ان پر نہیں، خود پر ترس کھائیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھرپارکر کے ایک گاؤں میں دونوں بازؤں سے محروم ایک مڈل پاس لڑکی اپنی جھونپڑی میں تیس بچوں اور تیس بچیوں کا اسکول تنِ تنہا چلا رہی ہے۔اس کا نام حسینہ ہے۔واقعی یہ کام کرنے والی حسینہ سے بڑھ کے دنیا میں اور کون حسین ہوسکتا ہے۔

ہم سے بیشتر افراد جسمانی معذوروں کے لیے ایک لمحاتی ہمدردی محسوس کرتے ہوئے آگے نکل جاتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ ان نارمل دماغ و دل کے لوگوں کو ہماری ہمدردی سے زیادہ ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔یہ بیمار نہیں کہ آپ عیادت بھری نگاہ ڈالیں۔یہ ناکام نہیں کہ آپ ترس کھائیں۔یہ نکھٹو نہیں،بھکاری نہیں۔ یہ بھی ایک خوبصورت اور پرسکون زندگی چاہتے ہیں مگر ہم جیسے نام نہاد جسمانی نارمل لوگوں کی ہمدردی و ترس ان کے لیے سب سے بڑا تازیانہ ہے۔آخر ہم ان کے ہم قدم اور شانہ بشانہ ایک نارمل رویے کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتے۔

اس وقت اس دنیا کے ہر سو میں سے پندرہ لوگ کسی نا کسی جسمانی یا ذہنی کمی میں مبتلا ہیں اور ان میں سے ستر تا اسی فیصد ترقی پذیر دنیا میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں لگ بھگ پانچ ملین سے زائد معذور افراد ہیں۔اور یہ تعداد ناروے، نیوزی لینڈ، لبنان اور کویت جیسے کسی بھی ملک کی آبادی سے زیادہ ہے۔

لیکن ناروے ، نیوزی لینڈ ، لبنان ، خلیجی ریاستوں سمیت بیشتر امیر یا متوسط ممالک میں معذوری بوجھ سمجھے جانے کے بجائے رفتہ رفتہ محض ایک جسمانی کمی کے درجے تک لائی جاچکی ہے۔ان ممالک میں روزگار کے اکثر شعبوں میں کوئی بھی جسمانی کمی کا شکار اپنے صلاحتیوں کے حساب سے کوئی بھی کام منتخب کرنے میں آزاد ہے۔فٹ پاتھوں سے لے کر عمارتوں، بسوں ، ٹرینوں کے ریمپس تک ایسے بنائے گئے ہیں کہ جسمانی معذوروں کو مدد کے لیے ادھر ادھر نہ دیکھنا پڑے۔

ان کے لیے پبلک پرائیویٹ پارکنگ ایریاز میں جگہیں مختص ہونا ایک عام سی بات ہے۔وہ اپنے استعمال کے لیے ڈیوٹی فری آلات اور گاڑیاں امپورٹ کرسکتے ہیں۔ان کے اوقاتِ کار لچک دار رکھے گئے ہیں اور سرکاری و نجی طبی و سماجی ادارے ان کی بھرپور معاونت سے کبھی نہیں ہچکچاتے۔چنانچہ ان معاشروں میں شائد ہی کوئی ایسا زن و مرد ہو جو محض کسی جسمانی کمی کے سبب زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہو۔گویا ان معاشروں نے ان کی کمی کو اپنی توجہ سے اپنے اندر جذب کرلیا ہے۔

مگر ہم جیسے معاشروں میں کہانی خود ترسی سے شروع ہو کے خدا ترسی پر ختم ہوجاتی ہے۔جس طرح ذہنی مسائل کے سلجھاؤ کے لیے ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ’’ اوئے میں کوئی پاغل آں‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے اسی طرح جسمانی کمی کے شکار بچوں اور بڑوں کے بارے میں بھی یہ سوچ کر بغیر سوچے سمجھے انااللہ پڑھ لی جاتی ہے کہ صبر سے کام لو اللہ کو یہی منظور تھا۔شائد بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اگر کمی کے شکار شخص کو ذرا سا بھی سماجی حوصلہ مل جائے تو بہت سے معذور اس دنیا کو نام نہاد بھلے چنگوں سے زیادہ خوبصورت بنا سکتے ہیں۔

آخر اشاروں کی زبان کو ترقی دینے والی ہیلن کیلر بھی تو نابینا اور بہری تھی۔کیمبرج میں بیٹھا ہوا دنیا کا سب سے بڑا ماہر فلکیات و فزکس اسٹیونز ہاکنز اپنے پورے مفلوج جسم کے ساتھ سوائے دماغ کے اور کیا ہے۔ کیا میکسیکو کی فریڈا کاہلو کو نوجوانی میں ایک بڑے حادثے میں ملنے والا اپاہج پن ایک بڑی مصورہ بننے سے روک سکا؟ بہرے موسیقار بیتھوون نے اس دنیا کو کیسی کیسی جادوئی دھنوں سے بھر دیا کہ آج تک مغربی موسیقی بیتھوون سے بچ کر نہیں نکل پائی۔سدھا چندرن کی جب ایک حادثے میں دونوں ٹانگیں کٹ گئیں تب اسے پتہ چلا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی رقاصہ بننے کا راستہ تو اب کھلا ہے۔

جنرل ضیا الحق کے بارے میں آپ جو بھی رائے رکھیں مگر وہ پاکستان کے شاید پہلے اور اب تک کے آخری حکمراں ہیں جنھوں نے معذوروں ، آہستہ رو اور خصوصی تعلیم کے ضرورت مند بچوں کے لیے قانون سازی بھی کی اور ادارہ سازی میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ انھیں اپنی لاڈلی بیٹی زین سے یہ سبق ملا کہ ہم قدم نا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قدم ہی نہیں بڑھایا جاسکتا۔

کہنے کو پاکستان میں معذور افراد کی فلاح سے متعلق قانون انیس سو اکیاسی سے نافذ ہے اور اس کے تحت سرکاری و نجی اداروں میں دو فیصد ملازمتی کوٹہ جسمانی کمی کے شکار لوگوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ تاہم کوئی سال ایسا نہیں جاتا کہ معذور افراد کی مختلف انجمنوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے نہ آتا ہو کہ دو فیصد کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے۔

یہ بھی ڈھنڈورا ہے کہ اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بھی ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ سرکاری اسپتالوں میں تو غیرمعذوروں کے لیے بھی بظاہر مفت علاج کی سہولت ہے۔ویسے بھی ساٹھ فیصد سے زائد معذور افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور یہ کہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے متاثرین بھی کیا مفت علاج کے لیے اسلام آباد، لاہور یا کراچی جائیں ؟

پبلک لائبریریوں میں بھی بریل کتابوں کے نام پر ایک آدھ الماری موجود ہوتی ہے مگر اس پر اکثر زنگ آلود تالہ ہی دیکھا گیا ہے۔

جسمانی کمی کے شکار بچوں کی آدھی سے زیادہ تعداد نارمل اسکولوں میں بھی پڑھ سکتی ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹر کے اسکول نمائشی و کمرشل وجوہات کی بنا پر معذور بچوں کو اپنے ہاں داخلہ دینے کی بہت قرینے سے حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔اگر کمی کے شکار بچے نارمل اسکولوں میں داخل ہو بھی جائیں تو ان کے ساتھ کلاس فیلوز حتی کہ اساتذہ تک انھیں ایک خصوصی مخلوق کے طور پر دیکھتے اور برتتے ہیں۔اس رویے کے سبب جسمانی کمی کے شکار بچوں کی نارمل صلاحیتیں بھی متاثر ہوجاتی ہیں۔

ایک جانب شائد ہی کسی کا دھیان جاتا ہو اور وہ ہے انٹلکچوئل ڈس ایبلٹی۔اس کا شکار بچہ دیکھنے میں تو بالکل نارمل لگتا ہے لیکن ناکافی غذائیت کے سبب اس کی ذہنی و جسمانی نشوونما ایک نارمل بچے کے مقابلے میں آدھی رھ جاتی ہے۔لگ بھگ اٹھائیس فیصد پاکستانی بچے انٹلکچوئل ڈس ایبلٹی کا شکار ہیں لیکن ان پر الگ سے توجہ دینے کے بجائے ان پر پھسڈی ، نکمے ، کام چور اور کند ذہن کا لیبل لگا کے ان کے اپنے ہی گھر اور سماج والے نادانستہ طور پر خود سے الگ تھلگ کرتے چلے جاتے ہیں۔

تو پھر معذور کون ہے ؟ وہ جو تمام رکاوٹوں کے باوجود ذہنی و جسمانی طور پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا پھر ہم جو ترس کھانے کے سوا معذوروں کے لیے کچھ عمل کرنے سے معذور ہیں ۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *