قرض لے کر معیشت نہیں چلائی جا سکتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی مالیاتی ادارے مشکلات میں گھرے ہوئے ممالک کو اپنی شرائط پر قرض دیتے ہیں، ان شرائط کو عموماً کڑی شرائط کہا جاتا ہے۔ یہ شرائط بھی عمومی طور پر قرض کی واپسی اور سود کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے عائد کی جاتی ہیں۔ ان شرائط میں عموماً قرض خواہ ملک کی معیشت بہتر بنانے کی تجاویز بھی ہوتی ہیں۔ بہت سے ممالک قرض کا درست استعمال کرکے بحران سے نکل کر آئی ایم ایف یا دوسرے کسی بھی قرض دینے والے ادارے کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں۔

اس کی موجودہ دور میں ایک بڑی مثال ترکی کی ہے۔ طیب اردوان کی قیادت میں ترکی نے نہ صرف اپنے تمام قرض ادا کر دیے، بلکہ وہ ان ممالک کی کنشوریشم میں شامل ہو چکا ہے جو قرض دینے کے لئے آئی ایم ایف کے شریک کار ہیں، جبکہ پاکستان بری طرح قرضوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے۔ اب تک قرضوں کی قسط چکانے اور سود کی ادائیگی کے لئے بھی قرض لیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف حکومت قرضوں سے مکمل خلاصی کے لئے پرعزم ہے۔ ماضی میں مشرف دور میں آئی ایم ایف سے وزیر خزانہ شوکت عزیز کی بہترین معاشی پالیسیوں کے باعث کسی حد تک نجات حاصل کرنے میں کا میاب ہو گئی تھی، مگر اس کے بعد سے قرضوں کے حصول کا ایسانیا سلسلہ شروع ہواکہ اگلے دس سال میں حکومتوں نے آئی ایم ایف سمیت دیگر اداروں کے تیس ہزار ارب روپے کے قرض کے بوجھ تلے دبا دیاہے۔

عمران خان کے مطابق ان قرضوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی، لہٰذا حکومت نے ان قرضوں کے آڈٹ کے لئے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے۔ گزشتہ دس سال میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اقتدار میں رہیں ’انکی طرف سے ”قرض کمشن“ کی شدید مخالفت کی جارہی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قرض کا مصرف شفاف تھا۔ ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت پر کرپشن کے الزامات ہیں‘ ان کے لئے کمیشن میں قرضوں کی justification دے کر خود کو الزامات سے مبرا کرانے کا موقع موجود ہے۔

آئی ایم ایف کی نمائندہ کی طرف سے پاکستان میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی کا اعتراف عمران خان کی معاشی ٹیم کی مہارت اور صلاحیتوں کی تصدیق بھی ہے جو معروضی نامساعد حالات میں جب لوگ ٹیکس دینے پر تیار نہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی بہترین کارکردگی ہے۔ اگرحالات سازگار رہے تو موجودہ حکومتی معاشی ٹیم ملکی معیشت کو مضبوط خطوط پر استوار کرنے کی صلاحیت سے معمور ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں قرض سے معیشت کو مضبوط کرنے کی سوچ کارفرما رہی ہے۔ قرض کی ایسی برُی لت پڑی کہ آنیوالی حکومت نے اپنی پیشرو حکومت کا کسی اور میدان میں مقابلہ کیا یا نہیں کیا، قرض لینے میں ضرور پچھاڑ دیاہے۔ ہر دور حکومت میں کھلے دل سے نہ صرف قرض لیا گیا، بلکہ قرض کی قسط بھی قرض لے کر چکائی جاتی رہی اور پھر قرض کے لئے جو بھی در دیکھا اس پر دستک دینے سے گریز نہیں کیا گیا، آج انہی پالیسیوں کے باعث پاکستان ایک کھرب ڈالر کے قریب قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔

موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے رواں مالی سال کے دوران دس ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کی ہے، جس میں زیادہ رقم قرض پر سود کی تھی۔ حکومت کی جانب سے ایک طرف قرض اور سود کی ادائیگی کی گئی تو دوسری طرف مزید قرض بھی لیا گیا، جبکہ دوست ممالک کے معاشی پیکیجز اور تعاون اس کے علاوہ ہے۔ قرضوں سے معیشت کی مضبوطی کی حیثیت خواب سے زیادہ نہیں ہو سکتی اور پھر جب قرض جن مقاصد کے لئے لیا جائے اس پر استعمال نہ ہو، اس میں نقب بھی لگنے لگیں تو یہ معیشت کی مضبوطی کا خواب بھیانک بھی ہوجاتا ہے۔

موجودہ حکومت ملکی معیشت کی بربادی کے ذمہ دارگزشتہ حکمرانوں کو قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے حکومتی ٹیم کی نا اہلی سے تعبیر کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت نے انتخابی مہم کے دوران بھی یہی کچھ کہا تھا جسے عوام نے درست مان کر پی ٹی آئی پر اعتمادکیا کہ وہ معاشی بگاڑ کو سدھار لے گی۔ تحریک انصاف نے بھی اقتدار میں آتے ہی معیشت میں بہتری لانے کے لئے کمر کس لی، اس حوالے سے بہت سے مشکل فیصلے کیے گئے۔ حکومت عوام کی خوشحالی کا سونامی لانے کی دعویدار تھی، مگر خوشحالی کی بجائے مذیدمہنگائی کا سونامی آیا جس نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

اس مہنگائی کے طوفان اور عوامی مشکلات کا اعتراف حکومت خود بھی کررہی ہے۔ اس نے آئی ایم ایف کے دروازے پر بڑی سوچ بچار اور لمبی چوڑی جمع تفریق کے بعد دستک دی تھی اسے بھی قرض کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے اور معیشت کو مضبوط بنانے کا زعم تھا، مگر جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا، آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں سے خیر کی توقع کرنا بے سود ہے، کیونکہ ان ساہوکاروں کو اپنے سود سے غرض ہوتی ہے ’عوام کی تکلیف اور ریلیف سے کیا سروکار ہو سکتا ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا مطالبہ تو ٹیکس بڑھانے ’نئے ٹیکس لگانے اور ترقیاتی کاموں پر کٹ لگانے کا ہوتا ہے، اب بھی یہی کچھ کیا جارہا ہے۔ کمیٹی برائے خزانہ کی طرف سے آئی ایم ایف کے وفد سے سامنے عوامی مشکلات کا رونا رویا گیا‘ مہنگائی کی ہولناک صورتحال سے آگاہ کیا گیا، مگر ان کی سوئی ٹیکسوں میں چھوٹ سے چھٹکارے پر اٹکی رہی ہے۔ پی ایس ڈی پی 700 سے 600 ارب تک لانے کو کہا جارہا ہے، اس کے ساتھ معیشت کی مضبوطی کی فکرمندی بھی ظاہر کی گئی، عوام کا خون نچوڑ کر معیشت کی مضبوطی پاکستان کے عوام کی خیرخواہی کی عمدہ مثال ہے۔

اس پرستم ظریفی یہ ہے کہ حکمران عالمی مالیاتی اداروں کا طرز عمل جاننے کے باوجود بار بار انہی کے چنگل میں پھنسنے کو ترجیح دیتے ہیں، یہ جانتے بوجھتے کہ قرضوں سے معیشت کبھی مضبوط خطوط پر استوار نہیں ہو سکتی، اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا، دوسرے ممالک کی مثال ہمارے رویوں سے متضاد ہے، کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے محب الوطنی کی آڑ میں دونوں ہاتھوں سے قومی خزانے کو لوٹا ہے، وہ ملک میں آنے والی امدادی یا قرض کی رقم کو اپنے ماں، باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں، اس لیے موجودہ حکومت کوعالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے دائمی طور پر نکلنے کی سبیل کرنی چاہیے، کیونکہ قرض سے بحالی معیشت کی سوچ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

اس وقت مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ عوام حکومت کے مزید مشکل فیصلوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کی طرف سے معیشت کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے بہت دعوے کیے جارہے ہیں، جبکہ کچھ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستانی معیشت کی بحالی کا اعتراف کرتے ہیں۔ اگر واقعی معیشت میں بہتری آئی ہے تو اس کے ثمرات عام عوام تک منتقل ہونے چاہئیں، مخصوص طبقوں کے لئے سبسڈی سے زیادہ فرق نہیں پڑیگا، اگر سبسڈی دینی ہے تو پٹرولیم ’گیس اور بجلی پر بھی دی جائے اور ان کے نرخوں میں اضافے سے بہرصورت گریز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز سے جس طرح مزاحمت کی گئی، اسی طرح ٹیکسوں پر بھی غورو فکر کرنے کے ساتھ ساتھ آمدن بڑھانے کے ذرائع بھی تلاش کیے جانے چاہیے۔ حکومت کے لیے اداروں کی نجکاری بہتر حل نہیں، برتن بیچ کر گھر زیادہ دیر تک نہیں چلایا جا سکتا، بڑے اداروں کی جائیدادیں پڑی ہیں ’ان کا منافع استعمال کیا جانا چاہیے۔ ملک میں ادارہ جاتی کرپشن کا سدباب وقت کی اہم ضرورت ہے، ابھی تک نہ بجلی چوری رکی نہ ٹیکسوں کی فول پروف وصولی ممکن ہوئی ہے۔ کرپٹ مافیا کے سدباب کی زبانی کلامی باتیں بہت کی جاتی ہیں، مگر کرپٹ مافیا کی ناک میں نکیل ڈالنے کے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے، کرپٹ مافیا بدستور سرگرم ہے، جب تک ان ساری قباحتوں سے چھٹکارا نہیں پایا جائے گا، ملکی اصلاح احوال اور معیشت بہتر ہونا مشکل ہی نہیں نہ ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *