محمد حامد سراج کی ”میا“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد حامد سراج کی ”“ میا ”کا مطالعہ کرنے کے بعد دل بہت اداس ہو گیا میا کو پڑھتے وقت آنکھوں سے آنسو خود بخود حامد سراج کی تحریر کو داد دینا شروع کر دیتے ہیں لگتا ہے“ میا ”کو حامد سراج نے آنسوؤں میں ہی پرویا ہے۔ واہ کیا کہنے۔

”تمہارے بعد یہ زندگی بے ترتیب ہو گئی ہے ریزہ ریزہ زندگی کو کیسے ترتیب دیا جائے۔ آنسوں کو کس تاگے میں پرویا جائے“

”میا“ میں ماں جیسی ہستی کو جس زاویے سے آپ نے تصویر کھینچی وہ تصویر دلوں کو شاداب کرتی ہے دل خون کے آنسو روتا ہے ماں کی ممتا کو اور اپنے جذبات کو سامنے لا کر سب کے دلوں کی محبت کو جگا دیا۔ ایک حقیقت نگاری بے پناہ محبت کے اظہار قارعین کی دل چسپی کو ابتدا سے ہی اپنا گرویدہ بنا دیتا ہء۔ اس کو پڑھ کر مممتا کی یاد آ گئی دل اداس ہو گیا

کوئی نہیں پردیس میں میرا، کس کو حال سناؤں میں۔

دور ہوں میں، مجبور ہوں، تیرے پاس میں کیسے آؤں ماں ”،

تو کہتی تھی اپنے گھر کی روکھی سوکھی اچھی ہے۔

جھوٹی ہے دنیا کی دولت، تیری ممتا سچی ہے ”

ماں جیسا کوئی اور نہیں ہے، میں سب کو کیسے سمجھاؤں ماں ”،

میں بہت اداس ہوں، میں تیرے پاس کیسے آؤں ماں۔

کوئی نہیں پردیس میں میرا، کس کو حال سناؤں میں

ماں ایک ایسا لفظ ہے جسے سنتے ہی ذہن شفقت، خلوص، صبر اور قربانی سے بھری ایک ہستی کا خیال آتا ہے ماں کی ایک نظر کرم سے انسان اپنے سارے دکھ، درد اور غم بھول جاتا ہے۔ میا میں بھی مصنف نے ماں کی ممتا کی دلکش تصویر ایک محبت میں بولتی عظیم ہستی کو سامنے لایا

ماں۔

”مجھے وہ دن بھی یاد ہیں

جب کبھی میانوالی، کندیاں خریداری کے لیے تمہیں جانا ہوتا

بچوں کے لیے کھلونے لینے ہوتے یا کوئی اور کام۔ تمہارا اصرار ہوتا کہ الطاف کو ساتھ بھیج دو۔

ماں میں خود چلتا ہوں۔

نہیں۔ ایک تو تم جلد بازی بہت کرتے ہو اور ساتھ جھلاتے بھی ہو۔

پھر بچوں سمیت الطاف تمہیں لے جاتا! ”سراج نے ماں کے بارے میں خود کلامیہ اور مکالماتی تکنیک میں ماں کا خاکہ لکھا ہے۔ مجھے وہ منظر آج تک نہیں بھولا جب مجھے اطلاع ملتی ہے کہ ماں کی طبعیت خراب ہے فوراً پہنچو۔ میں بھاگم بھاگ ساہیوال پہنچتا ہوں۔ کمرے میں ماں حالتِ سکرات میں بستر پر لیٹی ہوئی تھیں، ان کی چارپائی کے گرد تمام بہن بھائی کھڑے تھے، میں نے ان کی چارپائی کے کنارے پر بیٹھتے ہوئے بہن بھائیوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، بڑی بہن نے رم جھم آنکھوں کے ساتھ نفی میں گردن ہلادی کہ اب کچھ نہیں بچا، میں ماں کے تھوڑا اور قریب ہوگیا، ان کے گلے کو سہلاتے ہوئے پانی پلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا“ ماں ”، شاید میری موجوگی میری آمد کی ہی منتظر تھیں۔ ناجانے کس طرح اپنی پوری قوت جمع کرکے ماں نے مجھے جواب دیا، “ ہاں ”یہ وہ لفظ تھا جو ان کے منہ سے نکلا اور میرا پلایا ہوا پانی منہ سے باہر بہہ گیا اور ماں چلی گئی میری آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھے بغیر۔

حامد سراج کی اردو ادب میں ماں پر لکھی جانے والی شاہکار تحریر ”میا“ ہے۔ ”میا“ کیا ہے؟ یہ صرف ماں کے لمس کا احساس ہے یا ماں کے چلے جانے کے درد کی تفہیم ہے۔ حامد سراج نے نظم و نثر کے امتزاج سے ماں کے پیکر کو دوام بخشا ہے۔ ماں سے منسلک ناقابلِ فراموش واقعات کی جزیات میں داخل ہو کر حامد سراج خود بھی روتے ہیں اور پڑھنے والوں کی پلکیں بھی بھگوتے چلے جاتے ہیں۔

حامد سراج کی اس طویل ماں پر شائع ہونے والی تحریر ’میا‘ کو پڑھنے کے بعد ہمیں سمجھ آیا کہ حامد سراج ٹھیک کہتے تھے یہ ایک درد ہے ایک کیفیت ہے ایک لمحہ ہے جسے روکنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ماں کہیں نہیں جاتی باپ کہیں نہیں جاتا۔ برسوں گزرنے پر بھی وہ روز ملاقات میں رہتے ہیں ان کی دعا کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ وہ ہمارے اندر موجود سانس لیتے رہتے ہیں اور ہمارے جینے کی تسلی کا سامان کرتے ہیں۔ بابا اب آپ میں آپ سے سوال کرتی ہوں۔ اس ایک درد، کیفیت اور لمحہ کو میں نے بہت روکنے کی کوشش کی ہے مگر ناکام رہی۔ بابا حامد ایک درویش اور فقیر منش انسان تھے اللہ پاک نے انہیں قناعت کے بہت اونچے درجے پہ فائز کیا تھا ”میا“ کی مانند ان کی یادیں جمع کر جاوں

اس میں کہانی کا سحر ہے لیکن یہ کہانی نہیں ہے، اس میں منظر نگاری ہے لیکن یہ ناول ہے نا ڈرامہ۔ پھر اسے کیا نام دیا جائے، اسے خاکہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ خاکہ ہی یک کرداری ہوتا ہے۔

خاکہ نگار کی کیفیات خاکے کے انگ انگ سے پھوٹ رہی ہوتی ہے بالکل یہ وہ ذہنی کیفیت ہے جب تخلیق کار اپنے اندر کے موسم کو ہر چیز اور بیرونی کیفیات میں محسوس کرتا ہے۔

اداسی کی کیفیات کا اندازہ ’میا‘ کے ان چند فقروں سے لگایا جا سکتا ہے۔

اب تو سارے موسم زرد اور اداس ہیں

اسلام آباد کی وہ شام کتنی اداس اور بے کیف تھی

بیٹی کا سر سینے پر ٹکا تھا۔ میرے اندر کینسر کی مو سلادھار بارش ہو رہی تھی.

’میا‘ کیا ہے؟ لفظوں کی مصوری ہے، مرقع نگاری ہے اور لفظوں کی یہ مصوری کرتے وقت خاکہ نگار حامد سراج کی جگہ افسانہ نگار حامد سراج ایک جھرجھری لے کر جاگ اٹھتا ہے۔ مصنف نے زندگی اور موت کے درمیان فاصلے کو بڑے قریب سے کم ہوتے دیکھا ہے۔ اسی کرب، بے بسی اور اداسی کے عالم میں وہ کہتا ہے۔

”ماں“

میں اس بات کا اظہار کیسے کروں۔ اندر کے اس دکھ کو زبان کیسے دوں؟

کہ جب انسان کے اندر کسی کی موت کا بیج اگنے لگے تو کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یہ پودا روح کی زمین کا سینہ چیر کر کیسے باہر نکلتا ہے اور پھر اس پر لہو کی بوند سے کیسے پھول کھلتے ہیں۔

حامد سراج نے ماں کے بارے میں خود کلامیہ اور مکالماتی تکنیک میں ماں کا خاکہ لکھا ہے اس تکنیک میں جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ جذبات کی ترجمانی میں کمی واقع ہو رہی ہے تو انہوں نے ماں کے حوالے سے دوسرے شعرا کے لکھے گئے شعری بیانیے کو اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے۔ اس طرح خاکہ نگار شعرو نثر کی سرحدیں ختم کر دیتا ہے اور نظم و نثر کو یکجا کرتا چلا جاتا ہے جس سے بیانیہ مزید اثر انگیز ہو جاتا ہے۔

حامد سراج نے اردو فکشن میں ایک طرحِ نو کی بنیاد ڈالی ہے اور احساسات کی داستانِ خونچکاں لکھ کر ایک درد بھری سچائی کو ”میا“ کا روپ دے کر امر کردیا ہے۔

ماں۔

یہ شام، اداسی اور تنہائی کا لامتناہی صحرا

تم وقت کی قید سے ورے جا آباد ہوئیں

اور میں۔

ہجر کے پیڑ تلے بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں

بابا حامد آپ کہتے تھے نہ

”رم جھم ہو رہی ہے۔ بارش۔ تھوڑی سرد ہوا۔ میں نے آنگن میں نکل کے پودے اشجار دیکھے تو روح سرشار ہو گئی۔ پھلوں سے لدے درخت۔ پودے پھول۔ آنگن کا منظر دل کش اور دل کو چھو لینے والا ہے۔ کتاب اور ہریالی کے بغیر گھر ویران لگتے ہیں۔ “

اب آپ کے بغیر یہ دنیا ویران لگتی ہے لائبریری میں موجود کتابیں جو آپ کے جیون ساتھی کی مانند رہی ہیں اب ایک ہی لمحہ میں ہزاروں سوال کر ڈالتی ہے حامد سراج کدھر ہے

ان کی نگاہیں تلاش کر رہی ہیں پھر دوسری جانب کتابوں سے آواز ہے میرے عزیزوں میں کہیں نہیں گیا آپ سب کے درمیان میں موجود ہوں مجھے محسوس کروں میں حاضر ہوں۔ بابا حامد سراج آج بھی ہم سب کے درمیان موجود ہے۔

بابا وہ آپ کا ”پگلی پُتر“ کہہ کر کے تنگ کرنا آج بھی کانوں میں آواز گونجتی ہے۔ کینٹین پہ سرسبز درختوں کے سامنے دو کرسیوں کے درمیان میز پہ چائے کی ایک پیالی اور ایک گلاس جوس کا رکھ کر پہلی سیلفی بنوانا وہ منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے کال کر کے صبح بخیر نہ کہتی تو وہ ناراضگی اور وہ چھیڑ چھاڑ اب بھی رلا دیتی ہے۔ بابا جانی۔ ”۔ میا“ میں ماں کے ساتھ آپ ہیں۔ ہسپتال کی وہ منظر کشی کی تصویر جو آپ نے ماں کے بارے میں کھینچی تھی اب اسی میں آپ بھی موجود ہیں حامد سراج کہیں نہیں گئے وہ کتابوں میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ پختہ کارنثر پڑھنے کے لئے ”میا“ ایک عمدہ انتخاب ہے جسے سید امیر کھوکھر کی حروف بینی کے ساتھ امر شاہد اور گگن شاہد کے تزئین و اہتمام بک کارنر بالمقابل اقبال لائبریری، بک اسٹریٹ جہلم پاکستان نے شائع کیا ہے، میا 148 صفحات پر مشتمل ہے اس کی قیمت 380 روپے ہے۔

****محمد حامد سراج****

( 1958 ء ― 2019 ء)

*نام :محمد حامد

*قلمی نام: محمد حامد سراج

*پیدائش: 21 اکتوبر 1958 ء

خانقاہ سراجیہ، ضلع میانوالی، پاکستان

*وفات: 13 نومبر 2019 ء

تعلیم: ایم اے اُردو

*ایوارڈ: 2006 ء میں پیش رفت انٹرنیشنل کراچی کے پلیٹ فارم سے ”میّا“ پر رشید احمد صدیقی ایوارڈ دیا گیا۔

تخلیقات***

( 1 ) وقت کی فصیل (افسانوی مجموعہ) | 2002 ء

( 2 ) میّا (ماں کے موضوع پر اُردو ادب کا طویل خاکہ) | 2004 ء

( 3 ) برائے فروخت (افسانوی مجموعہ) | 2005 ء

( 4 ) آشوب دار (افسانوی مجموعہ) | 2008 ء

( 5 ) آشوب گاہ (ناولٹ) | 2009 ء

( 6 ) بخیہ گری (افسانوی مجموعہ) | 2013 ء

( 7 ) ہمارے بابا جی | 2014 ء

( 8 ) مجموعہ محمد حامد سراج | 2013 ء

( 9 ) عالمی سب رنگ افسانے | 2016 ء

( 10 ) نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں | 2017 ء

( 11 ) برادہ (افسانوی مجموعہ) | 2018 ء

( 1 12 ) مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں | 2018 ء

( 13 ) بادشاہوں کی آپ بیتیاں | 2019 ء

( 14 ) نقش گر ( 25 منتخب افسانے ) | 2019 ء

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “محمد حامد سراج کی ”میا“

  • 19/02/2020 at 9:51 am
    Permalink

    silsla naqshband ka banda aur itna dard wala. Usually naqshband silsly k loog aisay nai hotay but ….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *