میاں محمد بخش: ایک حقیقت شناس شاعر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں محمد بخش رحمتہ کی تصنیف ً سیف الملوک ً کو پنجابی ادب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ آپ کی دوسری تصانیف کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے لیکن جو شہرت سیف الملوک کے حصے میں آئی وہ دوسری کتب کے حصے میں نہیں آئی۔ آپ ایک بلند پایہ اور صاحب طرز پنجابی شاعر ہونے کے علاوہ ایک با عمل صوفی بزرگ بھی تھے۔ آپ مارچ 1831 میں خانقاہ پیراشاہ غازی چک ٹھاکرہ میں پیدا ہوئے۔ یہ مقام موجودہ علاقہ کھڑی ضلع میرپور آزاد کشمیر میں واقع ہے۔

آپ کے پڑدادہ میاں دین محمد صاحب قبلہ پیر دمڑی والی سرکار کے پہلے سجادہ نشین تھے۔ محترم میاں شمس الدین آپ کے والد گرامی تھے جو ایک نابغہ روزگار عبادت گزار بزرگ تھے۔ ان کے تین صاحبزادگان میں میاں بہاول بخش، میاں محمدبخش اور میاں علی بخش تھے۔ حضرت میاں محمد بخش نے ساری عمر شادی نہیں کی اور تجرد میں زندگی گزاری اسی وجہ سے آپ اپنی موروثی جائداد سے دستبردار ہو گئے تھے۔ آپ کی پرورش بہت اچھے طریقے سے ہوئی۔

ابتدائی درس اپنے والد بزرگوار میاں شمس الدین سے حاصل کیا اور پھر اپنے بڑے بھائی میاں بہاول بخش کے ساتھ سمعوال کی علمی درسگاہ میں داخل ہوئے۔ سمعوال شریف اس وقت تعلیم کا گہوارہ تھا جہاں اس وقت دو سو سال قدیم مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم حافظ محمد علی رحمتہ سے حاصل کی۔ آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی میں پنجابی اور اردو کے علاوہ فارسی اور عربی زبان سیکھنے میں بہت محنت کی۔ اس وقت دین اور فقہ کی تعلیم کے لئے عربی اور فارسی جاننا بہت ضروری خیال کیا جاتا تھا۔

آپ کے اساتذہ اکرام میں حافظ نور محمد۔ حافظ غلام حسین۔ حافظ محمد علی اور حافظ ناصرمحمد تھے۔ دوران تعلیم آپ کے اساتذہ نے آپ کی شخصیت کو خوب نکھارا یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی تصنیفات میں اپنے اساتذہ کی مختلف مقامات پر دل کھول کر تعریف کی ہے۔ آپ روزانہ اپنے بڑے بھائی بہاول بخش کے ہمراہ پیدل سمعوال شریف پڑھنے کے لئے جاتے۔ حافظ ناصر محمد صاحب سمعوال شریف کے ایک بڑے کامل ولی بزرگ تھے۔ میاں صاحب دیگر علوم کے علاوہ مولانا جامی کی یوسف زلیخا کا سبق بھی پڑھتے تھے۔

آپ کے پڑھنے کا اندازبڑا ہی منفرد تھا اور یوسف زلیخا کی پر تاثیر نظم اپنی خوبصورت آواز میں بڑے پر تکلف انداز میں پڑھتے تھے۔ حافظ صاحب ہر روز مسجد میں تشریف لاتے اور میاں صاحب کا سبق سنا کرتے۔ جب آپ اپنی خوبصورت آواز میں ان کو سبق سناتے توحافظ صاحب پر محویت طاری ہو جاتی اور آپ زار زار روتے جاتے۔ ایک روز حافظ صاحب حسب معمول مسجد میں تشریف لائے اور آپ سے یوسف زلیخا سنانے کو کہا۔ آپ نے ان سے عرض کی کہ حضور میں آپ کو نظم ضرور سناؤں گا لیکن آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ میں جلد تعلیم مکمل کر لوں۔

حافظ صاحب نے کمال شفقت سے آپ کے لئے جلد حصول علم کے لئے دعا فرمائی۔ میاں صاحب کی شخصیت اور ان کے افکار و فن کو نکھارنے اور پختہ کرنے میں آپ کے بڑے بھائی میاں بہاول بخش کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ریاضت و عبادات، کشف و کرامات اور دیگر صفات صالحین کا نمونہ تھے۔ آپ کی زندگی سراسر درد و شوق۔ زہد و ریاضت۔ گریہ زاری۔ فصاحت۔ سخاوت۔ کشف باطنی۔ بلند خیالی اور بے نفسی کا بے مثال نمونہ تھی۔ آپ نے علم کے حصول کے لئے دور درازمقامات کا سفر بھی کیا اور اس وقت کے ولی کاملین سے ملاقاتیں کیں اور ان سے فیض حاصل کیا۔ پنجن تحصیل چڑہوئی کی ایک پہاڑی آپ کو چلہ کشی کے لئے پسند تھی اکثر آپ وہاں تشریف لے جاتے تو لمبے لمبے عرصہ کے لئے وہاں قیام کرتے ہوئے چلہ کشی اور ریاضت فرماتے۔ اس جگہ آپ سے منسوب بیٹھک اب بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ اولیا ء سے ملاقات کے لئے کشمیر کا دور دراز سفر بھی کیا۔

بزرگوں کا ادب و احترام بچپن سے آپ کا شیوا تھا۔ آپ جب بھی اپنے والد گرامی کے حضور پیش ہوتے تو ہمیشہ ان کے پاؤں کی طرف بیٹھتے۔ ایسے ہی کسی وقت میں آپ والد گرامی کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے پاؤں دبا رہے تھے۔ والد صاحب نے پیار سے پوچھا کہ محمد بخش کیا بات ہے، مجھے کچھ کہنا چاہ رہے ہو۔ آپ نے ان سے کہا کہ آپ مجھے سچا انسان اور فقیر بنا دیں۔ والد گرامی نے اس بات پر بیٹے کو اپنے سینہ مبارک سے لگایا اور دعا کی کہ اے اللہ تعالی میرے اس فرزند کو اپنے اپنے خاص بندوں کی صف میں کھڑا کر دے۔ یہ ان دعاؤں کا ہی اثر تھا جس نے میاں صاحب کو عہد شباب سے قبل ہی دنیاؤ مافہیا سے آزاد کر دیا۔ آپ کے کسی کام میں نفسانی خواہشات کا کوئی دخل نہیں تھا۔ آپ ایک حقیقی تارک دنیا تھے۔ دنیا داری کی شان وشوکت اور مال وزر کا آپ کی نگاہ میں کوئی قدر نہیں تھی۔

آپ ہر بزرگ سے بہت عزت و احترام سے با تعظیم ملاقات کیاکرتے خاص کر سادات کا بہت ادب کرتے۔ آپ کے ایک خدمت گزار ملک محمد جہلمی نے اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک سید زادے انسپکٹر پولیس نے آپ سے ملاقات کے بعد آپ کی رخصتی ہونے پر آپ کی محبت میں آپ کے جوتے سیدھے کر کے آپ کے پاؤں کے سامنے رکھے تو آپ نے وہ جوتے استعمال نہیں کیے بلکہ برہنہ پا ایک لمبا سفر طے کیا۔ کوئی سید زادہ آپ سے ملاقات کے لئے آتا تو آپ ہمیشہ ان کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے بلکہ بیماری کے باعث ضعف کے باوجود آپ ادب ترک نہ کرتے۔ آپ نے تمام عمر قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے نہ بیٹھے۔ کبھی بھی بغیر وضو کے قران مجید کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اپنے کشف کے بارے میں کبھی اظہار نہیں کیا۔ تمام عمر اپنی بزرگی کی نسبت کبھی ایک لفظ نہیں کہا وہ اپنے وجود کو ایک ارزل سے بھی کم درجہ دیا کرتے تھے۔

خشخش جنا قدر نہ میرا تے صاحب نوں وڈھیائیاں

میں گلیاں دا روڑا کوڑا، محل چڑھایا سائیاں

آپ عابد، زاہد اور اہل ریاضت تھے۔ دل میں درد اور شوق غالب اور عشق الہی کی آگ شعلہ زن تھی۔ ذات مبارک تمام کمالات انسانی کا مجموعہ تھی۔ جب آپ قلم کاغذ لے کر بیٹھتے تو مسلسل آمد کا سلسلہ جاری رہتا اور آپ سرعت سے اشعار لکھتے جاتے۔ آپ پیادہ سفرمیں بہت تیز رفتار تھے۔ باریک سے باریک کنایہ کے سمجھنے کا آپ کا فہم و ادراک نہایت تیز تھا۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ فقیر کو امیر کی صحبت مردہ دل کر دیتی ہے نفس گرسنگی اور تنہائی سے راہ راست پر آتا ہے۔ فقیر وہ ہے جس کو فقر سے انس ہو۔ اور فقر وہ ہے جس کی املاک نہ ہو۔ دل کی زندگی محبت سے ہے جس دل میں محبت کی آگ نہ ہو وہ دل زندہ نہیں ہے۔ انسان کا خاصہ محبت ہے اور جو محب نہیں ہے وہ انسان نہیں ہے۔

جس دل اندر عشق نہ رچیا کتے اوس تیں چنگے

خاوند دے گھر راکھی کردے صابر پکھے ننگے

عشقوں باہج ایمان کوہیا کہن ایمان سلامت

مر کے جیون صفت عشق دی دم دم روز قیامت

ملک محمد جہلمی نے آپ کی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ آپ نہایت سادگی پسند تھے۔ آپنی ذات کے لئے کسی آرائش کی پرواہ نہیں کی۔ آپ کو موسم سرما میں سرد پانی سے وضو کرتے دیکھ کر ایک صاحب نے اپنی مرضی سے ایک حمام جس میں غسل کے لئے پانی گرم ہو سکے امرتسر سے منگوا کر دربار شریف میں حاضر کیا۔ جب میاں صاحب نے اس کو دیکھا تو ناراضگی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا۔ کہ کیا مجھ کو ایسے سامان تکلف اور زیبائش و آسائش میسر نہیں آ سکتے ہیں۔ میں ایک فقیر ہوں اور فقیروں کے واسطے یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے۔ جس سامان کو تم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہو فقیر کی نگاہ میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ فقیری تو دور کی بات ہے لیکن عاجز کی نظرمیں خاک اور زر برابر ہیں اور حمام واپس کر دیا۔ آپ تکلف پسند نہیں تھے جو مل گیا پہن لیا۔

آپ نے اٹھارہ کتب تصنیف کیں لیکن سیف الملوک ان کی وجہ شہرت بنی۔ انہوں نے تنتیس سال کی عمر میں ایک ایسا شاہکار تصنیف کیاجو پنجابی ادب میں رہتی دنیا تک بے نظیر رہے گا۔ سیف الملوک میں 9249 اشعار ہیں اور ہر ایک شعر دانائی سے بھرپور ہے۔

انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کو اپنے سخن کا موضوع بنایا ہے جو آپ کو دوسرے پنجابی شعرا کے ہاں بہت ہی کم ملتا ہے۔ بہت شیریں گفتار اور صاحب فن تھے اور اہل فن کی خوب قدر کرتے تھے۔ آپ کے زہد اور تقوی اور چلہ و مراقبہ میں کسی کو ئی کلام نہیں ہے۔

بال چراغ عشق دا میرا روشن کر دے سیناں

دل دے دیوے دی روشنائی جاوے وچ زمیناں

جنوری 1907 آپ کا وصال ہوا اور آپ کی وصیت کے مطابق سمعوال شریف کے حافظ مطیع اللہ نے آپ کی نمار جنازہ پڑھائی اور آ پ کو پیر دمڑی والی سرکار کے مزار کے ساتھ دفن کیا گیا آپ کی نمار جنازہ میں ہزاروں افرادنے اشکبار آنکھوں کے ساتھ شرکت کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *