دانش مند خان اور کم عقل عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل تک اکثر عام لوگوں کی میں بھی وزیراعظم عمران خان کے بیانات پر پریشان ہوتا تھا۔ وزیراعظم بننے سے پہلے یہ جو باتیں کرتے تھے وزیراعظم بننے کے بعد اس سے یکسر الٹ باتیں کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے مؤقف میں اس تبدیلی سے پریشان ہو کر کسی نے بظاہر بہت خوب بات کہی کہ ملک کے مسائل کا حل وزیراعظم کے سابقہ بیانات میں ہے۔ لیکن وزیر اعظم اپنے ان بیانات سے الٹ باتیں کر رہے ہیں جن میں ہمارے خیال میں ملک کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اسی وجہ سے جھنجلا کر لوگ ان کو عمران خان کی بجائے ”یو ٹرن خان“ کہنا شروع ہو گئے۔ یہ طنزیہ لقب دینے والوں میں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے لیڈر بھی شامل تھے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ اتنی سخت تنقید کے باوجود وزیر اعظم ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اور نیا پاکستان بنانے کے اپنے فارمولے کیوں ترک کر رہے ہیں جن کو لوگ درست بھی مانتے ہیں؟ جب کہ ان کے حمایتی اور مخالف چاہتے بھی ہیں کہ وہ اپنے وژن کے مطابق نیا پاکستان بنائیں۔

اس گھمبیر سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے گہری تحقیق اور غور و فکر کرنے کے بعد ہم بالآخر یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ خان صاحب میں اس تبدیلی کی وجہ ان کی مطالعے کی عادت اور گرو سے رہنمائی حاصل کرنا ہیں۔ آپ کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ خان صاحب جس بات کو درست سمجھتے ہیں اس کا برملا اظہار کر دیتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا انہوں نے کچھ عرصہ قبل ابن عربی اور رومی کو پڑھنے اور کسی گرو سے ان کو سمجھنے کی بات کی تھی۔ اگر آپ یاد کریں تو اس سے پہلے خان صاحب پاکستان کو بدلنے کی بات کرتے تھے۔ اور اس کے بعد سے وہ خود کو بدلنا شروع ہو گئے۔ نیا پاکستان کے بجائے ہمیں نیا عمران خان دیکھنے کو ملنے لگا۔ اسی پر میرے اور آپ جیسے کم عقل عام آدمی اور اپوزیشن جیسے مفاد پرست عناصر نے وزیراعظم کو یوٹرن خان کہنا شروع کر دیا۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب نے رومی کو پڑھتے ہوئے یہ جانا ہے کہ ”دانشمند ہونے کے لیے خود کو بدلنا ضروری ہے“۔ اور کل وہ جو دنیا کو بدلنے کی بات کرتے تھے تو وہ وژن نہیں بلکہ ”چالاکی“ تھی۔ اب خان صاحب نے جیسے ہی یہ بات سمجھی تو انہوں نے خود کو یکلخت اور یکسر بدلنا شروع کر دیا۔ اس تبدیلی پر کوتاہ بین عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان کو یو ٹرن خان کہنا شروع کر دیا۔

لیکن خدا جسے چاہے اسے ہدایت دے۔ مجھ ناچیز کو سمجھ آ گئی ہے کہ خان صاحب ’یو ٹرن خان ”نہیں بلکہ“ دانش مند خان ”بن گئے ہیں۔ یہ ادراک ہونے پر میں بہت خوش بھی ہوں اور ماضی میں خان صاحب کو غلط سمجھنے پر شرمندہ بھی ہوں۔ خدا میری اس غلطی کو معاف کرے۔

اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہیں آ رہا تو ساتھ رومی کے قول پر مبنی تصویر دیکھ لیں۔ اگر خان صاحب کے خلاف پراپیگنڈے کے زیر اثر اب بھی آپ کو ایسا لگے اس قول کی تشریح وہ نہیں جو میں نے کی ہے تو میرے پاس آپ کے بغض کا کوئی علاج نہیں۔ پھر اگر آپ کے اختیار میں ہے تو خان صاحب کا گرو بدل دیں جس سے انہوں نے رومی کو پڑھا اور سمجھا ہے۔ کیونکہ خان صاحب کو تو جو بات سمجھ آ گئی ہے انہوں نے بنا کسی خوف اور لالچ کے اس کے مطابق ہی عمل کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *