آخر یہ ماں باپ کیا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک لڑکا جو بیرون ملک کمائی کرنے گیا اور ماں باپ کی خوشنودی کے لیے مختلف تکالیف برداشت کرتا رہا اور پیسے بھیجتا رہا لیکن حالات سے تنگ آکر اس نے خود کشی کرلی۔ ایسا کیوں ہوا؟ سوال ہر عقل رکھنے والے شخص کو کرنا چاہیے اور بطور استاد میں یہ بات دکھ سے کہ رہا ہوں کہ مستقبل میں یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

ماں باپ بچے اپنی جنسی تسکین کے لیے پیدا کرتے ہیں اور مارکیٹ میں ایک پراڈکٹ لاتے ہیں جس سے انہوں نے پرافٹ کمانا ہوتا ہے۔ جب بھی پراڈکٹ لانچ کی جاتی ہے تو سب سے پہلے اس پہ انوسٹ کیا جاتا ہے اور پھر اس سے منافع کمایا جاتا ہے۔ ماں باپ بھی یہی کچھ کرتے ہیں اور کررہے ہیں اور اگر پراڈکٹ ناکام ہوجائے تو گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ یا پھر باتیں سنائی جاتی ہیں بچہ پیدا ہوتا ہیں شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم سکول میں رکھتا ہے۔ ماں نے تو پہلی درسگاہ کب سے بند کردی ہے تو بھاری بھر کم بستہ انتظار کررہا ہوتا ہے اور مشق شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی کمر کی تکالیف میں اضافی ہوجاتا ہے تو کبھی سکول میں مار مار کر مار دیا جاتا ہے۔ ہر ماں باپ پراڈکٹ کو کامیاب ڈاکٹر انجینئر بننا پسند کرتے ہیں تاکہ مارکیٹ میں ریٹ بڑھے لیکن پراڈکٹ پر کیا بیت رہی ہوتی ہے۔ یہ کوئی نہیں جانتا۔

سکول سے گھر آتا ہے تو اب ماں باپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام کی خواہش جاگتی ہے اور وہ مدرسے کی طرف بھیجتے ہیں جہاں پر ایک باریش داڈھی والے حضرت اپنے غصیلے لہجے کے ساتھ معصوم پھول کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور ایک معمولی غلطی پر سزا دیتے ہیں اور نا جانے کیا کیا سزائیں دیتے ہیں۔

شام میں ٹیوشن والے نے آکر دستک دے دینی ہے اور پھر ماں نے کچھ علمی باتیں سنانی ہیں اور پھر پراڈکٹ کو سلا دیا جانا ہے اور پراڈکٹ سرکل سے باہر سوچنا بھی چاہے تو ظلم کیا جاتا ہے۔ عجیب معاشرہ ہے جہاں پر کوئی شعوری ترقی ہونے کے بجائے ایک ریموٹ کنٹرول بچہ بنایا جانا زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ جس کی نا کوئی اپنی خواہش ہوتی ہے۔ نا کوئی پسندیدہ کھیل ہوتا ہے اور نا ہی کوئی پسندیدہ شو ہوتا ہے۔ بس جیسا ماں باپ چاہیں گے ویسا ہی ہوگا کیونکہ انہوں نے بچے کو پیدا ہی اپنے آپ کو خدا بنانے کے لیے کیا ہوتا ہے۔

کون کب کیا کرے گا یہ سب کچھ ماں باپ فیصلہ کرتے ہیں کتنے بجے اٹھے گا کتنے بجے سوئے گا کب کیا پہنے گا اور کیسے پہنے گا حتی کہ شادی کس سے کرے گا اور اس دن کیا پہنے گا، سب ماں باپ کی مرضی ہوگی اور پراڈکٹ کے اوپر بطور انویسٹر شادی میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اگر پراڈکٹ کامیاب ہے تو ڈیمانڈ زیادہ کی جاتی ہے جہیز کی صورت میں اور اگر پراڈکٹ ناکام ہے تو کوئی بھی متھے مار دی جاتی ہے۔ چاہے کتنی ہی عمر کیوں نا ہو اور کیسی بھی کیوں نا ہو۔

ٹیکنالوجی نے اپنا کردار گھروں میں ایک فرد کے طور پر بنالیا ہے لیکن کیا اس بنا پر جو فرد موجود ہیں ان کو اگنور کردیا جائے باپ شام کو کام سے آئے گا اور بیڈروم میں موبائل پر پب جی، کینڈی کرش، واٹس اپ، فیس بک پر اتنے مشغول ہو جاتے ہیں کہ بچے کے لیے وقت تہ ہی نہیں جاتا وہ بیچارہ ترستا قربت کو بڑا ہوتا ہے

انسانی زندگی اختلاف عمل پر قائم ہے۔ سارے انجنئیر نہیں بن سکتے، سارے ڈاکٹر نہیں بن سکتے اور سارے وکیل نہیں بن سکتے۔ ہر انسان کی زندگی کا ایک سرکل ہے جس میں رہ کر وہ زندگی گزارتا ہے۔ لیکن کیا ہر وقت کے طعنے آپ کے بچے کو مایوس تو نہیں کررہے فلاں بچہ انسپکٹر بن گیا تم کیوں نہیں بنے؟ فلاں کے پتر نے فلاں کامیابی حاصل کرلی تم۔ نے کیوں نہیں حاصل کی؟ یہ سوال اور یہ بحث تو اب ہر گھر کی اور عام ہے۔ لیکن کیا ماں باپ سوچتے ہیں کہ دنیا میں ہر شخص مختلف کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اس میں ٹیلنٹ ہے جس کام کا تو وہی کروایا جائے۔

حاصل کلام: محترم والدین پراڈکٹ کے بہتر مستقبل کے لیے آپ ضرور پریشان رہتے ہوں گے لیکن پراڈکٹ کا مستقبل تو خراب نہیں کررہے یہ بھی سوچیے گا اور پراڈکٹ چاہے بے جان ہے۔ لیکن رائے ضرور لے لیا کریں تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو الزام نہ دے سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *