جمہوریت کو یرغمال بنانے کا طریقہ ترک کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپوزیشن کی دو جماعتوں نے فوج کے بارے میں وزیر اعظم کے تازہ بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید نئیر بخاری نے تو اس قسم کا بیان دینے پر عمران خان کا مواخذہ کرنے کی بات کی ہے۔ جاننا چاہئے کہ وزیر اعظم کو یہ اعلان کیوں کرنا پڑتا ہے کہ فوج حکومت کے نہیں بلکہ ان کی پشت پر ہے۔

اس حوالے سے اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وزیر اعظم سیاست اور فوج کے حوالے سے بیان دینے والے اکیلے سیاسی لیڈر یا فرد نہیں ہیں۔ اگرچہ جب ملک کا وزیراعظم یہ بیان دیتا ہے تو اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے بلکہ اس واقعہ کو سچ کی سند حاصل ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں فوج اور سیاست کا قریبی ربط و تعلق ہے۔ یہ ربط صرف باہمی تعاون اور مشاورت تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ سیاسی فیصلوں میں عسکری قیادت کے رسوخ کو دیکھا جائے اور اس کی روشنی میں وزیر اعظم کے اس بیان کو پرکھا جائے کہ فوج ان کے پیچھے کھڑی ہے تو یہ گمان یقین میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ ملک میں کوئی وزیر اعظم اس وقت تک برسر اقتدار رہنے کا تصور نہیں کر سکتا جب تک اسے فوج کی حمایت حاصل نہ ہو۔ پاکستان میں اقتدار کی سیاست کے حوالے سے یہ تصور کسی حد تک مستقل علامت کی حیثیت اختیار کرچکا ہے کہ اگر فوج براہ راست ملک پر حکمران نہیں ہے تو وہ بالواسطہ طور سے حکومتی معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ سمجھنے کی بجائے فوج کا تابع فرمان سمجھا جاتا ہے یا یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قومی مفاد اور یک جہتی کے نام پر اس قسم کی تابعداری کا مظاہرہ کرے گی۔

عمران خان اس مسئلہ کا سامنا کرنے والے پہلے وزیر اعظم نہیں ہیں لیکن وہ ایسے پہلے وزیر اعظم ضرور ہیں جو ببانگ دہل اس امر کا اعلان کرتے ہیں۔ عمران خان نے اس سچائی کو دستاویزی حیثیت فراہم کی ہے جس کا سامنا گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اقتدار سنبھالنے والے ہر لیڈر کو کرنا پڑا تھا لیکن کسی نے کبھی کم از کم اقتدار میں رہتے ہوئے یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کیا کہ اگر فوج اس کی پشت پر نہ ہو تو وہ معاملات حکومت چلانے کا اہل نہیں ہوگا۔ یا یہ کہ حکومت کو کام کرنے میں بہر حال فوج کے مطالبوں، رہنما اصولوں اور ہدایت نامہ پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

 اسے ملک کے نظام اور کسی حد تک جمہوریت پر عمران خان کا احسان سمجھا جانا چاہئے کہ وہ کھل کر یہ کہہ تو رہے ہیں کہ فوج کی مدد کے بغیر وہ حکومت میں نہیں رہ سکیں گے۔ اور جو لوگ یہ طومار باند ھ رہے ہیں کہ اب فوج اور تحریک انصاف کی حکومت ایک پیج پر نہیں، انہیں خبردار ہوجانا چاہئے کیوں کہ فوج اب بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ برسراقتدار ہیں۔

پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے علاوہ اگر کوئی دوسری سیاسی پارٹیاں بھی وزیر اعظم کے اس بیان کو ملک میں جمہوریت کی توہین اور اداروں پر حملہ سمجھتی ہیں تو انہیں یہ معاملہ میڈیا بیانات کے ذریعے سامنے لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہئے اور قوم کو بتانا چاہئے کہ قومی ادارے تو مملکت کے وفادار ہیں لیکن انہیں وزیر اعظم غلط طور سے اپنا فریق بتا کر قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔ تاہم ایسا کوئی مقدمہ شاید شروع ہونے سے پہلے ہی داخل دفتر ہوجائے گا کیوں کہ کوئی سیاسی جماعت فوج اور سیاست کے تال میل پر سنجیدہ گفتگو کرنے کا حوصلہ نہیں کرتی اور اس بحث کو قومی مفاد اور سلامتی کے منافی سمجھا جاتا ہے۔

ملک کی بڑی پارٹیاں جن میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہے، اگر حقیقی معنوں میں سیاست پر فوجی رسوخ کو مسترد کرتیں تو اس سال کے شروع میں آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ پر اتفاق رائے سے پہلے قومی اسمبلی میں یہ اصول طے کرنے کی کوشش کی جاتی کہ کن حالات میں کیونکر کسی سروسز چیف کو توسیع دینا ضروری ہوگا۔ آئینی یا قانونی ترمیم نہیں تو کسی قرارداد کی صورت میں ہی سہی، یہ رہنما اصول سامنے لائے جاتے کہ فوج کا سربراہ، قائد ایوان یعنی حکومت کے سربراہ سے ربط وتعلق رکھتے ہوئے کن بنیادی باتوں کا خیال رکھے گا۔ فوج خارجہ، سلامتی، مالی یا دیگر امور میں مشورہ دیتے ہوئے کون سے پروٹوکول کی پابند ہو گی۔ حکومت اگر فوجی قیادت کی مرضی یا صوابدید کے مطابق فیصلہ کرنا ضروری نہ سمجھے تو اس کے خلاف ملکی میڈیا اور دباؤ کے دوسرے طریقے استعمال میں لانا قبول نہیں کیا جائے گا۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت تو کسی بڑی پارٹی کے لیڈر نے اس معاملات پر زبان کھولنے اور فوج اور سول حکومت کے تعلقات کو ایک خاص قاعدے کا پابند کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کی بنیاد پر سول ملٹری تعلقات کی نوعیت متعین کرنے کا ایجنڈا سامنے لانے والی مسلم لیگ (ن) نے بھی یہ تہمت قبول کرنا گوارا کر لیا کہ اس نے اپنے لیڈروں کو سہولت دلوانے کے لئے درپردہ مقتدر حلقوں سے ساز باز کرلی ہے۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے ان ترامیم پر اعتراض کرتے ہوئے تبدیلی کی تجاویز لانے کا دعویٰ ضرور کیا۔ لیکن ووٹنگ سے عین پہلے پیپلز پارٹی نے اسی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا جو حکومت نے پیش کی تھی اور جس کے بارے میں عام طور سے سمجھا جا رہا تھا کہ اس کا مقصد سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین برس کے لئے فوج کا سربراہ برقرار رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ بڑی اپوزیشن پارٹیاں اگر کسی دوسرے حوالے سے اس ترمیم کی مخالفت نہ بھی کرتیں تو بھی یہ جائز سوال تو اٹھایا جا سکتا تھا کہ کوئی پارلیمنٹ کسی ایک فرد کے فائدے کے لئے کس طرح قانون سازی کر سکتی ہے؟ لیکن اس وقت ذاتی و گروہی مفاد کے تحفظ کے لئے قومی مفاد کا عذر تراش کر سرخرو ہونے کی کوشش کی گئی۔

فوج کے سیاسی اثر و رسوخ کا معاملہ ملکی مباحث میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بظاہر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سب کام آئین و قانون کے مطابق ہو رہا ہے اور پارلیمنٹ میں ہی فیصلے ہو سکتے ہیں لیکن عملی طور سے کوئی سیاسی پارٹی یا ملکی مبصر کسی بھی اہم معاملہ میں فیصلہ کے لئے پارلیمنٹ یا حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے جی ایچ کیو کے ردعمل کی طرف دیکھتا ہے۔ ملکی سیاسی حکمت عملی کا رخ جاننے کے لئے یہ پرکھا جاتا ہے کہ کور کمانڈر کانفرنس کے بعد چند سطری بیان کے بین السطور کیا مقصد پوشیدہ ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل کی پریس کانفرنس کو وزیر اعظم کی گفتگو سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران تو یہ روایت بھی قائم کی گئی کہ فوج کے ترجمان میڈیا بیان، ٹوئٹر پیغام یا پریس کانفرنس کے ذریعے اہم سیاسی امور پر اظہار رائے کرتے رہے ہیں لیکن اس پر کسی کو اعتراض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اس رویہ کو حکومت اور فوج کی اچھی پارٹنر شپ قرار دے کر ملک و قوم کو سب اچھا ہونے کی نوید دی جاتی رہی ہے۔

فوج کے مکمل ساتھ کے بارے میں وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہئے کہ سیاسی لیڈروں نے اس بیان پر اعتراض اٹھاتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ ہمارا وزیر اعظم اتنا مجبور ہے کہ فوج نے اسے اپنے دباؤ میں لیا ہؤا ہے، یہ صورت حال ختم ہونی چاہئے کیوں کہ یہ ملک کے متفقہ آئینی انتظام کے خلاف ہے۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم نے اس بیان کے ذریعے اداروں کی خود مختاری کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مضحکہ خیز صورت حال ہے۔ سیاسی لیڈروں کو ایک منتخب لیڈر کے وقار کا خیال ہونا چاہئے لیکن وہ فوج کی شہرت کے معاملے پر زیادہ پریشان ہیں۔

اسی تصویر کا دوسرا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی نامناسب سرگرمی پر شدید ردعمل دینے والے آئی ایس پی آر کو وزیر اعظم کے اس بیان میں کوئی خرابی دکھائی نہیں دی اور نہ ہی اسے فوج کے وقار یا خود مختاری پر حملہ تصور کیا گیا۔ یعنی پیپلز پارٹی کے نئیر بخاری اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق ایک ایسا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کا حکومت یا فوج کے نزدیک کوئی وجود ہی نہیں۔

البتہ اس سچائی سے گریز کی بھی کوئی صورت نہیں کہ ملک میں جمہوری انتظام پر موجود دباؤ کو نہ صرف محسوس کیا جاتا ہے بلکہ مسلسل اس کی تشہیر کا اہتمام کر کے یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں وہی حکومت چل سکتی ہے جو فوجی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔ ملک کی سیاسی پارٹیاں اور لیڈر اتنی بھاگ دوڑ عوام سے ووٹ لینے کے لئے نہیں کرتے جس قدر جدوجہد جی ایچ کیو کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اس بحث کو لازمی ملک کے سیاسی ایجنڈے پر آنا چاہئے لیکن اس کا طریقہ متوازن اور علمی ہونا ضروری ہے۔

 اس بحث کو الزام تراشی کرنے یا سیاسی ہتھکنڈا بنانے کی بجائے ملکی نظام کی اصلاح کے نقطہ نظر سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، اپوزیشن کے علاوہ فوجی اداروں کو بھی اس مکالمہ میں شراکت دار بنایا جائے تاکہ ملک کے جمہوری نظام پر چھائے ہوئے شکوک و شبہات کے بادل ہمیشہ کے لئے چھٹ سکیں۔ موجودہ صورت حال میں ایک طرف سیاسی لیڈروں کے بارے میں یہ افواہ سازی عام ہوتی ہے کہ وہ درپردہ لین دین کے ذریعے اقتدار تک پہنچتے ہیں یا پہنچنا چاہتے ہیں۔ ا ور دوسری طرف فوج پر سیاسی انجینئرنگ کا الزام عائد ہوتا ہے جو اس کے آئینی کردار سے متصادم ہے۔ یہ صورت حال صرف قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی شہرت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اب یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ جس طرح ملک پر نام نہاد مارشل لا کے نام سے غیر آئینی حکومت قائم کرنا ممکن نہیں رہا، اسی طرح بالواسطہ دباؤ کے ذریعے جمہوری نظام کو یرغمال بنانے کا طریقہ بھی بہت دیر تک نہیں چل سکتا۔ سب فریق تصادم کی صورت پیدا ہونے سے پہلے باہمی افہام و تفہیم سے کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں تو یہی ملک و قوم کے لئے بہتری اور کامیابی کا راستہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1554 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *