کرونا ڈائری، چین سے آخری خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اتوار کا دن ہے اور میں ہر قسم کے دروازے بند کر چکا ہوں۔ کپڑوں کی الماری اور فریج کا دروازہ، لکھنے کی میز اور سٹور کا دروازہ، واپس لوٹنے کا دروازہ اور وہ دروازہ بھی جو تمہاری دستک دینے کی عادت سے میں احتراما بند رکھتا تھا۔ تم بالکل ٹھیک کہتی تھیں تمہارے جانے سے سب کچھ بدل گیا ہے۔ کنٹین والا لالچی شوشو اب کئی کئی دن غائب رہتا ہے جس کے بارے سب کہتے تھے وہ اگر مرا تو وصیت کے مطابق اس کی بیٹی تین دن تک نوڈلز کے دام دو گنا رکھے گی۔

اب کیمپس کے درختوں کے نیچے اور بس سٹاپوں پہ پڑے بینچوں پہ سوائے دھوپ کے کوئی نہیں بیٹھتا اور پارکوں میں بچوں کے جھولوں پہ گرد بیٹھ چکی ہے۔ طوفان باد بانوں کو دیکھ کر تھوڑی آتے ہیں اور نہ ہی توہم پرست ماہی گیروں کے ٹوٹکے ٹونے انہیں روک پاتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہی شبہ تھا کہ ہو نہ ہو یہ خوفناک طوفان ان طاقتور مچھلیوں کی مدد کو آتے ہیں جو انسانی بو اور چھوٹی مچھلیوں کی چیخوں سے لدی کشتیوں کے نیچے اپنے جبڑے کھولے گول گول گھومتی رہتی ہیں۔

اب تمہیں سمجھ آ چکی ہو گی کہ در اصل ان طوفانوں کی اپنی کچھ حقیقت نہیں ہے یہ ان طاقتور اور نو کیلے جبڑے والی بڑی مچھلیوں کا شکار کرنے کا عام فہم طریقہ ہے جیسے تم تفریح کے دنوں میں یانگزی دریا کے اس چھوٹے، خطرناک اور قدرے ویران کنارے سے ممنوعہ اوقات میں مچھلی پکڑنے کے لیے کانٹے کے سرے میں چھوٹا کیڑا پھنسا دیا کرتی تھی۔ کانٹے کا تمہارے ہاتھ والا سرا جوں جوں بھاری ہونا شروع ہوتا توں توں تمہاری آنکھیں خوشی اور جنون سے پھیلتی جاتیں، بچوں کی طرح مچل جانے والے انداز میں مچھلی والا سرا کھینچتے ہوئے تمہارے پھیپھڑے خشک ہو جاتے اور ہونٹوں کے کنارے اسی مچھلی کی طرح پھڑکنے لگتے جو اب تمہارے ہاتھ میں ٹوٹتی کشتی کے ملاح کی طرح حواس باختہ ہوتی۔ میں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا کہ ایسے وقت میں تم مجھے اسی خونخوار جبڑوں والی مچھلی کی طرح لگتی تھی جو ماہی گیروں کی خستہ کشتیوں کی نیچے گول گول گھومتی ہے اور طوفان پھینک کر شکار کرتی ہے۔

اب چھوٹی چھوٹی ایسی کتنی چیزیں ہیں جو ہمیں بھول جاتی ہیں اور کتنی ایسی ہیں جنہیں ہم بھلانا چاہتے ہیں جیسے وہ سبھی اچھے دنوں کے خواب اور منصوبہ بندیاں جو میں ہمارے مستقبل کو لے کر دیکھا اور کیا کرتا تھا۔ مجھے ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کیونکہ ہم بچپن سے دیکھتے اور سنتے آئے ہیں کہ عشق سے جان لیوا کچھ نہیں ہوتا۔ یعنی کچھ بھی نہیں۔ لیکن اب میں اپنے بڑے بوڑھوں اور ان تمام دانا لوگوں کو جن کے اقوال زریں سنتے ہوئے پہلے میرے بڑے پھر میں بڑا ہوا اور میں پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ ان دانا لوگوں کو نہ ہی میرے بڑوں اور نہ ہی ان کے بڑوں کے بڑوں نے کبھی دیکھا ہو گا۔

ملنا سننا تو بہت دور کی بات۔ میں ان میں سے ایک ایک کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جھوٹ کی فصل سینچی ہے اور اس کے لئے مجھے قبرستانوں کی بھی بے حرمتی کرنی پڑی تو میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ تم اچھی طرح جانتی ہو میں اپنے ارادوں میں کس قدر مضبوط اور وعدوں میں انتہائی دو ٹوک انسان ہوں۔ پچھلے برس گرمیوں کی چھٹیوں میں بیجنگ ایرپورٹ سے گھر جاتے ہوئے مسافر خانے میں بیٹھے بیٹھے میری ملاقات اپنے ایک ہم وطن سے ہوئی وہ چین کے کسی دور کے صوبے میں میڈیکل کا اسٹوڈنٹ تھا ویسے میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق اول تو چین کے لوگ بیمار ہی نہیں ہوتے اور جو اگر کبھی ہو بھی جائیں تو دیسی دوائیں ہی استعمال کرتے ہیں اور ایسا کرنے سے وہ کچھ ہی دنوں میں بالکل ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں یا کم سے کم دیکھنے میں تو پہلے ہی کی طرح دبلے پتلے اور تندرست نظر آتے ہیں اب ایسے ملک میں جدید ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا کسی شستہ مذاق سے کم نہیں لگتا لیکن ظاہر ہے یہ باتیں میں اپنے ہم وطن سے نہیں کر سکتا تھا جبکہ وہ ہماری پہلی اور آخری ملاقات تھی۔

خیر جاتے جاتے اس نے تشکر اور خیر سگالی کے رسمی سے جملے میں کہا کہ ”اچھا بھائی جان دعاؤں میں یاد رکھیے گا“ اور میں نے بھی جلدی اور بے دھیانی میں کہہ دیا کہ ”جی بھائی میں وعدہ کرتا ہوں کہ ضرور یاد رکھوں گا“۔ اب یہ بات وہ نہیں جانتا تھا کہ میرا تو خدا سے بہت پرانا جھگڑا چلتا آ رہا ہے سو دعا مانگنے کا سیدھا سیدھا مطلب تھا۔ شہ مات۔ اور نہ ہی اسے یہ پتہ تھا کہ میں ارادوں میں بے حد مضبوط اور وعدوں میں انتہائی دو ٹوک انسان ہوں۔

مجھے اس مشکل کا حل نکالنے میں پورا ایک سال لگ گیا جب تم نے جاتے جاتے مجھ سے اپنی رندھی ہوئی آواز میں کہا تھا کہ ”وعدہ کرو تم مجھے ہمیشہ یاد رکھو گے“ اور میں نے کہا تھا کہ ”ہاں میں وعدہ کرتا ہوں کہ ضرور یاد رکھوں گا“ تب مجھے اچانک خیال آیا کہ بالکل یہی الفاظ میں نے ایک سال پہلے بھی کہے تھے اور یوں مجھے پہلی بار ادراک ہوا بعض اوقات وہ باتیں جو ہم بھول جاتے ہیں جیسے پہلے میں ”دعا“ اور دوسرے وعدے میں ”ہمیشہ“ کا لفظ۔ ۔ ۔ کتنی اہم اور توجہ طلب تھیں اور یہ بھی کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کو یاد رکھا جائے تو بڑے سانحے بھلانا آسان ہو جاتا ہے۔

یہ نامعلوم جان لیوا وبا کا آٹھواں دن ہے اور تمام تر مقدس صحیفوں، متبرک یاداشتوں حتی کہ سفلی عقائد کے پیروکاروں کی بے حد احتیاطی اور محفوظ کتابوں کے مطابق اسے منطقی اور فیصلہ کن ہونا چاہیے تھا۔ تم یہاں ہوتیں تو دیکھتیں جب تیس تیس منزلہ عمارتوں والی کالونیوں میں نیچے سے اوپر ہر ممکنہ کھڑکی اور دروازے سے سر نکالے لوگ آخری فیصلے کے انتظار میں مناجات کر رہے تھے تو آسمان متوحش آنکھوں سے بھر گیا تھا اور چاند تو چاند کوئی ستارہ بھی دکھائی نہیں پڑتا تھا۔

جب گریہ کرتے ہوئے ہزاروں لوگ اپنی آنکھیں ایک ساتھ بند کر لیتے تو آسمان اماوس کی رات سے زیادہ ویران ہو جاتا اور جب کھولتے تو بارش برسنے لگتی۔ مائیں شیر خوار بچوں کو چھاتیوں سے چمٹائے ہوئے بلکتیں تو ان کے مرد اپنی ٹانگوں کی جڑوں سے دہل جاتے۔ ان کی دعاؤں میں رقت مزید بڑھ جاتی اور پھر سے اماوس کی ویران ترین رات میں بارش برسنے لگتی۔

سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر جو ہمیشہ سے گرم نیند کرنے کے عادی تھے خود انسومنیا کے مریض بن چکے ہیں اور بعض اوقات تو ہسٹیریا اور شیزوفرینیا کے دائمی مریضوں کی طرح وارڈوں میں چیختے چلاتے اور اچھلتے پھرتے ہیں۔ نرسیں اور رضا کار ششدر آنکھوں سے اپنے ڈاکٹر اور مریضوں کو دیکھتے ہیں اور مزید تند دہی سے اپنے کام میں جٹ جاتے ہیں۔ بوڑھی شُن لِن جو ہمیشہ سے یانگزی دریا کے اوپری کنارے آباد ہے جس کے اجداد نے سانگ سے لے کر چنگ دور حکومت کی تمام چھوٹی بڑی لڑائیوں، اندرونی بیرونی سازشوں اور بغاوتوں کو اس قدر خوبی سے لکھا کہ ان کے ہاتھ شاہی عجائب گھر کے نادر ترین نمونوں میں شمار ہونے لگے۔

یہ تو سبھی کہہ رہے تھے کہ بوڑھی شُن لِن پاگل ڈاکٹروں پہ بے حد غصہ ہے اور اسے آج سے پہلے کسی نے اتنے غصے میں نہیں دیکھا لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے خاندانی وقار کے مجروح ہونے کو لے کر اس قدر حواس باختہ تھی یا وہ شروع ہی سے ایسی تھی اور کسی نے اس پر توجہ نہیں دی یا پھر وبا اپنا کام کر گئی جو وہ ڈاکٹروں، نرسوں اور رضاکاروں پہ تھوکتی پھر رہی تھی۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ڈاکٹر پاگل ہو چکے ہیں اور مریض ایک دوسرے پر اور ہر اس جگہ جو ان کے دائرہ قدرت میں ہے تھوکتے پھر رہے ہیں۔

میں وقت کے ایسے دورانیے میں پھنس چکا ہوں جہاں ہر دن موت کا دن ہے اور میں اپنی ڈائری کا ہر صفحہ آخری مہلت سمجھ کے لکھتا ہوں لیکن میں پھر بھی تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ میں کسی کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتا اسی لیے رضائی میں دبکا پڑا ہوں۔ میری ٹانگیں فالج زدہ لوگوں کی طرح گھنٹوں سے ساکت اور بے جان ہیں بس انگلیاں ہیں جو لکھے جا رہی ہیں۔ اگر تم یہاں ہوتیں اور غور سے دیکھتیں جیسا کہ تمہاری عادت ہے تو تمہیں واضح نظر آتا کہ میں مکمل کوما میں جا چکا ہوں یہ صرف میری انگلیاں ہیں جو مناسب وقفوں کے بعد تیز رفتاری سے چلتی جا رہی ہیں جیسے کپڑا بنانے والی چھوٹی ملوں میں لگی مشینوں میں سوئیاں ایک میکانکی انداز سے چلتی رہتی ہیں لیکن یہ منظر تمہارے لئے کچھ نیا نہ ہوتا اگر میں کچھ دیر میں اٹھ بیٹھتا اور تمہیں بھینچتے ہوئے بوسوں سے بتاتا کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *