منصور اختر سے عثمان بزدار تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار یونس، سعید انور، انضمام الحق، وسیم اکرم، عبد القادر پاکستانی ٹیم کے وہ درخشاں ستارے ہیں جن پر ہم ہمیشہ ناز کر سکتے ہیں۔ یہ سب کھلاڑی بے پناہ ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ایک دنیا ان کی معترف ہے۔ کون ہے جو ان کے ہنر، ان کے جادو اور ان کے کرشموں کا انکاری ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود ان کو دریافت کرنے، ان کو مواقع دینے، ان کے ٹیلنٹ میں نکھار لانے میں عمران خان کے کردار کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔

یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے لیگ اسپنر عبد القادر کو ون ڈے میچوں میں کھلانے کا ”رسک“ لیا۔ اس سے پہلے لوگوں کا خیال تھا کہ صرف آف سپنر ہی ون ڈے کھیل سکتا ہے اور لیگ سپنر صرف ٹیسٹ میچ کا بالر ہے۔ عبدالقادر نے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے میں جو کارکردگی دکھائی وہ ایک تاریخ ہے۔ لوگ تنقید کرتے رہتے تھے اور عمران عبدالقادر کو مواقع دینے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ عبدل کی باولنگ نے ناقدین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

وقار یونس قذافی اسٹیڈیم میں ڈومیسٹک کرکٹ کا کوئی میچ کھیل رہے تھے اور یہ میچ پی ٹی وی پر بھی دکھایا جا رہا تھا۔ عمران خان نے اپنے زمان پارک والے گھر میں ٹی وی پر وقار یونس کو باولنگ کراتے دیکھا اور میچ دیکھنے اسٹیدیم پہنچ گئے۔ وقار یونس کی سپیڈ اور ٹیلنٹ سے اتنے متاثر ہوئے کہ مستقبل قریب میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ شارجہ میں ہونے والے میچ میں شمولیت کا گرین سگنل دے دیا۔ وقار یونس شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا اور مجھے یاد ہے میچ کے اگلے روز اخبار کی سرخی تھی : ”وقار یونس نے تیز ترین باولنگ کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا“۔ وقار یونس نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ آندھی کی طرح آئے اور طوفان کی طرح چھائے رہے۔ سعید انور شروع شروع میں بری طرح ناکام رہے۔ عمران اصرار کے ساتھ اسے موقع دیتے رہے اور اب کون مانے گا کہ اگر عمران ”ڈٹے“ نہ رہتے تو شاید سعید انور کا کیرئیر اس کے آغاز کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا۔ انضمام الحق اتنے ٹیلنٹ والا کھلاڑی تھا کہ اگر وہ روایتی طور پر سست نہ ہوتا تو اس کا کیرئیر اس کی موجودہ پوزیشن سے بہت بہتر ہوتا۔

میں سائنس کالج ملتان پڑھتا تھا۔ سائیکل پر کالج جاتا اور واپسی پر نواں شہر چوک پر ایم سی سی اسٹیدیم میں ہونے والے کرکٹ میچ کو دیکھنے کے لیے رک جاتا۔ ان دنوں ملتان کا مشہور کرکٹ ٹورنامنٹ ”آل پاکستان کرکٹ ٹورنامنٹ“ جاری تھا جس میں ملک بھر کے مشہور کرکٹ کلب حصہ لیتے تھے۔ انضمام الحق ان دنوں ملتان کے ایک مشہور کرکٹ کلب ”صابریہ کرکٹ کلب“ کا حصہ تھے۔ یہاں میں تین کام کرتا : اپنی نئی نویلی سائیکل کو صاف کر کے مزید نیا کرتا، گنڈیریاں چوستا اور انضمام الحق کی بیٹنگ سے لطف اندوز ہوتا۔

ایک میچ میں اس نے مڈ وکٹ پر اتنے لمبے لمبے چھکے مارے کہ گیند بار بار اسٹیدیم کے پار سڑک پر گر رہی تھی۔ ویک اینڈ پر گاؤں آیا تو خبر بریک کی اگر کبھی میرٹ پر انتخاب ہوا تو انضمام بہت جلد ٹیم کا حصہ ہوگا۔ کچھ عرصہ بعد ہی انضمام ٹیم کا حصہ بن گیا اور سنا ہے کہ عمران نے ہی ان کی شمولیت پر ”ضد“ کی تھی۔ سلیکشن کمیٹی انضمام کی پرفارمنس سے مطمئن نہیں تھی۔ عمران کی نظر پرفارمنس سے زیادہ انضمام کے ٹیلنٹ پر تھی۔

92 کے ورلڈکپ میں انضمام کی کارکردگی لوگوں کو مایوس کر رہی تھی کہ نیوزی لینڈ کے ساتھ سیمی فائنل میچ کا مرحلہ آن پہنچا۔ میچ والے دن انضمام کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی، کمزوری کے باعث وہ کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ عمران ہی تھے کہ جنہوں نے ایک اہم میچ میں ”بیمار“ انضمام کو یہ کہہ کر کھیلنے پر اصرار کیا : تم صرف بیٹنگ کرنا، فیلڈنگ نہیں۔ اس میچ کے ایک نازک مرحلے پر جب پاکستان کے جیتنے کے امکانات معدوم ہو چکے تھے، انضمام نے 60 رنز کی ایک طوفانی اننگز کھیلی، پاکستان یہ میچ ہی نہیں اور ورلڈکپ بھی جیت گیا۔

فائنل میں بھی اس نے دھواں دار قسم کی ایک مختصر اننگز کھیل کر پاکسان کی جیت کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد ہم نے انضمام کا اصل روپ دیکھا۔ عمران کے اصرار نے ہی انضمام کے کیرئیر کو بچانے میں اہم کردار کیا۔ وسیم اکرم براہ راست عمران خان کی دریافت نہیں تھے لیکن آسٹریلیا میں وسیم کے پہلے میچ میں ہی ان کی باولنگ دیکھ کر عمران نے کہا کہ میرا پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ خطرے میں ہے۔ اور ہوا بھی ایسے ہی، وسیم نے ایک دن عمران کی وہ پشین گوئی سچ ثابت کر دی جو عمران نے محض ایک میچ دیکھ کر ہی کر دی تھی۔ عمران نے وسیم کی باولنگ میں نکھار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دورے میں عمران نے وسیم کی ملاقات آسٹریلیا کے اپنے زمانے کے بائیں ہاتھ سے باولنگ کروانے والے ایک مشہور بالر ایلن ڈیوڈسن سے کروائی، جنہوں نے ان کو مفید ٹپس دیے۔

کرکٹ سے ہٹ کر بات کی جائے تو موسیقی کا ایک بڑا نام نصرت فتح علی خان ہمیشہ سے بڑا نام نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگ انہیں محض قوال ہی سمجھتے تھے۔ یہ عمران ہی تھے جنہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نصرت مغرب میں بہت مقبول ہے اور فلاں پروگرام کے دوران گورے ساری رات بیٹھے ان کو سنتے رہے اور سر دھنتے رہے۔ عمران کے اس بیان کے بعد ہی لوگ نصرت فتح علی خان کی زیادہ متوجہ ہوئے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے موسیقی کے میدان کا ایک لیجنڈ بن گئے۔

کرکٹ اور موسیقی کے میدان کے میدانوں سے اب تھوڑا رخ بدل کر سیاست کے میدان میں آئیے۔ عمران خان نے جب پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کے لیے جناب عثمان بزدار کا نام لیا تو لوگ حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی۔ عمران شروع سے ہی اپنے اس فیصلے پر تنقید کی زد میں ہیں اور یہ تنقید زیادہ تر ان صحافیوں کی طرف سے ہو رہی ہے جو عمران کے حامی رہے ہیں یا ہیں اور وہ کم از کم پاکستان کی موجودہ اپوزیشن پارٹیوں میں سے کسی کے بھی حامی نہیں۔

دوسرے الفاط میں وہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی جماعتوں کے بھی سخت ناقدین میں سے ہیں۔ اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ جناب عثمان بزدار پر تنقید وہ وزیرِاعظم کی مخالفت میں کر رہے ہیں۔ ان کی تنقید بزدار صاحب کی شخصیت پر نہیں، ان کی کارکردگی پر ہے کہ ان کے بقول پنجاب جیسے بڑے صوبے کو وہ اس طرح نہیں چلا رہے جس طرح چلانا چاہیے۔ عمران خان آج بھی اپنے اس انتخاب کو درست قرار دیتے ہیں اور بالکل اسی طرح ڈٹے ہوئے ہیں جس طرح وہ کرکٹ کے دنوں میں کھلاڑیوں کی سلیکشن کے ڈٹ جایا کرتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جن کھلاڑیوں کے لیے وہ سلیکشن کمیٹی کے سامنے اڑ جاتے تھے، ان کھلاڑیوں نے بھی ان کا مان رکھا اور اپنی پرفارمنس سے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دیتے تھے۔

صرٖف ایک کرکٹر ایسا تھا جو بار بار مواقع ملنے کے باوجود اس معیار پر پورا نہ اتر سکا۔ کرکٹ کے اس زمانے کے شیدائیوں کو منصور اختر کا نام یاد ہوگا۔ عمران نے اسے بہت چانس دلوائے۔ بلا شبہ وہ بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ اس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 38 کی اوسط کے ساتھ 28 سینچریوں اور 69 ففٹیز کے ساتھ 13804 رنز بنائے، لیکن وہ ٹیسٹ میچز اور ون ڈے میچوں میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔ 19 ٹیسٹ میچوں میں وہ 25 کی اوسط کے ساتھ محض 655 رنز ہی بنا سکا جس میں صرف ایک سینچری شامل ہے۔ ون ڈے میچوں کا ریکارڈ بھی کوئی خاص نہیں۔ ون ڈے میچوں میں اس نے 41 میچوں میں 17 کی اوسط کے ساتھ 593 رنز بنائے جس میں کوئی سینچری یا ففٹی شامل نہیں۔

عمران خان جناب عثمان بزدار کو ”وسیم اکرم“ قرار دیتے ہیں۔ کرکٹ میں تو عمران خان کا چناؤ کم ہی ناکام ہوا، اب دیکھنا یہ ہے تاریخ بزدار صاحب کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے، ”وسیم اکرم“ یا ”منصور اختر“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *