قومیتی مزاحمت اور سوشل میڈیا پر پابندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا عوام کی آواز ہے اور یہ ان سب آوازوں کو سنتا ہے اور باقی لوگوں تک پہنچاتا ہے جن کو عمومی طور پر یا قومی سطح پر پزیرائی نہیں ملتی۔ ڈیجیٹل یا پرنٹ میڈیا جن موضوعات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں وہ آوازیں سوشل میڈیا پر ہمیں نظر آتی ہیں۔ اب دو طرح کے سوالات ہیں ایک تو یہ کہ کیا یہ آوازیں اپنا وجود رکھتی ہیں؟ اور ان مسائل کو سنے جانا اور حل کرنا ضروری ہے؟ اور دوسری بات یہ کہ کیا سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے؟

اگرچہ ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کے دوران قومی شناخت کے بڑھتے ہوئے شعور اور قومی نظریے کو تقویت دینا بہت ضروری ہے اور یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وطن پرست اور ملک سے محبت کرنے والے لوگ وہ عام لوگ ہیں جو گلیوں چوراہوں پر احتجاج کے دوران دھکم پیل سہہ رہے ہیں جن کو پُر امن احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں ہے یا وہ چند مٹھّی بھر لوگ جو ملک کا نظام چلا رہے ہیں۔

کیا مزاحمت صرف وہی مزاحمت تھی جو ہم نے انگریزوں کے خلاف کی اور جس کے نتیجے میں ہمیں یہ ملک ملا جس کے نظریات کا پرچار کرتے ہم تھکتے نہیں ہیں۔ کیا وہ قوم کسی مصنوعی طریقے سے فیکٹری میں تیار کی گئی تھی جس کو اب کوئی فنّی خرابی بھی درپیش نہیں آ سکتی؟ کیا لوگ جو اس ملک میں بستے ہیں ان کے کوئی مسائل نہیں ہیں اور ان کو سنے جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے؟ کیا سچ وہ ہے جو حکمران آپ کو بتاتے ہیں۔ کیا عام لوگوں کا سچ سچ نہیں ہے؟

کیا محکوم غدار ہیں؟ کیا تاریخ صرف وہ ہے جو جابر حاکم نے مورخ کی گردن میں طوق ڈال کر لکھوائی ہے؟ کیا مظلوم کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ سچ کا درس دینے والے لوگ یہ جان لیں کہ سچ ایک ایسی طاقت ہے جو تاریخ کے صفحے پھاڑ کر چنگھاڑتا دکھائی دے گا۔ جب جھوٹ گھڑے جاتے ہیں اور سچ کو مسخ کیا جاتا ہے تو سچ کی بے شکل سی صورتیں تاریخ کے صفحات پر اپنے نشان چھوڑ جاتی ہیں جن کو سطروں کے درمیان جھانکتا ہوا ہم دیکھ سکتے ہیں۔ کیا مزاحمت کے عروج پر پائی جانے والی قومیں جو آئین کی سالمیت اور ملک کی بقا کی جنگ لڑنے کے لئے نکلتی ہیں غدار کہلاتی ہیں؟

ایک قوم مختلف طبقاتی نظاموں، خطوں، مذاہب اور نسلوں پر مبنی ایک اجتماعی برادری ہے، جس کو غالب طبقوں اور یہاں تک کہ ایک دوسرے سے معاشی معاشرتی اور سیاسی امتیاز کا مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ امیراور غریب طبقے کے فرق کو کون مٹائے گا جب کہ دونوں ایک ہی قوم کا حصّہ ہیں؟ جب غریبوں پر ظلم کیا جائے گا اور ریاستی ادارے اور اس کے تسلط پسند طبقے نہ تو کسی کی آواز سنیں اور نہ ہی ظلم کو ظلم کہیں؟ ہمیں یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم کس سے اور کتنی آزادی حاصل کی ہے؟ غریب اور بے سہارا طبقوں کی زندگیاں تو انگریز کے چلے جانے کے بعد بھی نہیں بدلی ہیں۔ تو کون سے آزادی؟ اور کس چیز سے آزادی؟

وہ سارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جو پسماندہ، مظلوم اور غریب لوگوں کو آواز فراہم کرتے ہیں، اپنی مزاحمت کی طاقت کو مستحکم کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے کامیابی کے ساتھ ایک ایسی ورچوئل سپیس کو تشکیل دے دیا ہے جہاں قومی مسائل پر مختلف آوازیں اور ان کا آزادانہ اظہار ممکن ہو سکا ہے۔

ہم چیزوں کو میزان میں صرف دو طریقوں سے تولنے کے عادی ہیں۔ ایک طرف اچھائی کی طاقتیں ہیں اور دوسری طرف برائی کی۔ کوئی مکمل طور پر صحیح ہے تو کوئی سرے سے غلط۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زندگی اپنے جوہر میں اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور زندگی میں بہت کچھ ہے جس کو صرف دو خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ہمیں دونوں اطراف کے مختلف نقطہ نظر کا موازنہ کرکے دوسروں کے نظریے کو سمجھنے کی اور سچائی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا ہمیں ایسا اشتراک فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے جو نہ تو سفید ہے اور نہ ہی سیاہ۔ مثال کے طور پر پاکستان میں مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے اپنے مقاصد ہیں اور یہ ایک سیاسی منطق سے کارفرما ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا اس طرح کی سیاسی منطق کا پابند نہیں ہے اور ان آوازوں کو فروغ دے سکتا ہے جن تک رسائی ممکن نہیں۔ اس طرح سوشل میڈیا نہ صرف ان آوازوں کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، بلکہ وہ ایک ایسی جگہ بھی مہیا کرتے ہیں جہاں سرکاری بیانیے سے ان کا موازنہ کیا جاسکتا ہے اور جہاں متنوع آراء پیش کی جاسکتی ہیں۔

یہ وہی آوازیں ہیں جنہوں نے ماضی میں سامراجی قوتوں کے خلاف مزاحمت کی وہ سامراجی نظام جس کی جگہ اب ریاستی اداروں نے لے لی ہے۔ اور دبائی جانے والی آوازوں کے لئے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کے لئے مرکزی دھارے کی نا اہلی کا براہ راست تعلق ہمارے تاریخی اور سیاسی منظر نامے سے ہے۔

پاکستان میں بہت سی اقوام بستی ہیں جن کی الگ الگ پہچان ہے۔ ثقافتی، نسلی اور لسانی حقائق غالب قومی نظریے سے متصادم خیال کئیے جاتے ہیں۔ نظریات فیکٹریوں میں تیار ہونے والی مصنوعات نہیں یہ قدرتی طور پر لوگوں کی اور عوام کی آوازوں سے پیدا ہونے چاہیے، نظریہ کوئی سرکاری طور پر تیار کردہ برانڈ نہیں ہوسکتا۔ لوگوں کی مختلف اور قومی بیانیے سے متصادم آوازیں ان کے زندہ تجربات پر مبنی ہیں اور قومیت کی تعریف کی حقیقی روح بھی ہیں۔

قومیت کا تصّور ریاستی اداروں سے نہیں عام لوگوں سے بنتا ہے۔ صرف مٹھّی بھر حکمران نہیں ہم سب قوم ہیں۔ آوازوں کو دبانے کی بجائے قومی بیانیہ میں شامل کرنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت اب مزاحمت کی ان آوازوں کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے جو معاشرے کے لئے ایک طرح کے جمہوری ماحول کو فروغ دینے کی خاطر اپنی جگہ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *