آئی ایم ایف سے سمجھوتے کے لئے دو ہی آپشن باقی رہ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روز نامہ جنگ کے معاشی نامہ نگار مہتاب حیدر کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف سطح پر سمجھوتے کے لئے حکومت مناسب فسکل ایڈجسٹمنٹ پلان، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے اور چینی قرضوں کی تجدید کے ذریعہ پیشگی اقدامات کرے گی۔

پاکستانی حکام کے پاس اب دو ہی آپشن رہ گئے ہیں۔ ایک یہ کہ آئندہ دو تین ہفتوں میں پیشگی اقدامات کریں اور دوسرے آئی ایم ایف سے مئی 2020 میں دوسرے اور تیسرے ریویو کیلئے درخواست کی جائے تا کہ حکومت آئندہ بجٹ 2020- 21 میں درستی کے اقدامات کرسکے جس کے بعد ہی آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ امداد کی دو اقساط کے بارے میں فیصلہ کر سکے گا۔

اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ ایسے اقتصادی محاذ پر وقت ضائع کئے بغیر فیصلہ کرنا چاہئے۔ ایک ماہر اقتصادیات نے کہا کہ حکومت نے اپنی سیاسی ساکھ کھو دی ہے۔ عوام مہنگائی کے بارے میں حکومتی جواز کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ دوسرے حکومت نے ایف بی آر کیلئے مالی وصولیوں کا ہدف کم کرکے آئی ایم ایف کی نظروں میں بھی اپنی وقعت گنوا دی ہے۔ اس لئے بین الاقوامی مالیاتی ادارہ وصولیوں کے ہدف 5238 ارب روپے میں مزید کمی پر آمادہ نہیں ہے۔

ایک اعلیٰ افسر کے مطابق اقتصادی محاذ پر فوری بنیاد پر اقدامات کے ذریعہ ہی حالات کو قابو کیا جا سکتا ہے ورنہ اب کوئی معجزہ ہی آئی ایم ایف پروگرام کو بچا سکے گا۔ اسٹاف سطح پر سمجھوتے سے پروگرام پٹڑی سے اترنے سے بچ جائے گا ۔ پیشگی اقدامات کے ذریعہ اسٹاف سطح پر سمجھوتے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اس کے بعد ہی آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ آئندہ 45 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز امدادی قسط کی منظوری دے گا۔

ہفتے کو اعلٰی سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ پاکستان کو مارچ 2020 کے اول 10 دنوں میں پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اب حکومت کو موقع ہے کہ وہ پیشگی اقدامات کرے یا اپنے مضبوط اقتصادی پلان سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا ہوگا۔ ایف بی آر وصولیوں کے ہدف کو مزید گھٹا کر 4700 ارب روپے تک لانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کمی کو 6 ماہ میں اسٹیٹ بینک کا منافع گزشتہ مالی سال کے 63 ارب کے مقابلے میں 42 کروڑ 60 لاکھ روپے تک بڑھا کر پورا کیا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا لیکن جزوی طور پر یہ بوجھ منتقل کرنا ہوگا۔ حکومت بجلی کا نیا ٹیرف پلان مرتب کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف سے سمجھوتے کیلئے کچھ چینی قرضوں کو رول اوور کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ چیف ٹیریسا ڈبن سانچیز نے رابطہ کرنے پر کہا کہ کام اور بات چیت جاری ہے ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی مرحلے میں پورا کام مکمل نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *