نویں پاکستان کا ریتلا قلعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی شہری جیف بیزوس نے ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے 10 ارب ڈالر عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ 10 ارب ڈالر کا مطلب ہے 10 ہزار ملین ڈالر۔ 10 ہزار ملین ڈالر کا مطلب ہے 15 کھرب 50 ارب روپے اور 15 کھرب 50 ارب روپے کا 1 ہزار 550 ارب روپے ہوتے ہیں۔ اتنے پیسے گنتے گنتے شام ہو جاتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے جیف بیزوس دنیا کا امیر ترین آدمی کیسے بنا؟ اس کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے کہ وہ 1550 ارب روپے عطیہ دینے جا رہا ہے؟ یہ جیف بیزوس نامی بندہ ای کامرس کا دھندا کرتا ہے۔ مشہور کمپنی ایمیزون کا مالک ہے۔ اس کا دھندہ انٹرنیٹ، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلتا ہے۔ جیف بیزوس جیسے بڑے چھوٹے ان گنت امیر آدمی دنیا کے ہر ملک میں ای کامرس سے اربوں کھربوں لاکھوں کروڑوں کما رہے ہیں۔ انہیں کوئی قاضی کسی ناول کے مکالمے چرا کر یہ نہیں کہتا کہ تم اتنے امیر ہو تو لازماً کوئی جرم کیا ہو گا۔

اب یہ خواب نہیں ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے بہت سے ڈالر کمانا ممکن ہے۔ اب زیادہ دولت کے پس منظر میں کسی جرم کا ہونا ضروری نہیں، ترقی کرنے کی خواہش اور وقت کے ساتھ بدلتی ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کی آمادگی درکار ہے۔ جب ک ایک ایک ملین ڈالر کے لیے ترستے اونچے وژن والے ہمارے حکمران سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون بنا رہے ہیں۔ اور ان کے خدمت گار اور رضاکار ڈھنڈورچی ان بیہودگیوں اور فرسودگیوں کے اتنے ہی بیہودہ اور فرسودہ جواز ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسی سوشل میڈیا کی دیواریں گندی کر رہے ہیں۔

نواں امریکہ، نواں انڈیا، نویں دنیا بھلے انٹرنیٹ کے بغیر نہیں بن سکتی لیکن ہم نے نواں پاکستان حوالدار کرم داد کے پرانے طریقے سے ہی بنا کر رہنا ہے۔ ہم نے ڈنڈے کو ہی ارفع و اعلی انتظامی پالیسی سمجھا اور جانا ہے۔ یہ اس طریقے سے جو بنائیں گے وہ نواں پاکستان نہیں بس نواں ہی ہو گا۔ اس جملے کا درست تناظر سمجھنے کے لیے کسی بابے سے رابطہ کریں جو گایوں بھینسوں کا کاروبار کرتا ہو۔

کاروبار اور مستقبل پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے تھوڑے عرصے بعد صرف وہی کاروبار زندہ رہیں گے اور ترقی کریں گے جو انٹرنیٹ سے جڑے ہوں گے۔ یہ مستقبل کی بات نہیں، ابھی سے ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کالی پیلی ٹیکسی والے جو ٹیکسی میں ہی سگریٹ پیتے، من مانا کرایہ طلب کرتے اور اپنے طور طریقوں سے سواریوں بالخصوص اکیلی دکیلی خواتین کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی سی حیثیت رکھتے تھے اب انٹرنیٹ سے جاری ٹیکسی سروس اوبر اور کریم کی وجہ سے یا تو بے روزگار ہو چکے ہیں یا غریب علاقوں میں کم کرایے پر ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں جہاں رہائشی کریم اوبر سے واقف نہیں۔ یہ گنجائش بھی تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اب تو رکشہ، سامان اٹھانے والی گاڑی، موٹر سائیکل کی سستی سواری سبھی ان لائن ٹیکسی سروس سے ملتا ہے۔

چند روز پہلے صدقے کی دیگیں آن لائن منگوائیں، معیاری اور صاف ستھری سروس تھی۔ اس کی بدولت بد مزاج باورچیوں کے نخرے سے چھٹکارا پایا۔ دلچسپ بات یہ کہ جدیدیت کے اس سفر میں شامل ہونا اور اس سے فائدہ اٹھانا آسان جب کہ اس کی مزاحمت مشکل ترین کام ہے۔ ای کامرس کرنے، سوشل میڈیا پر معلومات مہیا کر کے پیسہ کمانے اور اسی طرح کے دیگر کاموں کے لیے ٹیکنالوجی کا ماہر ہونا ضروری نہیں اپنا کام جاننا ضروری ہے۔ اپنا کام جاننے والے کو ٹیکنالوجی خود بتا دے گی کہ کیسے مجھے استعمال کر کے نئے جہان دریافت کرو۔

آپ کے ارد گرد بے شمار لوگ موجود ہیں جو گھر بیٹھے لاکھوں کما رہے ہیں۔ اور یہ سب اس کے باوجود کہ حکومتی سطح پر ایسی سپورٹ دستیاب نہیں جو اس طرح کے خود روزگاری اقدامات میں معاون ہو۔ الٹا ایسے کرنے والوں کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ وجہ محض یہ کہ مزاج شاہاں ایک حرف تنقید سننے کا روادار نہیں۔ نازک مزاج اور ہمالیہ جیسی اناؤں لیکن کمزور بصیرت و بصارت کے مالک حکمران نہیں جانتے کہ یہ وقت کے خلاف لڑنے کی بے سود اور ضرر رساں حرکت ہے۔ ایسا کچھ نہیں بچے گا جو ٹیکنالوجی کے اس سیل رواں کے مقابلے میں ٹھہر پائے۔

حکمرانوں کے فہم اور مستقبل بینی کا اندازہ لگائیں کہ تیزی سے ٹیکنالوجی پر منتقل ہوتی دنیا میں یوتھ کی نمائندگی کی دعویدار اور اپنی جدیدیت پر نازاں پڑھی لکھی حکومت نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے پر کترنے کے لیے قواعد و ضوابط بنائے ہیں۔ ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم اپنے ساتھ وہی کرنے کی صلاحیت خود رکھتے ہیں جو کوئی دشمن کر سکتا ہے۔ ہم نویں پاکستان کا ریتلا قلعہ بنا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply