مسئلہ کشمیرپر ہندوستان کی ہٹ دھرمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی کے صدر طیب ارد گان کے پاکستان کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے بیان پر ہندوستان نے حسب معمول پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کی حکومتوں کے وقت انڈیا کے سرکاری بیانات میں کشمیر کے حوالے سے ”اٹوٹ انگ“ کا لفظ اکثر استعمال کیا جاتا تھا۔ ’بی جے پی‘ کے اقتدار میں کشمیر کو انڈیا کا اندرونی معاملہ قرار دینے کی تکرار ہر سرکاری بیان میں کی جاتی ہے۔ شملہ سمجھوتے میں بھی انڈیا اور پاکستان نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا تحریری عہد کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر جب بھی کشمیر کی صورتحال کی سنگینی پر بات ہوتی ہے تو انڈیا کا یہی بیان ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور انڈیا کا باہمی معاملہ ہے اور اس مسئلے کو باہمی طور پر حل کر لیا جائے گا۔

امریکی سینٹ کے چار ارکان کرس وین ہولن، ٹوڈ یونگ، ڈک ڈربن اورلنڈسی گراہم نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ایک خط میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انڈیا کے دور ے سے پہلے، کشمیر میں انڈیا ’کریک ڈاؤن‘ کے بارے میں جائزہ رپورٹ پیش کی جائے۔ چار امریکی سینٹرز نے سیکرٹری آف سٹیٹ مائک پومپیو کے نام اس خط میں اس بات پہ تشویش ظاہر کی گئی کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر خطے میں مہینوں سے انٹر نیٹ بند کر رکھا ہے۔

امریکی سینٹرز نے کہا ہے کہ انڈیا نے جمہوریت کی طرف سے سب سے طویل انٹر نیٹ شٹ ڈاؤن کر رکھا ہے، ستر لاکھ افراد کومیڈیکل سہولیات، بزنس اور تعلیمی سہولیات سے روکا جا رہا ہے، اہم سیاسی رہنماؤں ک علاوہ سینکڑوں افراد کو قید میں رکھا گیا ہے۔ سینٹرز کے گروپ نے مزید لکھا کہ سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ سے انڈین حکومت مخصوص اقلیتوں کے حقوق اور ریاست کے سیکولر کردار کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔

سینٹرز نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے درخواست کی ہے کہ کشمیر میں قید سیاسی افراد کی تعداد، انٹر نیٹ، موبائل فون سروسز پر عائید پابندیوں کی تفصیلات تیس دن کے اندر مہیا کی جائیں اورغیر ملکی سفارت کاروں، صحافیوں اور مبصرین کے کشمیر جانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کشمیر میں مذہبی آزادی بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ امریکی سینٹرز نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے یہ بھی کہا ہے کہ ان افراد کی تعداد سے انہیں مطلع کیا جائے جن کی انڈیا کی شہریت خطرے سے دوچار ہے اور یہ کہ انڈین حکام مظاہرین کے خلاف طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے دو ہفتے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ خاتون اول کے ہمراہ 24 فروری سے انڈیا کا دو روزہ دورہ کریں گے۔

انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے جرمنی میں سائبر سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر کشمیر کی سنگین صورتحال کو ”انڈین جمہوریت“ کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی لیکن اب عالمی برادری اور امریکہ سمیت اہم ممالک کشمیر میں انڈیا کی مسلسل فوجی کارروائیوں، بدترین ظلم و جبر، قید، پابندیوں کی سنگین صورتحال کو انڈیا کی ہندو انتہا پسندی پر مبنی اکثریتی غلبے والی جمہوریت کے نام پر نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔

انیسویں صدی کے آخر میں قائم ہونے والی انڈین کانگریس نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز سیکولر ازم کے نام پر کیا لیکن تقسیم برصغیر تک کانگریس غیر منقسم انڈیا کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں میں اپنا اعتماد قائم کرنے میں ناکام رہی۔ دیکھا جائے تو انڈیا کی سیاست میں کانگریس نے ’بی جے پی‘ کے غلبے سے پہلے تک، ہمیشہ ہندوانہ انتہا پسندی پر مبنی سیاست کی ہے، انتہا پسند ہندوؤں کے رجحانات پر عمل کیا ہے۔ اب بھی فرق طریقہ وار دات کا ہے۔ کانگریس میٹھے زہر کی طرح کے چانکیائی طرز عمل کو بہتر تصور کرتی ہے جبکہ ’بی جے پی‘ کھلے عام، طاقت کے جائز و ناجائز بھرپور مظاہرے سے اہداف فوری بنیادوں پر حاصل کرنے کے طریقہ کار کو بہتر تصور کرتی ہے۔

ہندوؤں کی ذہنیت کو اگر کسی نے صحیح طور پر سمجھتے ہوئے، اس کا تدارک کیا تو وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ہندوؤں سے دو ٹوک اور واضح انداز میں بات کی جائے تو وہ دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتا ہے جبکہ جھوٹ، مکر و فریب میں ہندو کا کوئی ثانی نہیں۔ ایک مغربی صحافی کے سوال کے جواب میں قائد اعظم نے کہا تھا کہ انسانی اصولوں کی باتیں کرنے والے کسی ہندو کو بھی اگر ذرا ٹٹولا جائے تو وہ اندر سے ایک انتہا پسند ہندو کی مانند ہی ثابت ہوتا ہے۔

تقریبا پندرہ سال قبل ایک وفد کے ہمراہ دہلی اور مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر دہلی میں کانگریسی مکتبہ فکر کے تھنک ٹینک کے ارکان سے کئی گھنٹوں بات چیت کا موقع ملا۔ اسی دوران میں نے انڈیا کے اقتدار کو چلانے والے براہمن کی تعریف میں کہا کہ اسے عقل و دانش کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس پر انڈین تھنک ٹینک میں شامل براہمن افراد بہت اترائے اور کہا کہ اس میں کیا شک ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ جس طرح نائی سب کے بال کاٹتا ہے، لیکن اس کے اپنے بال بڑھے ہوتے ہیں، موچی ہر ایک کے جوتے سیتا ہے لیکن اس کے اپنے جوتے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں، اسی طرح انڈیا کی حاکمیت چلانے والے برہمن خود کو عقل و دانش کا شاہکار سمجھتے ہیں لیکن کشمیر کے معاملے میں مسلسل بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

وہ حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ وہ کس طرح؟ میں نے کہا کہ انڈیا کے پاس ایک مسلم اکثریت والی ریاست جموں و کشمیر ہے، انڈیامیں اگر عقل ہوتی تو وہ انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ چاہے وہ کرتا جو وہ کرتا چلا آ رہا ہے، لیکن کشمیر میں لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا اور دنیا کو ایک ماڈل کے طور پر دکھاتا کہ دیکھو ہم نے ایک مسلم اکثریت کی ریاست ہونے کے باوجود کشمیر کو اتنے اچھے طریقے سے رکھا ہوا ہے، لیکن اس کے بجائے انڈیا مسلسل کشمیریوں پر ظلم و جبر کرتا رہتا ہے، جس کے نتیجے میں ہر پندرہ بیس سال کے بعد کشمیری اٹھتے ہیں اور خالی ہاتھوں ہی انڈیا کی ایسی تیسی کر دیتے ہیں۔ اس پر انڈین ٹھنک ٹینک کے ارکان کے چہروں پہ جو تاثرات نمودارہوئے، اسے دیکھ کر بات چیت والا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *