سندھ میں سینئر صحافی اور رکن سندھ اسمبلی کا بیدردی سے قتل


سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھی۔ رکن سندھ اسمبلی نے ایس ایس پی نوشہرو فیروز، ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز اور سیشن کورٹ نوشہرو فیروز میں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لئے درخواستیں دی گئی تھی۔ مگر اس کے باوجود ایس ایس پی نوشہرو فیروز نے شہناز انصاری کو پولیس موبائل تو دور کی بات دو پولیس اہلکار بھی دینا گوارا نہ کیا۔

شہناز انصاری اپنے بہنوئی کے چہلم تقریب میں گئی تو وہاں بہنوئی کے رشتیداروں نے سرعام فائرنگ کرکے موقع پر ہی قتل کردیا۔ یہ بہت بڑا المیہ تھا کہ سندھ میں حکمران جماعت کی ممبر اسمبلی کو دن دہاڑے قتل کیا گیا ہو۔ یہ قتل تو ویسے عام ہے پر اس کے پیچھے بڑی کہانی ہے کہ شہناز انصاری کے دوسرے روز خصوصی نشست پر پیپلز پارٹی کی جانب سے شرمیلا فاروقی کو ایم پی اے کے لئے نامزد کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قاتلوں کو قتل کرنے پر کون اکسا رہا تھا۔

شہناز انصاری کے قتل کو ایک دن ہی ہوا تھا کہ نوشہرو فیروز ضلع میں سندھی نیوز ٹی وی چینل اور روزانہ کاوش کے رپورٹر اور محرابپور پریس کلب کے سابق صدر عزیز میمن کو قتل کیا گیا۔ عزیز میمن کی لاش نہر سے ملی، مائیک کی تار سے صحافی کا گلہ گھونٹ کر بیدردی سے قتل کیا گیا۔ دونوں واقعات کا تعلق ضلع نوشہرو فیروز سے ہے۔ نوشہرو فیروز پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے۔ دونوں ہائے پروفائل کیس ہیں۔ پولیس نے قاتلوں کو گرفتار کرنا تو دور کی بات مگر اب تک قاتلوں کا پتا تک نہیں چلا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر شائع ہوتے وقت کوئی پیش رفت ہو سکے۔ صحافی عزیز میمن نے 27 مارچ 2019 ع کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کراچی سے لاڑکانہ تک شروع ہونے والے ٹرین مارچ کی کوریج کے دوران محراب پور ریلوے اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے کرائے پر پیسوں کے عوض خواتین کو لایا گیا تھا۔ فی خاتون کو دو ہزار روپے کہہ کر صرف دو سو روپے دیے گئے۔ عزیز میمن نے وہ اسٹوری کی جو بہت وائرل ہوئی۔

عزیز میمن کو بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ میں لوگوں کی شرکت کو ایکسپوز کرنے پر پیپلز پارٹی اور ایس ایس پی نوشہرو فیروز کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور خاندان کو نقصان پہنچانے کی بار بار دھمکیاں ملتی رہی۔ عزیز میمن نے اسلام آباد پہنچ کر احتجاج ریکارڈ کرایا اور تحفظ کی اپیل کرتا رہا۔ وہ ایک سال تک تحفظ کے لئے جان کی بھیک مانگتا رہا مگر پولیس اور حکومت نے نوٹس تک نہی لیا۔ مگر ایک سال بعد عزیز میمن کی لاش ملی، پاکستان سمیت دنیا بھر میں عزیز میمن 2020ء میں کسی صحافی کا پہلا قتل ہے۔

دنیا میں صحافت کے حوالے سے پاکستان جتنا خطرناک ملک ہے وہاں پاکستان کا صوبہ سندھ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ سندھ میں ہر سال کم از کم ایک یا دو صحافی قتل ہوتے ہیں۔ مگر اب تک جیو نیوز کے صحافی ولی خان بابر کے سوا کسی بھی صحافی کے قاتل کو سزا تک نہی ملی ہے۔ سندھ حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ با اثر افراد، پولیس، وڈیرے اور جاگیردار صحافیوں کے خلاف متحد ہیں۔ عزیز میمن کے قتل کے بعد رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کے قتل کا اشو ہی ختم ہو گیا جیسے ہوا ہی نہیں تھا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نوشہرو فیروز جاکر رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کے لواحقین سے تعزیت کی جبکہ انہوں نے اسی ضلعی میں مقتول صحافی عزیز میمن کے گھر جا کر تعزیت کرنا تک گوارا نہی کیا۔ عزیز میمن کے قتل کے خلاف سندھ سمیت ملک بھر میں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں صحافیوں کے جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی احتجاج کیا گیا، حکومت کی جانب سے جوائنٹ انویٹیگیشن کمیشن بنانے کی پیشکش کی گئی مگر پیپلز پارٹی کی جانب سے مخالفت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے صحافی عزیز میمن کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مگر اب تک انصاف دیکھتا ہوا نظر نہی آ رہا۔ ہر کسی کے زبان پر یہی جملہ ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے وہ اپنے رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کا تحفظ نہ کر سکی تو صحافی کے ساتھ خاک انصاف کرے گی۔ سندھ میں اس وقت نوشہرو فیروز سمیت تمام اضلاع کے ایس ایس پیز، ڈی آئی جیز پیپلزپارٹی کے خواہش پر مقرر ہوئے ہیں۔

وہ اپنے اپنے ایم این ایز، ایم پی ایز کے آگے جوابدہ ہیں نا کہ آئی جی سندھ کے آگے جوابدہ ہیں۔ اس وقت صحافیوں میں غم و غصہ کی لہر ہے۔ سندھ میں 2009 ع سے اب تک 11 سالوں میں صحافیوں کے خلاف درج مقدمات کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔ پولیس قتل، چوری، اغوا اور ڈکیتی کے واردات پر اتنی جلد ایف آئی آر درج نہیں کرتی جتنی صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے میں دیر نہیں کی جاتی۔ بدقسمتی سے صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات میں قتل، اغوا، منشیات، جنسی زیادتی جیسے سنگین دفعات شامل ہوتے رہے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ حکومت مقتول صحافی عزیز میمن کے قتل میں دلچسپی رکھتے ہوئے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار کرتی ہے یا یہ کیس بھی دیگر مقتول صحافیوں کی طرح پانی میں بہہ جائے گا۔ سندھ میں اس وقت امن و امان کی خراب صورتحال ہے، آپ سکون سے گھر میں بیٹھ نہیں سکتے نہ آرام سے سفر کر سکتے ہیں۔ شام کے وقت قومی شاہراہ اور روڈ راستوں پر پولیس اور حکومتی رٹ ختم جبکہ ڈاکو راج شروع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ شریف نفس، پڑھے لکھے یا کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو کرمنل لوگوں کے خطرات بادل کی طرح منڈلاتے رہیں گے۔

اللہ نہ کرے کہ آپ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے پولیس آپ کے تحفظ کے لئے کبھی بھی بروقت نہی پہنچے گی۔ بلکہ کارروائی ہونے کے بعد ملزم سے زیادہ اچھا سلوک کرے گی۔ سندھ میں یہ حالات ابھی کچھ ماہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ جس میں صوبائی حکومت کے منتخب نمائندوں اور ان کے سپورٹرز وڈیروں جاگیرداروں کا ہاتھ ہے۔ سیاسی با اثر شخصیات نے سیاسی اور برادری کا اثر رسوخ برقرار رکھنے کے لئے پولیس کی مدد سے اپنی اپنی ریاستیں قائم کر رکھی ہوئی ہیں۔

اس وقت پولیس مکمل طور پر اپنے فرائض سے ہٹ کر سیاستدانوں اور ان کے خاص لوگوں کے جائز ناجائز کام کرنے کے ساتھ کرمنل ونگز کو تحفظ بھی فراہم کر رہی ہے۔ سندھ میں اب تک 25 افراد اغوا ہوچکے ہیں اور پولیس بازیاب کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ جبکہ آئی جی صاحب ان ہی ایس ایس پیز کو کارکردگی کے انعامات سے نواز بھی رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

Facebook Comments HS