مقصُود گل: جدائی کے پانچ برس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اور پتہ ہی نہ چلا۔ پانچ برس بِیت گئے۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ جب ”خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم، بچھڑ گیا تیری صُورت بہار کا موسم“۔ کہ جب سندھی اور اردو کے معرُوف شاعر و ادیب، عالم و دانشور، کالم نویس و افسانہ نگار، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے گیت نگار و اسکرپٹ رائٹر، بچّوں کے ادیب اور حضرت سچل سرمستؒ کے شارح اور مترجم، جنابِ مقصُود گل ہم سے اچانک بچھڑے اور علم و ادب کو اپنی بیش بہا نگارشات کا خزانہ دے کر، عدم کے دیس روانہ ہوئے اور ”محبتوں کے عالمی دن“ پر 14 فروری 2015 ء کو محبّتیں بانٹنے والے اعلیٰ انسانی اوصاف سے مُزیّن یہ انسان اور منفرد قلمکار اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

دنیا کے مختلف خطوں کی تاریخ کی تعمیر میں جہاں افراد، تحریکوں اور اداروں کا کردار کار فرما رہا ہے، وہیں پر مختلف سیاسی و ادبی خدمات انجام دینے والے خانوادے بھی اپنی خدمات سے تاریخ کی طرز میں تبدیلی میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس ملک کی ادبی تاریخ کا ذکر آئے گا، تو یہاں کے مختلف خطّوں میں بولی جانے والی مختلف زبانوں میں ادبی خدمات انجام دینے والے افراد اور کرداروں کا ذکر الگ الگ آئے گا، کیونکہ ادب کا تعلق براہِ راست زبانوں سے ہوتا ہے۔

پاکستان میں بولی جانے والی تمام تر زبانوں میں سے ہر ایک کی عُمر الگ الگ ہے اور یہاں کی قدیم ترین زبانوں میں سے سندھی سرِ فہرست ہے، جو پاکستان یا ایشیا ہی کی نہیں، بلکہ دُنیا کی معمّر ترین زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ سندھی زبان و ادب میں نمایاں خدمات انجام دینے والے خاندانوں میں سے ضلع لاڑکانے کے تعلقہ رتودیرو میں صدیوں سے مقیم قاضی خاندان کا نام لیے بغیر سندھی ادب کی تاریخ ادھُوری سمجھی جائے گی۔ اس خاندان میں معروف شاعر اور تعلیمدان، قاضی عبدالحیّ ”قائل“ اور اُن کے والد، قاضی عبدالحق ”عبد“، جو سندھی کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کے بھی قادرالکلام شاعر گزرے ہیں، ایسے قلمکار تھے، جن کا حوالہ اس خانوادے سے متعلق ماضی قریب کا سب سے بھرپور حوالہ ہے۔

قاضی عبدالحیّ ”قائل“ کے چاروں بیٹے فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ملک کی اہم شخصیات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جہاں اُن کے سب سے بڑے صاحبزادے قاضی خضر حیات نے فنِ مصوّری میں دُنیا بھر میں اپنا نام کمایا اور سب سے چھوٹے صاحبزادے قاضی منظر حیات، جو بہ یک وقت شاعر اور مصّور کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، کا شمار اس خانوادے کی ادبی و ثقافتی خدمت کے تسلسل کے طور پر بجا طور پر کیا جا سکتا ہے، وہیں قاضی ”قائل“ کے حال ہی میں بچھڑ جانے والے دو بیٹوں کا ذکر، فخر کے ساتھ ساتھ اس غم کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے، کہ وہ دونوں بہت جلد ہمیں چھوڑ کرہمیشہ کے لئے کُوچ کر گئے۔

4 دسمبر 2014 ء کو جہاں ملک کے معروف مصّور قاضی اختر حیات کا انتقال ہوا (جو قاضی عبدالحیّ ”قائل“ کے تیسرے صاحبزادے تھے ) تو اُن کی وفات کے ٹھیک 70 دن بعد اُن کے بڑے بھائی، قاضی صاحب کے دوسرے صاحبزادے اور سندھ کے معروف اُردو اور سندھی شاعر، عالم اور دانشور قاضی مقصود گل، گلشنِ ادب اور اپنے بے شمار پیار کرنے والوں کو چھوڑکر چلے گئے اور اپنے خالق سے جا ملے۔ اُن کی وفات سے سندھی ہی نہیں بلکہ اُردو ادب کے قاری کو جو کمی محسوس ہوگی، اُس کا احساس یقیناً آنے والے برسوں میں زیادہ شدت سے ہوگا۔

قاضی مقصود گُل، 15 اپریل 1950 ء کو اپنے آبائی شہر، رتودیرو میں پیدا ہوئے۔ اپنے بھائیوں کی طرز پر اُن کا گھریلو نام ”قاضی مقصود حیات“ ہی رکھا گیا، مگر 1975 ء میں ادب کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد اُنہوں نے ”گل“ تخلص اپنا کر اپنی پہچان مقصود گل کے نام سے بنا لی۔ تعلیمی لحاظ سے اُنہوں نے اقتصادیات اور سندھی ادب میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ روزگار کے لحاظ سے وہ 1966 ء سے لے کر 1969 ء تک محکمہء آبپاشی میں فون کلرک رہے۔

1969 ء سے لے کر 1974 ء تک ڈرائنگ ٹیچر کی حیثیت سے سیتا روڈ، دادُو اور لاڑکانہ ضلع کے مختلف اسکولوں میں اپنی تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں اُنہوں نے 1974 ء میں نئی قائم شدہ لاڑکانہ شوگر مل میں ”تربیتی افسر“ کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ آگے چل کر ترقی پا کر وہ اسٹورز ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ مینیجر اور بعد میں ڈپٹی مینیجر بنے۔ 1993 ء میں لاڑکانہ شوگر مل سے مستعفی ہو کر ایک انشورنس کمپنی میں 1993 ء سے 1995 ء تک اپنی خدمات انجام دے کر، 1995 ء میں والدِ محترم کی تعلیمی خدمات کو جاری رکھنے کی غرض سے رتودیرو میں عبدالحیّ قاضی ماڈل اسکول کی بنیاد رکھی۔ 10 اپریل 1995 ء کو قائم ہونے والا یہ اسکول آج تک اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہا ہے، جسے اس برس پچیس سالہ خدمات کا عرصہ مکمّل ہو رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس اسکول کے مزید متعدد کیمپس لاڑکانے میں بھی کُھل چُکے ہیں، جو سینکڑوں طلبہ و طالبات میں علم کا نور پھیلا رہے ہیں۔

گو کہ مقصود گل بچپن ہی سے گھر میں علمی و ادبی ماحول سے مانُوس تھے اور لکھنے پڑھنے کا بے ضابطہ آغاز تو پہلے ہی کر چُکے تھے، مگر اُنہوں نے 1975 ء میں با ضابطہ طور پر ادب کی دُنیا میں قدم رکھا۔ اُن کے شاعری کے اوّلین استاد تو اُن کے والدِ گرامی، قاضی عبدالحیُّ ”قائل“ ہی تھے، بعد ازاں اُنہوں نے سندھ کے قدآور شاعر اور عالم، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ’حامی‘ کی شاگردی میں آ کر علمِ عروض اور شاعری کے دیگر داؤ پیچ سیکھے۔ اُردو شاعری کے حوالے سے وہ پروفیسر محمُود شرف صدیقی کو اپنا اُستاد مانتے تھے۔

مقصود گُل نے سندھی اور اُردو ادب میں ایک مستند شاعر، نثر نویس، دانشور، افسانہ نگار، کالم نویس، بچّوں کے قلمکار، مترجم، حضرت سچل سرمستؒ کے شارح اورمترجم کی حیثیت سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی کتابیں تصنیف کیں، جن میں سے 10 کتب اُن کے جیتے جی شائع ہوئیں اور اس سے بھی کہیں زیادہ کام وہ غیر شایع شدہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ اُن کی پہلی کتاب ”وِکھریل موتی“ کے نام سے 1983 ء میں شایع ہوئی، جس میں اُنہوں نے ڈاکٹر عطا محمد ’حامی‘ کے تحقیقی مقالے مرتب کیے تھے، جبکہ اُن کی آخری کتاب 2014 ء کے اواخر میں ”اکھڑیُوں نیل کنول“ کے عنوان سے سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے شایع کی گئی۔

اُن کی دیگر شایع شُدھ کتب میں ”زندگی ڈے موٹ“، ”کِرنا کِرنا“، ”رت بھنا رابیل“، ”اندر رُوح رہیام“، ”ہٹیھِلی ہرنی“، ”عشق سمندر“، ”رتودیرو۔ مختصر تاریخ“ اور ”اے آہو چشم کدھر؟ “ شامل ہیں۔ ادبی حلقوں میں اُن کا سب سے معتبر کام حضرت سچل سرمستؒ کی فارسی مثنویات کا منظوم اُردو ترجمہ ہے، جو اُنہوں نے فارسی سے اُردو میں اس قدر عُمدگی سے کیا ہے، کہ ذرا گمان نہیں ہوتا، کہ یہ ترجمہ ہے، بلکہ یہ اُردو میں طبع زاد کلام محسوس ہوتا ہے۔ سچل کی ایک مثنوی ”گداز نامہ“ سے مقصود گُل کی ترجمہ شدہ یہ چند سطریں پڑھ کر دیکھیں :

جا بجا موجود ہے اللہ ایک

سربسر موجود ہے اللہ ایک

ہر جگہ پر ہے خُدا جلوہ نما

ظاہر و باطن اُسی کا ہے لقاء

نُور ہے اُس کا زمین و آسماں

ذکر ذاکر یوں کرو اپنا بیاں

کائنات اندر خدا کی ذات ہے

اور جو کچھ ہے صفاتِ ذات ہے

سندھی شاعری کی طرح مقصود گُل کی اردو شاعری بھی فن خواہ فکر کے لحاظ سے با کمال ہے۔ ایک غزل کے چند اشعار پڑھیے :

دُور تم بن یہ دل تڑپتا ہے

تم سے ملنے کی بات کرتا ہے

چاند سورج میں توُ، چمن میں توُ

رنگّ تیرا دھنک میں ڈھلتا ہے

دیکھ کر تیری بولتی آنکھیں

دل مر ا پھول بن کے کھلتا ہے

یا پھر اِس غزل میں اُن کی گوہر افشانی ملاحظہ کیجئے :

دُعائے نیم شب ہو تم

مری پہلی طلب ہو تم

تمہیں دیکھوں تو زندہ ہوں

کہ جینے کا سبب ہو تم

چمن کی دلفریبی اور

”گُل“ و شبنم کی چھب ہو تم

مقصود گُل کا نثر بھی کمال تھا۔ اُنہوں نے متعدد سندھی روزناموں کے لیے مسلسل حالاتِ حاضرہ و دیگر موضوعات پر کالم تحریر کیے۔ اُنہوں نے کچھ روزناموں کے لیے تقریباً ایک دہائی تک روزانہ قطعہ بھی تحریر کیا۔ اُن کے تحقیقی مقالے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، حضرت سچل سرمستؒ، سندھ کے دیگر کلاسیکی شاعروں اور دیگر موضوعات پر سائنسی انداز میں تحقیق کی اعلیٰ مثال ہیں۔

مقصود گُل کے کئی گیت پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان اور دیگر اداروں کے لیے ریکارڈ، نشر اور ریلیز ہوئے۔ مقصود گُل کو ”پی ٹی وی“ ایوارڈ، اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، سچل سرمست ایوارڈ، بین الاقوامی صوفی کانفرنس ایوارڈ، ڈاکٹر تنویر عباسی ایوارڈ، حامی ایوارڈ، مہران ایوارڈ اور اُستاد بخاری ایوارڈ سمیت صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح کے کئی ایوارڈز اور اسناد سے نوازا گیا، مگر وہ اپنا حقیقی ایوارڈ اُن اَنگنت لوگوں اور پڑھنے والوں کی محبّت کو تسلیم کرتے تھے، جنہوں نے اُن کی شاعری سے شعور اور فکر کے اجالوں کو اپنی راہیں روشن کرنے کے لیے استعمال کیا۔

مقصود گل 14 مئی 1976 ء کو گلنار بدر کے ساتھ رشتہء ازدواج میں منسلک ہوئے۔ اُن کی اولاد میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔

مقصود گُل 14 فروری 2015 ء کو بغیر کسی بظاہر تکلیف کے، حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث، روشنیوں کے شہر کراچی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اُنہیں اگلے دن 15 فروری 2015 ء کو سہ پہر سے پہلے اپنے آبائی قصبے رتودیرو میں اپنے چاہنے والوں کے ہجوم کے رُوبرُو سپردِ خاک کیا گیا۔

قلمکار اپنی قلمی کاوشوں کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، مگر مقصود گُل اور اُن کے والد کو یہ خوش قسمتی بھی حاصل ہے کہ اُن کا فنّی اور فکری تسلسل اُن کی اولاد کی بدولت بھی آگے بڑھتا رہے گا۔ اُن کا طبعی طور پر بچھڑنا اُن کی جانب سے کیے گئے ادبی کارناموں کا اختتام تو تھا، مگر اُن کے ادبی کارناموں پر تحقیق کا آغاز تھا۔ اُن کی زندگی میں اُن کی ادبی خدمات کے اعزاز میں جامعہ شاہ عبداللطیف خیرپور کے سندھی شعبے میں ایم۔ اے۔ کا مونو گراف لکھا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اُن کی وفات کے 40 دن کے اندر اُن کی یاد میں 520 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ”گل چھنو گرنار جو“ کا اجراء اور سندھ سطح پر مقصود گُل اکیڈمی کا قیام، ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے، جس اکیڈمی کے قیام کا مقصد، مقصود گل کے علمی اور قلمی کارناموں کی نشرو اشاعت ہے۔

قوی اُمید ہے کہ مقصود گُل کا قاری اُنہیں ایک طویل عرصے تک نہیں بھول پائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply