کیا داعش کے جنگجو پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ٹرمپ صاحب کا امریکی کانگرس سے خطاب اب تک بہت سے زاویوں سے موضوع   بحث بنا ہوا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے اپنی حکومت کے دیگر کارناموں کے علاوہ یہ کارنامہ بھی بیان کیا کہ:

” تین سال قبل وحشی داعش [ISIS] کے قبضے میں عراق اور شام کا بیس ہزار مربع میل سے زائد رقبہ تھا۔ آج داعش کی خلافت کا کسی بھی علاقے پر قبضہ سو فیصد طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اور داعش کا خونی بانی اور لیڈر جسے البغدادی کہا جاتا تھا مارا گیا ہے۔ “

یہ ٹھیک ہے کہ داعش کو شام اور عراق میں شکست ہوئی ہے اور اُن کی حکومت ختم ہو گئی ہے اور دوسرے ممالک مثلاَ افغانستان میں بھی داعش کے جنگجو بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ لیکن القاعدہ، طالبان اور داعش جیسی تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کے لئے صرف ایک خطہ زمین کی مرہون منت نہیں ہوتیں۔ یہ خاص قسم کی سوچ میں پروان چڑھتی ہیں۔ آج سے کتنے ہی سال قبل امریکہ کی طرف بغلیں بجاتے ہوئے یہ اعلانات سامنے آئے تھے کہ افغانستان کے اکثر حصوں سے طالبان کا قبضہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اور آج انیس سال کی جنگ کے بعد امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ ایسے گروہ ایک جگہ سے بھاگ کر دوسری جگہ جمع ہونے شروع ہوجاتے ہیں یا پھر نام تبدیل کر کے کسی اور نام کے لیبل کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا داعش دنیا بھر میں ختم ہو گئی ہے؟ یا یہ ایک جگہ سے بھاگ کر دوسری جگہ پر جمع ہو رہے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل افغانستان کی تعمیر نو کے ادارے “سگار” کی سہ ماہی رپورٹ شائع ہوئی۔ یہ ادارہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے تحت کام کرتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ نومبر میں داعش کے سینکڑوں جنگجوئوں نے ہتھیار ڈالے تھے۔ اور اب بھی امریکہ اور اس کے اتحادی اور افغانستان کی افواج ان کے ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہیں۔ اور اندازہ کریں کہ اس کام میں ان کی مدد کون کر رہا ہے؟ طالبان اس موقع پر داعش پر حملے کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے ننگرہار صوبے میں ان کے مضبوط اڈے ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن اب بھی افغانستان میں داعش کے دو سے ڈھائی ہزار جنگجو موجود ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کی گئی تھی کہ جب ایسی تنظیم کا زور ایک جگہ سے ٹوٹ جائے تو وہ دوسری جائے پناہ کا رخ کرتی ہے۔ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اب اس خطے میں داعش کہاں کا رخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟

اسی رپورٹ کے مطابق اب یہ دہشت گرد شمال مشرقی افغان صوبے کنڑ یا پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ پہلے داعش کے دہشت گرد صوبہ کنڑ میں پناہ لیتے ہیں جو پاکستان کی سرحد پر ہے اور وہاں پر دبائو بڑھ جائے تو پاکستان میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس موضوع پر معروف محقق کنگز کالج لندن کے Antonio Giustozzi کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے داعش کے کئی جنگجو اب افغانستان اور پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ اس وقت تو داعش کسمپرسی کی حالت میں ہے لیکن جب سے طالبان اور امریکہ کے مذاکرات شروع ہوئے ہیں ، تب سے کم از کم یہ امکان نظر آ رہا ہے کہ آخر میں طالبان راضی برضائے امریکہ ہو جائیں گے۔ اور کئی مرتبہ امریکہ کی کانگرس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ طالبان سے امن معاہدہ اس شرط پر کیا جائے گا کہ طالبان افغانستان میں داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کو پنپنے نہ دیں۔ اور غالباَ اپنی افادیت ثابت کرنے کے لئے اب افغانستان میں طالبان امریکی فوجیوں سے زیادہ داعش کے جنگجوئوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس صورت   حال میں طالبان کے کئی دہشت گرد اب داعش میں شامل ہورہے ہیں۔ کیونکہ داعش والوں کا کہنا ہے کہ طالبان والے تو دوسروں کے پٹھو ہیں۔ ہم دنیا کو خلافت کے نظام کے تحت لے کر آئیں گے۔ اور اسی جذبہ اخوت کے تحت داعش والوں نے پاکستان میں افغان طالبان کے قائد کے بھائی کو بم دھماکے سے قتل کر دیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ ان حالات میں افغانستان کی داعش یا دولت اسلامیہ خراسان والے مالی وسائل کہاں سے پیدا کر رہے ہیں؟ اس سال کے آغاز میں ایک صحافی نجیب اللہ قریشی صاحب نے انکشاف کیا تھا کہ اتنے تنگ حالات میں بھی افغانستان میں داعش اپنے جنگجوئوں کو سات سو ڈالر ماہانہ کی تنخواہ دے رہی ہے۔ آخر یہ خرچہ کہاں سے پورا ہو رہا ہے؟ ایسی تنظیموں کے کئی سرپرست ہوتے ہیں جو انہیں فراخدلانہ مالی اعانت عطا کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کی آمد کا ایک اور ذریعہ بھی ہے جو کہ صوبہ کنڑ اور پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ کنڑ کا صوبہ جنگلات کا صوبہ ہے۔

جریدہ ‘فارن پالیسی’ نے گذشتہ سال جولائی میں انکشاف کیا تھا کہ یہاں سے غیر قانونی طور پر درخت کاٹ کر پاکستان سمگل کئے جا رہے ہیں۔ کہنے کو یہ معمولی سمگلنگ معلوم ہوتی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق ایک ضلع سے سالانہ بیس ہزار درخت کاٹ کر پاکستان بھجوائے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ کام طالبان کے ہاتھ میں تھا مگر اب یہ دھندا داعش والوں کے قبضے میں جا چکا ہے۔ اور اس جریدے کو انٹرویو دینے والے شخص کے مطابق جب یہ لکڑی پاکستان پاکستان میں داخل ہوتی ہے تو پاکستان کی پولیس کو بھی رشوت دی جاتی ہے۔ اور ‘سگار’ کی طرف سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ افغانستان کے حکام جان بوجھ کر یہ سمگلنگ ہونے دے رہے ہیں اور داعش والے اس سے مالی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی حکومت نے یا افغانستان میں امریکی افواج نے پاکستان کی حکومت کو کوئی معلومات مہیا کی ہیں کہ داعش کے دہشت گرد کہاں سے اور کس طرح پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں؟ کیا اس رپورٹ کے بعد پاکستان کی وزارت   خارجہ نے کوئی رابطے کئے ہیں کہ یہ معلومات حاصل کی جائیں کہ داعش کے دہشت گرد کس طرح پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں؟ چھ ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے کہ یہ خبر ایک قابل   اعتبار جریدے میں شائع ہو چکی ہے کہ داعش والے پاکستان میں سمگلنگ کر رہے ہیں۔ درخت تو کوئی ایسی چیز نہیں جو کہ ماچس کی ڈبی میں ڈال کر منتقل کئے جا سکیں۔ یہ سمگلنگ کس طرح چھپی رہ سکتی ہے؟ کیا پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی جائزہ لیا ہے کہ کون یہ سمگلنگ کرا رہا ہے؟

ایسی تنظیموں پر قابو پانے کا صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب وہ کمزوری کی حالت میں ہوں۔ جب وہ مستحکم ہو جائیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بے بسی کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ پڑھنے والوں کو یاد ہو گا کہ دو سال قبل پہلے ذمہ دار ادارے اس بات سے انکار کرتے رہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود ہے۔ پھر جب بلی تھیلے سے باہر آگئی اور داعش نے پاکستان میں دہشت گردی کی کچھ کارروائیاں شروع کردیں تو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ پاکستان میں داعش سرگرم ہو چکی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ کچھ ممالک اسی طرح داعش کو پاکستان میں سرگرم ہونے دیں اور پھر اسی چیز کو بہانہ بنا کر پاکستان میں ہر طرح کی مداخلت کی جائے۔ کہتے ہیں کہ جب طوفان آئے تو شتر مرغ ریت میں سر چھپا لیتا ہے تا کہ طوفان نظر نہ آئے۔ مگر طوفان اسی طرح نقصان کرتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اب ہمارے معزز شتر مرغوں کو چاہیے کہ ریت سے سر نکال کر اس مسئلہ کا جائزہ لے لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *