کرونا ڈائری: نئی دنیا کے خد و خال

تاریخ، ریاضی اور جغرافیہ کے ماہرین متفقہ طور پر اپنا فیصلہ سنا چکے تھے کہ ہماری زمین انسانوں کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور ان کی موجودہ آبادی کے تناسب سے دوسری مخلوقات کے لئے تنگ ہوتے ہوتے قریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب ایسے وقت میں آٹھ ارب لوگوں کو یہ حکم دینا کہ…

Read more

کورونا ڈائری۔ انوکھی سواری

آج میں نے برف کے پہیے بنانے چاہے اور آسمانی بجلی سے تیز آندھی کی دعا مانگی۔ میرا خیال تھا بلکہ یوں کہتا ہوں کہ مجھے پورا یقین تھا کوئی نامعلوم غیر نامیاتی اور بے حد طاقتور میکانکی قوت ان پہیوں کو ایک ایسی برق رفتار سواری میں بدل دے گی جہاں آنکھ کھلنے پر…

Read more

کرونا ڈائری، چین سے آخری خط

آج اتوار کا دن ہے اور میں ہر قسم کے دروازے بند کر چکا ہوں۔ کپڑوں کی الماری اور فریج کا دروازہ، لکھنے کی میز اور سٹور کا دروازہ، واپس لوٹنے کا دروازہ اور وہ دروازہ بھی جو تمہاری دستک دینے کی عادت سے میں احتراما بند رکھتا تھا۔ تم بالکل ٹھیک کہتی تھیں تمہارے جانے سے سب کچھ بدل گیا ہے۔ کنٹین والا لالچی شوشو اب کئی کئی دن غائب رہتا ہے جس کے بارے سب کہتے تھے وہ اگر مرا تو وصیت کے مطابق اس کی بیٹی تین دن تک نوڈلز کے دام دو گنا رکھے گی۔

اب کیمپس کے درختوں کے نیچے اور بس سٹاپوں پہ پڑے بینچوں پہ سوائے دھوپ کے کوئی نہیں بیٹھتا اور پارکوں میں بچوں کے جھولوں پہ گرد بیٹھ چکی ہے۔ طوفان باد بانوں کو دیکھ کر تھوڑی آتے ہیں اور نہ ہی توہم پرست ماہی گیروں کے ٹوٹکے ٹونے انہیں روک پاتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہی شبہ تھا کہ ہو نہ ہو یہ خوفناک طوفان ان طاقتور مچھلیوں کی مدد کو آتے ہیں جو انسانی بو اور چھوٹی مچھلیوں کی چیخوں سے لدی کشتیوں کے نیچے اپنے جبڑے کھولے گول گول گھومتی رہتی ہیں۔

Read more