سرائیکی وسیب میں خواتین کے زیورات خطے کی ثقافت کا مظہر ہیں


”کن بوچھن نال تاں لُک سگدن نہیں لکدا نک میڈو پوپا پٹھ“

سرائیکی وسیب میں خواتین کے زیر استعمال زیورات خطے کی ثقافت کے مظہر ہیں

ثقافت کسی گروہ، جماعت یا قوم کی معاشرتی، اخلاقی، ذہنی، فنی اور صنعتی ترقی اور ان اوصاف کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کی مدد سے کسی گروہ، جماعت یا قوم کی حیثیت کو کسی دوسرے گروہ یا جماعت سے الگ قرار دی جاسکے اور اس کی مدد سے اس گروہ، جماعت یا قوم کے نظریات، اعمال، اصول اور دستور کا پتہ چل سکے۔ اگر اس کی سادہ تعریف کی جائے تو وہ یہ ہے کہ کسی علاقے کی ثقافت صدیوں کے رہن سہن سے پیدا ہوتی ہے اور پھر پیدائش سے موت تک زندگی کے تمام مراحل پر پھیلی ہوتی ہے۔

محاورے اور ضرب الامثال مختلف قلبی کیفیات غم خوشی اور ان کا اظہار ثقافت کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کیفیات کے مختلف ادبی اظہار کے چشمے اس علاقے کی ثقافت سے پھوٹتے ہیں۔ مثلا کافی کو لیجیے یہ خالصتا سرائیکی علاقوں کے اندر پیدا ہوئی۔ چونکہ سرائیکی خطہ ملک کا دور اُفتادہ خطہ ہے اور یہاں جذبات پر تکلفات کے پردے پڑے ہوئے نہیں تھے اس لیے بے محابہ اظہار کی صورتیں خودبخود پیدا ہوتی رہیں۔ اگر آپ کسی خطے کے رہنے والوں کے مزاج پرکھنا چاہیں تو اس کا واحد ذریعہ اس کے گیت، پہناوا اور رسمیں ہوتی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی سرزمین مختلف ثقافتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہر خطے کی ثقافت کی اپنی چاشنی، خوبصورتی اور تاریخ ہے اسی طرح ”سرائیکی لوک ریت“ کے خالق حمید الفت ملغانی اپنی کتاب میں سرائیکی کلچرکے متعلق لکھتے ہیں کہ ”سرائیکی کلچر اور ثقافت کی اپنی نمائیاں خصوصیات ہیں۔ ان کی عادتیں بھی الگ ہیں اور خصلتیں بھی، رسم ورواج بھی الگ ہیں اور ادب آداب بھی، یہاں کی تاریخ بھی الگ ہے اور جغرافیہ بھی، رہن سہن کے طریقے بھی الگ ہیں اور معاشرتی رویے بھی، ہنرمند افراد کا ہنر اور روزی کمانے کے طریقے بھی الگ ہیں، ماحول بھی الگ ہے اور یہاں کی لوک ریتیں بھی، لوک گیت اور لوک داستانیں سب کچھ مختلف ہے، لوک ناٹک اور جنگ نامے بھی، چٹکلے بھی الگ ہیں اور پہلیاں بھی الگ ہیں اور کہاوتیں بھی مختلف ہیں، آخری بات یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کی زبان بھی الگ ہے اور یہاں کے لوگوں کے سوچنے کا انداز بھی مختلف ہے۔

ثقافت اور کلچر کسی بھی خطے کا ہو بات جب حسن اور بناؤ سنگھار کی ہوگی تو اس کے لیے ایک ہی اصول کارفرما ہے اور وہ یہ کہ خوبصورت نظر آنا اور خوبصورت کہلانا فطرت آدم اور خاص طور پر صنف نازک کی مجبوری ہے۔ انسان کی قدیم تاریخ سے لے کر جدید تاریخ تک ہر معاشرئے اور ہر دور کے مذہب نے اپنے افراد کو اور خاص طور پر عورتوں کو زیبائش اور آرائش کا حق دیا ہے۔ ہار سنگھار کرنا اور رائج الوقت فیشن اپنانا ہر عورت کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔

اورسرائیکی وسیب کی عورتیں اپنے بناؤ سنگھار کے لیے بہت سے زیور اور دیگر لوازمات کا سہارا لیتی ہیں۔ جس میں تیل، پھلیل، سرمہ، مُساگ، عطر، کیسر، باٹن، م مہندی، سندور، سرخی، مشک، عنبر، کافور، موتی، زری کے تار، زیوراور تریور شامل ہیں۔ سرائیکی کے صوفی شاعر خواجہ غلام فرید سائیں نے اپنی شاعری میں عورتوں کے بناؤ سنگار کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ

سوہنی، کوجھی، گانڑھیں، گٹھڑئے۔ پاوئے پا ٹھمکاوئے

سیندھاں، مانگھاں، تلک تلولے۔ کجل مساگ سُہاوئے

خواجہ غلام فرید سائیں نے کہا کہ کوئی بھی عورت جو کہ خوبصورت ہو یا پھر معمولی شکل و صورت کی وہ زیور پہن کر اور ہار سنگھار کر کے خوبصورت نظر آنے کے لیے ہر کوشش کرتی ہے۔ آج موضوع بحث سرائیکی وسیب میں خواتین کے زیر استعمال آنے والے زیور ہیں جن کو سرائیکی میں گانڑھیں کہا جاتا ہے۔ ان میں گلے اور گردن کے زیور، ماتھے کے زیور، کانوں کے زیور، ناک کے زیور، ہاتھ اور بانہوں کے زیور، پاؤں کے زیور اور انگلیوں کے زیور کے علاوہ بالوں کے زیور شامل ہیں۔

ان میں گلے اور گردن کے زیور میں کٹمالا، چندن ہار، ہسی، دُکی، تعویز، مالا، ڈوڈن مالا، چونپ کلی اور حمیل وغیرہ شامل ہیں۔ اور ماتھے کے زیور میں سنگار پٹی، بینا، ٹکہ، چندر، جُھومر شامل ہیں اسی طرح کانوں کی خوبصورتی کے لیے استعمال ہونے والے زیور میں بُندئے، والے، والیاں، کیوٹیاں، جھاریاں، مگر، جھمکے، چیلکاں، کانٹے، مرکیاں شامل ہیں۔ سرائیکی وسیب کی عورتیں ناک کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے بھی زیور استعمال کرتی ہیں جن میں بُولا، بُلاک، کنڈہ، پوپا، بینسر، نتھ اور کوکہ شامل ہیں سرائیکی شاعروں نے اپنی شاعری میں پوپا اور کوکہ کا ذکر بہت کیا ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

کل عید دا ڈیہنہ ہے فجریں تئیں جئے تھی سگدئے میڈو پوپا پٹھ

ہر سینگھی نکوں بُٹی کو ڈیسی مہیڑا ٹھک میڈو پوپا پٹھ

پا پپوں میڈا ویجھ ڈکھے نہیں نبھدا جھٹ میڈو پوپا پٹھ

کن بوچھن نال تاں لُک سگدن نہیں ُلکدا نک میڈو پوپا پٹھ

پیروں کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے بھی زیور جن میں پازیب، بچھوا، لچھے، کڑی، نورا، پاکڑئے، تروڑئے، پُھل گھونگرو، بسنتیاں اور رمجھول استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح انگلیوں کے لیے چھاپ، مُندری، وینڈلا، چھلا، بندڑہ، چنبہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرائیکی وسیب کی عورتیں اپنے بالوں کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے بھی زیور استعمال کرتی ہیں جن میں بوڈی، پونکٹراں، ٹنور، پُھندن اور جوڑا شامل ہیں۔ عظیم سرائیکی صوفی شاعر نے اپنی شاعری میں سرائیکی وسیب کے زیورات کا ذکر مختلف انداز میں کیا ہے مثال کے طورپر خواجہ غلام فرید سائیں فرماتے ہیں

ٹوٹے، کڑیاں، کنگن، نیور۔ ۔ ٹکڑئے بینے، بُولے، بینسر

کٹمالے تھئے نانگ برابر۔ ۔ چونپ کلی چک پیندی ہے

ایک اور مقام پر خواجہ صاحب فرماتے ہیں

بچھوا بیکانیری گھنساں۔ ۔ سجڑئے کھبڑئے پیر دا

بینسر بُولے، بینے ٹھمکن۔ والیاں والے جُھمکے جُھمکن

Facebook Comments HS