مادری زبانوں کا عالمی دن: کیا ریاست پاکستانی مادری زبانوں سے انصاف کر رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

21 فروری کو پوری دنیا میں مادری زبانوں کے عالمی د ن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارے یونیسکو UNESCO کی انسانی ثقافتی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس جو 17 نومبر 1999 کو منعقد ہوئی تھی تب اس بات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اور 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا گیا، مادری زبانوں کے عالمی دن کا بنیادی مقصد لسانی اور ثقافتی روابط، ہم آہنگی، اور تعلق کا فروغ ہے۔ پاکستان سمیت دینا بھر کے ممالک اس دن مادری زبانوں کے حوالے سے تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں جن میں اس عزم کا اِعادَہ کیا جاتا ہے کہ مادری زبان کے تحفظ سے، روایات، افہام و تفہیم، رواداری اور مکالمے کو مضبوط رشتوں میں جکڑا جاسکتا ہے اور یہ رشتے زیادہ فروغ پاسکتے ہیں۔

زبان کی اہمیت سے تو انکار ممکن ہی نہیں، بچہ دنیا میں آتا ہے تو اسے کسی بھی زبان سے مخاطب کیا جاتا ہے خواہ اشارے ہی کیوں نہ ہوں، پھر رفتہ رفتہ بچے کو اس زبان سے مخاطب کیا جانے لگتا ہے جو اس خاندان کی مادری زبان ہوتی ہے۔ گویا مادری زبان اس بچے کو وراثت میں ملتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ بچہ بڑے ہوکر اُسے دوسری زبانوں پر کتنا ہی عبور ہو، کتنا ہی عالم فاضل کیوں نہ بن جائے اپنی زبان کبھی نہیں بھولتا، یا وہ کسی دوسری زبان مثلاً اردو یا انگریزی میں کتنی ہی مہارت حاصل کر لے لیکن اپنی مادری زبان کو کبھی نہیں بھول سکتا۔

اس لئے زبان ایک ایسی شے ہے کہ انسان اپنی یاد داشت بھی کھو بیٹھے، اُسے دین و دنیا کی ہوش نہ رہے لیکن جب بات کرے گا تو اپنی مادری زبان میں ہی کرے گا، ماہرین لسانیات کہتے ہیں کہ ہر انسان خواب بھی اپنی مادری زبان میں دیکھتا ہے اس سے مادری زبان اور انسانی احساسات کے آپس میں تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مادری زبان اور قومی زبان میں فرق ہوتا ہے، مادری زبان کسی بھی فرد یا خاندان کی وہ زبان ہوتی ہے جوبرسوں سے اس کے گھر اور خاندان میں بولی جارہی ہوتی ہے جب کہ قومی زبان وہ قرار پاتی ہے جسے رابطے کی زبان کہا جاسکتا ہے۔

ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض زبانیں وقت کے ساتھ ساتھ نا پید ہوگئیں، یا پھر کچھ زبانوں پر عالمی اثر اثر غالب آتا گیا تو کچھ لہجے بدلتے گئے لیکن زبانیں چلتی رہیں۔ بعض مادری زبانوں نے قومی زبان کی حیثیت اختیار کر لی جیسے ہندوستان میں ہندی نے، پاکستان میں اردو نے، بنگلہ دیش میں بنگلہ نے قومی زبان کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونسکو کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت کل چھ ہزار کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ڈھائی ہزار زبانوں کو خطرہ لاحق ہے جن میں ستر کے قریب پاکستانی زبانیں ہیں چند زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد نہایت کم ہے، یونیسکو نے اکیس فروری 2009 کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا میں بولی جانے والی زبانوں کے لئے تشکیل دیے گئے ایک ڈیجیٹل نقشے میں معدومی کے خطرے سے دوچار جن مادری زبانوں کی نشاندہی کی ہے ان میں پاکستانی زبانوں کی بھی کافی تعداد ہے، یہ نقشہ اکیس فروری کو اقوام متحدہ کے تحت منائے جانے والے مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے جاری کیا تھا، دو سال پہلے پاکستان میں ہونے والی مردم شماری میں کچھ مادری زبانوں کو نظر انداز کیا گیا جس سے ان زبانوں کے بولنے والوں میں احساس محرومی پیدا ہوا۔

21 فروری کو دنیا بھر کی چھوٹی اور بڑی قومیں ”مادری زبانوں کا عالمی دن“ کے طور پر مناتی ہیں۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کا تحفظ کرنا اور ان کو معدوم ہونے سے بچاتے ہوئے ان کی ترویج کے لیے کام کرنا ہے۔ ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ ختم ہونے والی زبانوں کو جدید طریقوں سے ریکارڈ کرکے محفوظ بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ان زبانوں اور ان سے منسلک تہذیب و تمدن کو سمجھنے میں مدد لی جاسکے۔

جیسے تحریری، صوتی اورصوتی عکس بندی کے ذریعے۔ زبان ایک ذریعہ اظہار ہے جو کسی بھی سماج میں ایک دوسرے سے منسلک رہنے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ دیگر معاشرتی لوازمات۔ معاشرتی تنوع میں بھی بلاشبہ زبان کا بہت اہم کردار ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی نئی زبانیں وجود پاتی ہیں تو اسی طرح بہت سی زبانیں ختم بھی ہوتی جارہی ہیں۔ اس دن کو سابقہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر ڈھاکہ میں بنگالی کو قومی زبان بنانے کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے ان طلبہ و طالبات کے ساتھ بھی منسوب کیا جاتا ہے جن پر 1952 ئمیں اپنی زبان کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں گولیاں برسائی گئیں اور کئی نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔

25 مارچ 1971ء کو ڈھاکہ میں فوجی آپریشن ہوا جہاں بہت کچھ تار تار ہوا وہاں شہید مینار بھی منہدم ہوا یہ مینار ماں بولی کی حرمت پرگرنے والے ابو برکت نامی طالب علم کے خون کے پہلے قطرے کی یاد گار تھا، ڈھاکہ میڈیکل کالج کے سامنے جب پانچ نہتے طلباء پر ریاست کی گولی چلی تو یہ انیس سو باون کا سن تھا اور فروری کی اکیس تاریخ آج دو ہزار انیس کا سن ہے اور فروری کی اکیس تاریخ یہ محض کلینڈر پر موجود کسی مہینے کی تاریخ نہیں ہے یہ سقوط ڈھاکہ کی ایک پوری تاریخ ہے جو مورخوں نے انیس سو باون میں لکھنا شروع کی تھی۔

1999 اس سلسلے میں بنگلہ دیش نے اٹھائیس ممالک کے ساتھ مل کر یونیسکو میں قرارداد پیش کی جس کے نتیجے میں نومبر 1999 کو یونائٹڈ نیشن ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن UNESCO نے جنرل کانفرنس میں اس دن کو باقاعدگی سے منانے کا اعلان کیا۔ اور 21 فروری 2000 ء سے باقاعدہ اس دن کو منانے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی سال 2008 کو ”مادری زبانوں کا عالمی سال“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور 16 مئی 2009 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تمام ممبرز ممالک کو پابند بنایا گیا کہ وہ تمام چھوٹی بڑی زبانوں کے تحفظ و ترویج کے لیے کام کریں تاکہ مختلف زبانیں بولنے والے ایک دوسرے کی زبانوں کا احترام کرنا سیکھیں اور زبان و ثقافت کے ذریعے دنیا بھر میں امن و امان قائم کیا جا سکے۔

زبان کسی بھی قوم کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے یہ نہ صرف جذبات کے اظہار و خیال کا ذریعہ ہے بلکہ اقوام کی شناخت بھی زبان سے ہی ہوتی ہے۔ زبان ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانے کے ساتھ ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل کو مننتقل ہوتارہتا ہے۔ انسان کی یاد داشت بدل جاتی ہے لیکن زبان نہیں بدلتی، وہ یاد داشت کھو سکتا ہے لیکن اپنی زبان نہیں بھول سکتا۔ بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لئے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔

اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق پر بین الاقوامی معاہدے کے مشمولات کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت کی قرار دادوں کی صورت میں اس حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ قومیتی شناخت اور بیش قیمت تہذیبی و ثقافتی میراث کے طور پر مادری زبانوں کی حیثیت مسلمہ ہے چنانچہ مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کی تمام کوششیں نہ صرف لسانی رنگارنگی اور کثیر اللسانی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی لسانی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر آگہی بھی پیدا کرتی ہیں اور عالمی برادری میں افہام و تفہیم، رواداری اور مکالمے کی روایات کی بنیاد بنتی ہے۔

مادری زبانوں کے ہر ہرلفظ اور جملے میں قومی روایات، تہذیب وتمدن، ذہنی تجربے سموئے ہوتے ہیں اسی لیے انہیں ہمارے مادری اور ثقافتی ورثے کی بقا اور اس کے فروغ کا سب سے موئثر آلہ سمجھا جاتا ہے اگر کسی قوم کی زبان مٹ جائے تو ساتھ اس قوم کی روایات اس کی تہذیب، اس کی تاریخ، اس کی قومیت سب کچھ مٹ جائے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت یونیسکو کا کہنا ہے کہ زبان کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کی جاسکتی۔

انسانی حقوق کے عالمی منشور میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دنیا کا ہر شخص اس اقرار نامے میں شامل تمام حقوق اور مواقعوں کا حقدار ہے۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کا رنگ، نسل، جنس، زبان، مذہب، سیاسی، نظریاتی یا معاشرتی امتیاز ناقابل قبول ہوگا۔ اقوام متحدہ اپنے ارکان ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانوں کی حفاظت کریں اور انہیں متروک ہونے سے بچائیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے فروغ کے ذریعہ ہی عالمی ثقافتی اور لسانی ہم آہنگی، اتحاد اور یگانگت کو قائم کیا جاسکتا ہے۔

کسی قوم کی ثقافت، تاریخ، فن اور ادب اس کی مادری زبان کا مرہون منت ہوتا ہے، کسی زبان کے متروک ہونے کا مطلب اس پوری ثقافت کا متروک ہوجانا ہے۔ مادری زبان کسی بھی شخص کا وہ اثاثہ ہوتی ہے جو اسے اپنے گھر اور خاندان سے ورثے میں ملتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ زبانوں کے متروک ہونے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ زبان سماجی علوم کی پروڈکشن بند کر دے، ۔ زمانے کی جدت اور سرکاری سرپرستی والی زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔

آج کے جدید دور میں مادری زبان میں تعلیم بنیادی انسانی حق ہے۔ دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اورنظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم اور زوداثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچوں کے لئے ابلاغ کا عمل آسان ہوتا ہے۔ مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ معلم کے لیے بھی بہت آسان ہوتا ہے کہ مادری زبان میں بچوں کو تعلیم دے اس کے لیے اسے اضافی محنت نہیں کرنی پڑتی اور مہینوں کاکام دنوں یا ہفتوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔

مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج واشاعت میں مددملتی ہے، زبان کی آبیاری ہوتی ہے، انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پزیر رہا ہے چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسان کے ثقافتی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پزیر رہتی ہے، نئے نئے محاورے متعارف ہوتے ہیں، نیا ادب تخلیق ہوتا ہے، استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام، عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کا سب انگریزی زبان میں ہے مگر علاقائی یا مادری زبانوں میں ریاستی نظام نہ ہونے سے یہ نظام ابھی تک عام آدمی کے لئے اجنبی ہے اور ایہی وجہ ہے کہ یک عام آدمی اس نظام پر انگریزی نظام کی پھبتی کستا ہے دل سے تسلیم کرنے کے بجائے مجبوری اپناتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مادری زبانوں کی سرپرستی کی جائے ”ابتدائی تعلیم مادری و علا قائی زبان میں اور ثانوی و اعلیٰ تعلیم قومی زبان میں دی جائے۔

Muhammad Ibrahim Joyo

مادری وعلاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعرا و محققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیاجائے اور ان کے لیے بھی سرکاری خزانے کے دروازے کھولے جائیں، دیگرعالمی زبانوں کی کتب کو تیزی سے قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیاجائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیامیں اپنا آپ منوا سکے زبانوں کا استعمال تحریری شکل میں کیا جاتا ہے۔

مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع کی ثقافت اور ایک پوری تہذیب اور تاریخ کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش کا قول ہے۔ مادری زبان تو تبھی بچ سکتی ہے۔ جب ہم مادری زبان میں لکھیں گے اور بولیں گے ہم ہی اپنی زبان ہی نہ بولیں تو کسی سے کیا شکایت کر سکتے ہیں یہ بات اس لیے بھی بر محل ہے کہ زبان کے حوالے سے حساسیت پیدا کرنا اہل فکر کا کام ہے زبان بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی نہیں ہے جسے کوئی ملاح آ کے نکالے گا، زبان بھی طلب اور رسد کے اصول کے تحت فروغ پاتی ہے اگر مادری زبانیں مر رہی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بولنے والے نہیں رہے اس کا ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جس نے علاقے اور وقت کی تبدیلی کے سبب بچوں کو اُس زبان میں لوری نہیں دی جس زبان میں خود سنی تھی، خاص کر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان زبانوں پر مشتمل نصاب نہ ہونے کے باعث پرائمری سے پی ایچ ڈی تک طلباؤ طالبات کو اپنی زبانوں کے حوالے سے پڑھنے کو کچھ نہیں ملتا، ہماری رسمی اور غیر رسمی تعلیم میں مطابقت نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہماری زبان اور معاشرت میں مطابقت نہیں ہے جس سے ہم اپنی ثقافت زبان اور تاریخ سے دور ہو جاتے ہیں، اور مقامی زبانوں میں گرائمر، قاعدہ یا رسم الخط یا صحیح اِملا کا انتخاب نہ ہونے کے باعث لکھنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تمام زبانوں کے بولنے والے لسانی تعصب کے بغیر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر تمام زبانوں، تاریخ و ثقافت کو یونیورسٹی سمیت کالجوں اور سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کے علاوہ ہر زبان پر مشتمل شعبہ جات قائم کرنے کے لئے حکومت کو راضی کریں۔ ماہر لسانیات پر مشتمل فورم ہوں انجمنیں ہوں ان تمام کو حکومت مالی سپورٹ کرے اور سالانہ بجٹ میں بھی مقامی زبانوں کے لیے فنڈ مختص کیے جائیں، گوگل، فیس بک اور ٹویٹر جیسی عالمی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس میں دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح پاکستان کی مادری زبانوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان زبانوں کے بولنے والے بھی عالمی ابلاغی روابط کا حصہ بن کر اپنے تہذیبی ورثے کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *