالم نگار ہیں اور یہ کہنا بجا و برحق ہے کہ ان کے ہاں انتخاب موضوع و بنت و اسلوب کا جو طاقتور قرینہ اور ابلاغ لفظ و معنی کا جو منفرد سلیقہ بہم پہنچا ہے وہ معاصر کالم نگاری کی روایت میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ زیرِ آسماں کے ٹائٹل کے ساتھ ان کے کالم بلاشبہ آسمان، زیر آسمان ہیں۔ اپنے ٹائٹل کی طرح وسیع و بسیط، بے پناہ حیرتوں بھرے، دلکش و تروتازہ و تابناک۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شفیق انجم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply