آغا سلیم: وفات کے چار برس بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آغا سلیم چار برس قبل اُس دیس چلے گئے، جہاں سے کوئی آج تک واپس نہیں آیا۔ آغا سلیم نہ صرف سندھی، بلکہ اُردو اور انگریزی کے معروف اور معتبر دانشور، عالم، افسانہ نویس، ناول نگار، مترجم، شاعر، صحافی، براڈکاسٹر اوردیگر متعدد علمی و ادبی خوبیوں سے مالا مال ایک ایسی شخصیت تھے، جن کا صحیح قد اُنہی کو معلوم ہو سکتا ہے، جنہوں نے اُن کے کام کو پڑھا اور دیکھا ہے۔

7 اپریل 1935 ء کو سندھ کے کلاسیکی تاریخی شہر شکارپور میں آغا عبدالکریم خان کے گھر میں آنکھ کھولنے والے آغا سلیم کا نام ”خالد سلیم“ رکھا گیا۔ اُنہوں نے ابتدائی تعلیم شکارپور ہی میں حاصل کی، جس کے بعد خاندان کے حیدرآباد کُوچ کر جانے کے باعث میٹرک کا امتحان 1948 ء میں حیدرآباد سے، جبکہ انٹرمیڈیٹ کا امتحان 1950 ء میں لاہور سے پاس کیا۔ بعد ازاں بی۔ اے۔ جامعہ سندھ جامشورو سے کیا۔ ملازمت کے حوالے سے وہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) سے وابستہ ہو گئے، جہاں پروڈیوسر کی حیثیت سے ملازمت شروع کرنے کے بعد وہ ترقی پا کر پروگرام مینیجر اور اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدوں تک پہنچے اور ایک عرصہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد پر اپنی فنّی اور انتظامی خدمات انجام دینے کے بعد 1995 ء میں اسٹیشن ڈائریکٹر ہی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

آغا سلیم کو ادبی ماحول وراثت میں ملا۔ اُن کے بڑے بھائی کی جانب سے ان کے گھر میں لائی جانے والی بچّوں کی کتب نے آغا سلیم میں پڑھنے اور پھر لکھنے کا شوق و ذوق پیدا کیا۔ آغا صاحب خود بتاتے تھے کہ وہ اپنے جیب خرچ سے بھی بچّوں کی کتابیں خریدتے اور شوق سے پڑھتے تھے۔ لڑکپن سے وہ افسانوں کے حوالے سے کرشن چندر کے مدّاح بنے۔ اس ادبی ذوق میں مزید اہم کردار سندھی ادب کے دو اور درخشاں ستاروں، ڈاکٹر تنویر عبّاسی اور سراج الحق میمن کی آغا صاحب کے ساتھ رفاقت نے ادا کیا، جو آغا سلیم کے کلاس فیلوز رہے اور اُن کی صحبت میں رہتے ہوئے آغا صاحب نے اپنی نوجوانی میں 1952 ء سے افسانہ لکھنے کا آغاز کیا۔

اُنہوں نے اپنے ادبی سفر کا پہلا افسانہ سندھی میں ”آہ! اے ظالم سماج“ کے عنوان سے لکھا، جو اُس وقت ”ہالہ“ سندھ سے جاری ہونے والے رسالے ”فردوس“ میں شایع ہوا۔ آغا سلیم کی پہلی کتاب ”چنڈ تمنّائی“ (چاند تمنّائی) کے عنوان سے سندھی افسانوں کا مجموعہ تھا، جو 1964 ء میں شایع ہوئی۔ اُس کے بعد آغا سلیم کے افسانوں کی جو کتابیں طبع ہوئیں، اُن میں ”لذّتِ گناہ“، ”دھرتی روشن آہے“ (دھرتی روشن ہے ) ، ”درد جو شہر“ (درد کا شہر) اور دیگر کتب شامل ہیں۔

ایک کامیاب افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ آغا صاحب ایک زبردست ناول نویس بھی تھے۔ اُن کا پہلا ناول 1960 ء میں ”روشنی جی تلاش“ (روشنی کی تلاش) کے عنوان سے شایع ہوا، جس کے بعد 1977 ء میں ”انپُورو انسان“ (ادھُورا انسان) ، 1978 ء میں ”اوندا ہی دھرتی، روشن ہتھ“ (تاریک زمین، روشن ہاتھ) اور 1985 ء میں اُن کا شہرہ آفاق ناول ”ہمہ اُوست“ شایع ہوئے۔ ”ہمہ اُوست“ نے آغا سلیم کی شہرت کا ڈنکا سندھ ہی میں نہیں، بلکہ دُنیا بھر میں جہاں جہاں سندھی زبان، بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، بجایا اور تصوّف کے پس منظر میں لکھے گئے اس ناول کو ادبی خواہ عام حلقوں نے محبّت سے پڑھا اور پسند کیا۔

آغا سلیم کے 2 ناولوں کے اُردومیں تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ آغا سلیم ایک بہترین نثر نویس کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت شاعر بھی تھے۔ اُن کا پہلا شعری مجموعہ 1986 ء میں ”پن چھن ائیں چنڈ“ (پت جھڑ اور چاند) کے عنوان سے شایع ہوا، جس میں ان کی غزلیات، منظومات اور ابیات شامل ہیں۔ آغا سلیم کے ادبی کارناموں میں مذکورہ بالیٰ تمام کام ایک طرف، اور اُن کی جانب سے کیے گئے سندھی زبان کے سب سے بڑے شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی سندھی شاعری کے منظوم اُردو اور انگریزی تراجم دوسری طر ف!

گوکہ 50 ء کی دہائی میں شیخ ایاز نے شاہ لطیفؒ کے کلام کا مکمّل منظوم ترجمہ اُردوشعری معیاروں پر کر دیا تھا، جو مختلف حلقوں میں مقبول بھی ہو چکا تھا، لیکن آغا سلیم نے شاہ سائیں ؒ کے مکمّل کلام کا سندھی اور ہندی زبانوں کے ذائقے میں بیت اور وائی کے فارمیٹ کے تحت مقامی انداز میں جس طرح ترجمہ کیا، مقامی قارئین نے اُس ترجمے کو دل کے زیادہ قریب محسوس کیا اور آغا صاحب کا یہ ترجمہ بھی شیخ ایاز کے ترجمے سے کسی طور کم مقبول نہیں رہا۔

شاہ سائیں ؒ کے کلام کے انگریزی ترجمے کے حوالے سے محکمہء ثقافت و سیّاحت، حکومتِ سندھ کی جانب سے آغا صاحب کی جانب سے کیے گئے شاہ لطیفؒ کی شاعری کے مختلف سُروں کا قسطوار ترجمہ مختلف عنوانات سے متعدد جلدوں کی صورت میں، مختلف برسوں کے دوران شایع کیا۔ اب ضرورت ہے کہ آغا صاحب کی جانب سے کیا گیا شاہؒ کے کلام کا یہ مکمل انگریزی ترجمہ بھی ایک ساتھ شایع کیا جائے۔

آغا سلیم نے اپنی زندگی کے آخری چند برسوں میں حضرت سچل سرمستؒ اور سکندر یُونانی کی سندھ میں آمد کے حوالے سے دو انگریزی کتابیں بھی تحریر کیں، جو ادبی اور تاریخی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔ اُن کی سکندر کے حوالے سے کتاب کا عنوان ”الیگزینڈرس کانکئیسٹ آف سندھ“ (سکندر کی سندھ کی فتح) تھا۔ اس کے علاوہ بھی آغا صاحب کی کئی اور تصانیف سندھی اور اردو ادب کی جھولی کو زرخیز کرنے میں کار فرما رہیں، جن میں شیخ ایاز کی منتخب شاعری کا انگریزی ترجمہ بعنوان ”سانگس آف فرِیڈم“، اُن کی تحقیقی کتاب ”پٹھان“، اُن کا سفرنامہ ”جھولے لال“، بابا فرید شکر گنجؒ کے دوہوں کا سندھی ترجمہ، بعنوان ”بابا فریدؒ جا دوہا“ (بابا فریدؒ کے دوہے ) ، ”ہُؤ جا لات لطیفؒ چئے“ (وہ جو بات لطیفؒ کہے ) ، ”صدین جُوں صداؤں“ (صدیوں کی صدائیں ) ، ”سچل سچ ہے سارا“ وغیرہ شامل ہیں۔

”بابا فریدؒ جا دوہا“ کتاب کی تحقیق کے ذریعے آغا سلیم صاحب نے ہمیں بتایا کہ حضرت بابا فرید شکر گنج ہی پنجابی اور سرائیکی کے ساتھ ساتھ سندھی کے بھی اوّلین شاعر ہیں۔ اس سے پہلے ہیرو ٹَھکُر کی تحقیق کی روشنی میں ہم یہ جانتے تھے کہ ”سندھی کے چاسر“ (سندھی کے اوّلین شاعر) قاضی قادن ہیں۔ آغا سلیم نے ریڈیواور ٹیلی وژن کے لیے متعدد ڈرامے بھی لکھے، جبکہ دو سندھی فلمیں ”رت جا رشتا“ (خون کے رشتے ) ، اور ”چانڈوکی“ (چاندنی) بھی تحریر کیں۔

آغا صاحب ایک ادیب، شاعر اور براڈ کاسٹر کے ساتھ ساتھ نامور صحافی بھی تھے، اُنہوں نے مختلف ادوار میں سندھی کے معروف روزناموں ”جاگو“ اور ”سچ“ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔ براڈکاسٹر کی حیثیت سے بھی اُن کا کام یکتا اور انتہائی قابلِ ستائش ہے۔ ملتان اور بہاولپور میں پوسٹنگ کے دوران اُنہوں نے قدیم سرائیکی اور وہاں کی سندھی (کیونکہ یہ خطے ماضی قریب میں سندھ کا حصہ رہے ہیں ) موسیقی، جو بڑے بوڑھوں کے سینوں میں محفوظ تھی، کو ریکارڈ کر کے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ یہی کام اُنہوں نے حیدرآباد میں بھی کیا، جہاں اپنے ذاتی مراسم کی بنا پر مختلف دیہی علاقوں میں بسنے والی بزرگ خواتین و حضرا ت کے سینوں میں محفوظ 300 سے زیادہ مختلف لوک گیت ریکارڈ کر کے، انہوں نے سندھی لوک ادب کے ورثے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا، کیونکہ اب اُن میں سے کئی لوگ اس دُنیا میں نہیں رہے۔

آغا سلیم کو پھیپھڑوں کے ناکارہ ہو جانے کے بعد دسمبر 2015 ء میں کراچی کے ایک مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں کچھ دن زیرِ علاج رہنے کے بعد اُنہیں اپنے ہی گھر میں آکسیجن مشین کے سہارے نرسنگ کیئر میں رکھا گیا، جہاں اپنی زندگی کے آخری چار ماہ انتہائی تکلیف میں گزارنے کے بعد دو بیٹے، ایک صاحبزادی اور ایک بیوہ اپنے پیچھے سوگوار چھوڑ کر سندھی، انگریزی اور اُردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ، چار برس قبل، منگل 12 اپریل 2016 ء کی صُبح 2 بجے ہم سے رخصت ہو گیا، جنہیں بعد نمازِ عصر ڈیفنس فیز 7 کے شہرِ خموشاں میں اپنی دھرتی ماں کی آغوش میں امانتاً دفنایا گیا، اور کچھ بعد ان کی خواہش اور وصیّت کے عین مطابق انہیں اپنے فکری مرشد، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے قدموں میں، ان ہی کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں اب وہ آبدی آرم کر رہے ہیں۔

ایسے عظیم انسان کے بچھڑنے کو یاد کر کے موت پر دل کا افسردہ ہونا تو فطری ہے، مگر آغا سلیم نے اپنی زندگی میں اتنا کچھ کیا ہے، جس کو ”منانے“ (سیلیبریٹ کرنے ) کے لیے ہمیں کئی اور زندگیاں درکار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *