آج اتوار کا دن ہے اور میں ہر قسم کے دروازے بند کر چکا ہوں۔ کپڑوں کی الماری اور فریج کا دروازہ، لکھنے کی میز اور سٹور کا دروازہ، واپس لوٹنے کا دروازہ اور وہ دروازہ بھی جو تمہاری دستک دینے کی عادت سے میں احتراما بند رکھتا تھا۔ تم بالکل ٹھیک کہتی تھیں تمہارے جانے سے سب کچھ بدل گیا ہے۔ کنٹین والا لالچی شوشو اب کئی کئی دن غائب رہتا ہے جس کے بارے سب کہتے تھے وہ اگر مرا تو وصیت کے مطابق اس کی بیٹی تین دن تک نوڈلز کے دام دو گنا رکھے گی۔
اب کیمپس کے درختوں کے نیچے اور بس سٹاپوں پہ پڑے بینچوں پہ سوائے دھوپ کے کوئی نہیں بیٹھتا اور پارکوں میں بچوں کے جھولوں پہ گرد بیٹھ چکی ہے۔ طوفان باد بانوں کو دیکھ کر تھوڑی آتے ہیں اور نہ ہی توہم پرست ماہی گیروں کے ٹوٹکے ٹونے انہیں روک پاتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہی شبہ تھا کہ ہو نہ ہو یہ خوفناک طوفان ان طاقتور مچھلیوں کی مدد کو آتے ہیں جو انسانی بو اور چھوٹی مچھلیوں کی چیخوں سے لدی کشتیوں کے نیچے اپنے جبڑے کھولے گول گول گھومتی رہتی ہیں۔
Read more