حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب کا ذوق اس سے تعلق محبت رکھنے والے ہر ادب دوست کے لئے لٹریچر فیسٹیول کا نام اپنے اندر ایک کشش رکھتا ہے۔ میں بھی ادب کا ادنا سا طالبعلم ہونے کے ناتے ہر ادبی فیسٹیول میں حاضری ضروری سمجھتا ہوں اور حیدرآبآد کا رہائشی ہونے کے باوجود کراچی میں منعقد کیے جانے والے اکثر ادبی فیسٹیولز میں شریک ہوتا رہتا ہوں۔ اس بار لیٹریچر فیسٹیول کا انعقاد دریائے سندھ کے کنارے آباد سب سے بڑے اور میرے اپنے شہر حیدرآباد میں کیے جانے کی خبر کراچی کے ایک دوست کے توسط سے پہنچی اور اس نے فیسٹیول میں شرکت کی خواہش کآ اظہآر کیا تو میں نے دہری خوشی محسوس کی کہ دوست سے ملاقات بھی ہو جائے گی اور اسے اپنے شہر کا کچھ بہتر چہرہ دکھا کر میں حیدرآبادی ہونے کا کچھ حق بھی ادا کر دوں گا۔

آٹھ فروری بروز ہفتہ دوہزار بیس کو ہم دونوں حیدرآباد میوزم پہنچے جہاں لیٹریچر فیسٹیول کا اھتمام کیا گیا تھا۔ میوزم کے احاطے میں قدم رکھتے ہی گٹر سے ابلتے بدبودار گندے پانی نے ہمارا استقبال کیا تو میں دوست کے سامنے شرم سے پانی پانی ہوتا محسوس کرنے لگا مگر دوست اور خود کو تسلی دینے کے لئے میں نے اسے کہا کہ آگے ایسا نہیں ہوگا لیکن جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے توں توں اندازہ ہونے لگا کہ مسجد تو بنا دی شب بھر میں والا معاملہ ہے۔

فیسٹیول منانے والے جیالوں نے فیسٹیول کے انتظامات کا خیال رکھنے میں صفائی کا بالکل خیآل نہیں رکھا تھا اور پورا علاقہ بدبودار اور تعفن زدہ جوہڑ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اور ادب جیسے شائشتہ نام پر منعقد کی جانے والی یہ اچھی کوشش رائیگاں جاتی دکھ رہی تھی اور یہاں آکر سوائے افسوس اور شرمندگی کے کچھ اور اگر محسوس ہو بھی رہا تھا تو وہ صرف غصہ تھا کہ اگر منتظمین میں ادب جیسے کام کو بھی ادب یا تمیز سے کرنے کی تمیز نہیں تھی جو کہ انتہائی ضروری تھی تو پھر ایسی تقریب کے انعقاد کی حاجت ہی کیا تھی۔

شپڑ شپڑ کرتے اور منہ پر ہاتھ رکھ کر ہم دونوں نے فیسٹیول کے احاطے میں پہنچ جانے کی سزا کے طور پر اپنی سزا کو بھگتا اور انتہائی مایوسی ہوئی۔ ہم پھر خانہ بدوش رائٹرز کیفے چلے گئے جہاں ڈاکیومینٹری ایسوسئیشن آف پاکستان کی طرف سے چلتا پھرتا ڈاکیومینٹری فیسٹول میں کچھ دستاویزی فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔ ان میں سے ایک ”سندھوستان“ بھی تھی۔ یہ کیفے امر سندھو نے آباد کر رکھا ہے، اللّھ بھلا کرے محترمہ امر سندھو صاحبہ کا جنہوں نے فلم کا ٹریلر دکھا کر سندھ کو مکمل بدنامی سے بچایا حالانکہ فلم بھی سندھ میں عورت کے استحصال پر مبنی واقعات پر بنائی گئی تھی مگر مہارت سے بنائی گئی تھی تو اچھی لگی۔

امر سندھو وہ خاتون ہے جو سندھ دھرتی پر جتنے بھی مظلو موں غریبوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو ان کے مسائل حل کرنے میں دن رات ایک کر لیتی ہے جب تک ان غریب لوگوں کو انصاف نہیں مل جاتا۔ سندھ میں امر سندھو بھلی نامدار نہ ہو پر کامدار ضرور ہے وہ بیک وقت کئی پلیٹ فارموں سے سندھ کی آواز بنتی ہے۔ جب بھی سندھ کے درد بڑھ جاتے ہیں تو امر سندھو دردوں پر لکھتی ہے ہر وقت کاموں میں مشغول رہتی ہے۔

اس تمام رام کتھا کا اصل مقصد اس قسم کے اچھے کاموں کو کرنے کے شوقین منتظمیں تک یہ بات پہنچانی ہے کہ اگر آپ کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں تو دل سے کریں اور اس کام کے شایان شان کریں جس کے نام کا سہآرا لے کر آپ لوگوں کو بلاتے ہیں اور پھر جب وہ دور دراز سے آتے ہیں تو خود کو کوستے ہیں کہ ہم ایسے گندے انتظامات کرنے والوں کے جھانسے میں کیوں آئے۔ بہرحال اس سچائی کے اعتراف میں مضائقہ نہیں کہ اس قسم کی ادبی سرگرمیاں حیدرآباد جیسے شہر کے ادب دوست حلقے کے لئے کسی تحفے سے کم نہیں اور ایسی تقریبات کا انعقاد ہمآرے ادب سے دور جاتے معاشرے کے لئے بے انتہا مفید نتائج کا باعث بنے گا۔ جس میں ادیبیوں کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے جس کی ہر ادیب کو غذا کی طرح ضرورت ہے تو یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *