”بھاء جی“ کو منانے کے لئے شہبازشریف کی آخری کوشش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقتدر حلقوں کے ساتھ ”معاملہ سازی“ میں پیدا ہوجانے والا ”ڈیڈ لاک“ توڑنے ک لئے بے تاب شہبازشریف نے آخری کوشش کے طور پر اپنی والدہ کو لندن بلوایا ہے تاکہ وہ ”بھاء جی“ کو سمجھائیں اور چوہدری نثار سے ملاقات کرنے پر آمادہ کریں تاکہ ”معاملہ“ آگے چلانے کی راہ ہموار ہوسکے۔ شہبازشریف نے اپنے چھوٹے بیٹے سلیمان شہباز کو سعودی عرب بھیجا تھا لیکن اس کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات نہیں ہوسکی کیوں کہ چوہدری شجاعت شہبازشریف یا ان کے بچوں سے ملاقات یا مذاکرات کو بے سود سمجھتے ہیں، جس پر شہباز شریف نے اسی روز اپنی معمر ماں کو لندن کی پرواز پکڑنے پر مجبور کیا، شریف برادران کی بہن اپنے شوہر کے ہمراہ اپنی 91 سالہ والدہ بیگم شمیم اختر کو فضائی سفر میں سنبھالنے کی غرض سے ساتھ ہولیں۔

شہباز شریف کے بلاوے پر چوہدری نثار علی خاں کئی روز سے لندن بیٹھے ہوئے ہیں جن کا شہبازشریف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ قائم ہے مگر شہبازشریف چوہدری نثار کے ساتھ بالمشافہ ملاقات سے پہلے ”بڑے بھائی“ کی ”ہاں“ کے لئے کوشاں تھے کیونکہ نواز شریف نے فوری طور پر تو چوہدری نثار سے مُلاقات سے انکار کردیا تھا، چنانچہ شہبازشریف کو ”بڑے بھائی“ کو منانے کے لئے آخری کوشش کے طور پر فی الفور اپنی بوڑھی ماں کو فوری لندن پہنچنے پر مجبور کرنا پڑا۔ شہبازشریف چوہدری نثار کے ساتھ اپنی بالمشافہ ملاقات بھی اسی لئے ”سٹینڈ بائی“ کیے بیٹھے ہیں کہ اسی ملاقات کی ”ایکسٹینشن“ کے طور پر وہ چوہدری نثار علی خاں کی پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کروا دیں۔

ادھر وزیر اعظم مریم نواز کو بھی ملک سے جانے دینے کی اجازت سمیت نہ صرف شریف فیملی کو مزید کوئی ریلیف نہ دینے پر ڈٹ گئے ہیں بلکہ وفاقی سویلین خفیہ ایجنسی کو اس امر کی کھوج لگانے کا نیا ٹاسک سونپ دیا ہے کہ انہیں دھوکے میں رکھ کے کس طرح نواز شریف کو ”ڈیل“ پر آمادہ کرلیا گیا تھا اور اس میں، بالخصُوص ان کی پارٹی اور حکومت کی شخصیات سمیت سویلین حلقوں میں سے کون کون ملوث تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے جو ان دنوں اپنے رویوں، پالیسیوں اور فیصلوں کی تشکیل کے لئے صرف وفاقی خفیہ ادارے پر انحصار کیے ہوئے ہیں، اس پورے معاملے کی تفصیلی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت شریف فیملی کے کسی بھی فرد کو ملک سے باہر جانے کی اجازت سمیت کسی بھی قسم کا ریلیف صرف اور صرف ”پلی بارگین“ کی صورت میں دیے جانے کے حق میں تھے مگر جب سے انہیں باور کروا دیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ایک مرحلے پر نقد رقم اور وہ بھی محض ایک قلیل رقم کے بدلے میں ریلیف دے دیے جانے کا معاملہ طے کرلیا گیا تھا تو وزیراعظم نے شریف فیملی کے لئے ریلیف سمیت سیاسی حوالے سے کسی بھی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ نواز شریف کے ساتھ متذکرہ ”ڈیل“ کے لئے شریف فیملی نے یہ شرط رکھ دی تھی کہ ”پلی بارگین“ کی بجائے رقم کسی برادر عرب ملک سمیت کسی بھی تیسرے فریق کے ذریعے حکومت کو ادا کی جائے گی۔

بتایا جاتا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کی غرض سے مقتدر قوتوں کی طرف سے ڈالا جانے والا مزید کوئی دباؤ خاطر میں نہ لانے پر اسٹیبلشمنٹ نے ”خان“ کو ”اڑیل“ قرار دے ڈالا ہے اور مقتدر حلقوں نے حکمران پی ٹی آئی ہی میں سے ”نیا گھوڑا“ میدان میں اتارنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں وفاقی وزیر اسد عمر کو ”موزوں“ قرار دے کر ”وارم آپ“ کرنا شروع کردیا گیا ہے۔ مقتدر حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ جنرل غلام عمر کا بیٹا اپوزیشن کی دونوں بڑی ”سٹیک ہولڈر“ جماعتوں کے لئے بھی قابل قبول ہے۔ ۔

ذرائع کے مطابق شبر زیدی کے استعفے کے بعد ان کی جگہ پر نیا ”بندہ“ لانے میں بھی پاکستان میں موجود آئی ایم ایف کے ”وائسرائے“ حفیظ شیخ کی شخصیت آڑے آرہی ہے کیونکہ ہارون اختر نے بھی اسی صورت عہدہ قبول کرنے کی شرط رکھ دی ہے جب انہیں ”آزادانہ“ کام کرنے کی گارنٹی دی جائے، ذرائع کے مطابق ہارون اختر نے وزیراعظم سے ملاقات میں صاف کہہ دیا کہ وہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے ”انڈر“ نہیں ہوں گے تبھی ”پرفارم“ کر پائیں گے۔ واضح رہے شبر زیدی پر بھی حفیظ شیخ نے یہ پابندی لگانے کی کوشش کی تھی کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر وزیراعظم سے نہیں ملیں گے۔

سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ حفیظ شیخ کے رہتے ہوئے کوئی بھی قابل شخص معیشت کی بحالی میں کوئی کردار ادا کرنے پر تیار نہیں ہوگا، اور یوں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ جنہیں ”آئی ایم ایف“ کا ”ایجنٹ“ تصور کیا جاتا ہے، معیشت کا پورا نظام مفلوج کردینے کا باعث بن رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *