غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

151 برس بیت گئے، اُسے گئے۔ اس ڈیڑھ صدی میں ہم نے اس کے کلام سے روشنی کی راہداریاں کتنی ڈھونڈھیں اور ”فُٹّا“ اور باٹ لے کر ناپ تول کتنی کی کہ فلاں اس سے بڑا شاعر ہے یا فلاں۔ ”مِیر“ کا تغزل غالب سے بھرپور ہے، یا ”داغ“ کی اردو۔ ”مومن“ کی فصاحت کے نمبر ”اسد“ کی بلاغت سے زیادہ ہیں، یا شیخ ابراہیم ”ذوق“ کی فکری گہرائی ”نوشہ“ پر بھاری ہے۔ اس کھینچا تانی میں ہم نے غالب کی فکر کو سمجھنا تو دُور کی بات، اس سے ٹھیک سے ملاقات ہی نہیں کی، کیونکہ وہ ملے گا اپنے ہی اشعار کے ذریعے ہی، اور کوئی جگہ تو ایسی ہے نہیں، جہاں ان سے ملاقات کی سبیل ہو سکے۔

آپ اردُو کے کسی بھی طالب العلم سے غالب کے بارے میں دریافت کریں، تو آپ کو ان میں دو قسم کی آرا ملیں گی۔ بچّے آپ کو یہ کہتے ہوئے ملیں گے کے فلاں فلاں استاد کے بقول غالب، اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں، مگر فلاں فلاں استاد کے بقول ان سے فلاں فلاں شاعر اپنی ادبی قامت میں بہت بڑے ہیں۔ لہذا غالب کو فہم و فراست کے پیمانے سے ہٹ کر، رسمی اور شخصی ”ناپ تول“ کے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کا رواج ہمارے یہاں عام ہے، جس کا نقصان خود ہمیں ہے کہ ہم تاریک روّیوں سے، سُخن کے ایک عظیم مینارِ روشنی کی ضو سے محروم رہنے کی ٹھان چکے ہیں، تو یہ ہمارا اپنا ہی انتخاب ہے۔

بظاہر جیسے تھے، دراصل ویسے ہرگز نہ تھے۔ اور جیسے وہ دراصل تھے، بہت کم لوگ جان سکے۔ ان کے اپنے دور میں تو خیر! بہت ہی کم لوگوں نے انہیں جانا۔ ان کے عشّاق نے انہیں اس ڈیڑھ صدی میں انہیں دریافت کیا، اور ابھی تو انہیں دریافت کرنے کا ٹھیک سے آغاز بھی نہیں ہوا۔ آنے والے زمانے ان کی شعری خواہ ذاتی عظمت کے صحیح معنوں میں گُن گائیں گے اور ان کی ادبی رفعت کو جانیں گے۔ ہماری عامیانہ نگاہ تو بس ان کی بادہ نوشی سے شرُوع ہو کر ڈومنی کے آستانے کی دہلیز پر ان کے نقوشِ قدم تک، ان کے شہہ کا مصاحب ہونے سے لے کر بہادر شاہ ظفر کا وظیفہ خوار ہونے تک اور آدھی دہلی کا قرض خوار ہونے سے لے کر ان کے جُوّے میں پکڑے جانے تک جا کر رُک جاتی ہے، مگر کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتی کہ ”کاغذی پیرہن“ پہنے ”ِپیکرِ تصویر“ کیا تھے اور کیسے ہوا کرتے تھے، انہیں ”غیب“ سے کون کون سے مضامن خیال میں آتے ہیں، کس زُلف کو ”سَر“ کرنے کی وہ خواہش دل میں لیے پھرتے ہیں، اور ”زلف سر“ کرنا دراصل کن معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، ان کا کون سا ”مُدعا، عنقا“ (ہُما) کی مانند ”آگہی کے دامِ شُنیدن“ سے بچ کر اسے نظر نہ آتے ہوئے پُھرّ سے اڑ جاتا ہے اور وہ فقیروں کا بھیس بدل کر کون کون سے ”اہلِ کرم“ کا کیا کیا تماشا دیکھتے ہیں؟

جو وہ ہمیں سُخن کی پہیلی کی صورت سمجھا تو رہے ہیں، مگر ہم سمجھنا ہی نہیں چاہ رہے۔ یا پھر شاید ہماری علمی استطاعت ہی اتنی نہیں ہے، کہ ہم یہ سب سمجھ پائیں۔ ہماری یہ علمی اوقات کہاں! کہ یہ سمجھ سکیں کہ ”اسد“ کس انداز کا بسمل ہے، جو قاتل سے کہ رہا ہے کہ ”مشقِ ناز کر، خُونِ دو عالم میری گردن پر۔ “ یا یہ سمجھ سکیں کہ ”جامِ زُمرّد“ اُنہیں ”داغِ پلنگ“ کیسے اور کیوں کر ہوا۔ ہم کیا جانیں، کہ ”بدن پر لہُو سے پیراہن کیسے چپکتا“ ہے، اور اس کی اذیّت کس قدر شدید ہوتی ہے۔

یا یہ کہ ”ہر اک تارِ بستر، خارِ بستر“ کب اور کیسے بنتا ہے اور وہ کیا سماں تھا، جب غالب غزل سرا نہ ہوتے ہوئے اس مخمصے میں بھی ہیں کہ لوگ اس عدم لب کشائی پر سوالات اٹھائیں گے۔ یہ سب سمجھنے کے لیے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بقول ”الٹی آنکھ“ سے ہر ایسی نوشتِ غیر عمومی پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ الفاظ اور اصطلاحات کی ظاہری اور عامیانہ تشریح و تفہیم سے ممکن نہیں، جو تشریح عام نصاب کی کی جاتی ہے۔

خوددار اتنے کہ ”ٹومسن“ کے کہنے پر فارسی کی استادی کے لیے پالکی پر دہلّی کالج آئے، اور ٹومسن انہیں کالج کے صدر دروازے پر لینے نہیں آیا تو کہار کو یہ کہہ کر واپس جانے کو کہا کہ: ”فارسی پڑھانے کے لیے ہامی اس لیے بھری تھی کہ عزّت میں اضافہ ہوگا، مگر یہاں تو صورت ہی دوسری ہے۔ “ حق گو اس حد تک کہ جب غدر کے دنوں میں برطانوی سپاہی نے انہیں روک کر مذہب کا دریافت کیا تو اپنے آپ کو یہ کہہ کر ”آدھا مسلمان“ بتایا کہ ”سُوئر نہیں کھاتا۔ شراب پیتا ہوں۔ “

دنیاوی قیامتوں نے بھی تو ان کے دل کی راہگزر دیکھ لی تھی ناں! وہ کون سا غم تھا، جو ”دبِیرالمُلک“ پر قیامت بن کر نہیں ٹوٹا۔ یکے بعد دیگرے آٹھ بچّوں کا مر جانا اور لے پالک صاحبزادے تک کا نہ بچنا کوئی عام غم ہے کیا! جسے بس جھیل لیا جائے۔

لازم تھا کہ دیکھو مرا راستہ کوئی دن اور

تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو، قیامت کو ملیں گے

کیا خوب، قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

جیسے مصرعے غالب کے قلم سے ایسے ہی تو نہیں نکلے ہوں گے! خون روشنائی بن کر نکلا ہوگا، جب کہیں یہ سخن ادا ہوا ہوگا۔ اپنی پنشن کے لیے کلکتے تک کا مہینوں پر مشتمل کٹھن تلخ سفر تو اپنی جگہ عذاب، مگر واپسی پر گھر کی ویرانی کی جانب سے کیا جانے والا استقبال دل شکن بھی تو نشاط کُش بھی۔ زندگی نے اُن کے ساتھ پہلے کوئی رعایت کب برتی تھی کہ غدر کی تباہیوں نے کسر پوری کر دی۔ دہلی تباہ ہو گئی۔ دہلی وہ دہلی ہی نہیں رہی، جو غالب کی دہلی تھی۔

جہاں وہ اکبر آباد (آگرہ) چھوڑ کر آن بسے تھے۔ عمر کے ضعف اور بیماری کی ناچاری میں کئی گُنا دہلی کی شورش نے اضافہ کر دیا اور لال قلعے کی ویرانی غالب کے لیے دل شکن ہی نہیں، حیات شکن بھی ثابت ہوئی۔ ”نجم الدولہ“ سا حساس اگر 1947 ء تک زندہ رہتا، تو تقسیمِ ہند ان کو کس قدر رنج اور صدمہ پہنچاتا، یہ ہر ذی شعُور غالب کا پریمی سمجھ سکتا ہے۔

آج ڈیڑھ سو برس کے بعد جب

ہُوئی مدت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پرکہنا، کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

اور جب میں خود سے پوچھ رہا ہوں کہ ”غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں؟ “ تو جواب ملتا ہے کہ زمانے تو چلتے رہتے ہیں، کیوں کہ چلتے رہنا زمانے کی فطرت ہے۔ کام بند تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔ کام تو چلتا رہتا ہے، لیکن سخن میں محض ”کام چلانے“ سے کام نہیں چلتا۔ سخن، اپنے، اپنے سے پہلے گزرے ہوئے اور بعد آنے والے ادوار کا نقیب نہ بنے تو وہ ”سخن“ نہیں، ”شعر گوئی“ کہلاتی ہے۔ اور ”شعر کہنے“ میں اور ”شاعر ہونے“ میں بہت فرق ہوتا ہے، کیوں کہ شعر کئی لوگ کہتے ہیں، مگر اُن میں سے شاعر کوئی کوئی ہوتا ہے۔ اور غالب جیسا شاعر تو ایک ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *