سبز پاسپورٹ کی بڑھتی ہوئی عزت کی گواہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب کے محبوب وزیر اعظم کا کمال یہ ہے کہ جب بھی منہ کھولتے ہیں ، پھول جھڑتے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان لولوئے گلفام کو کیسے سمیٹیں۔

جی یہ چاہتا ہے کہ کاش وہ وہی عمران خان رہتے جو کرکٹ کےمیدان میں تیز تیز دوڑتے تھے، مسکرانا نہیں جانتے تھے اور اپنے مداحوں سے بات کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

یہ خیال ہمیں ان کا وہ دعوی سن کے آیا ہے جس میں وہ پاکستانی پاسپورٹ کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے پائے گئے ہیں۔ خدا جانے وہ یہ اعداد وشمار، یہ معلومات درون خانہ پائی جانے والی نیک بی بی کے جنات کے ذریعے حاصل کرتے ہیں یا کچھ اور انتظام بھی کر رکھا ہے۔

ان کا بیان سن کے کچھ ماہ قبل لگنے والا ہمارا زخم ہرا ہو گیا جو ہمیں ہرے پاسپورٹ کے توسط سے لگا جب ہم بھرے مجمعے میں سے چن کے علیحدہ کیے گئے اور وہ بھی مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملک کے ائر پورٹ پہ۔ خیر ہمارا کپتان یہ کہہ سکتا ہے کہ عزت اور ذلت تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے، اس میں پاسپورٹ کا کیا لینا دینا؟

احوال کچھ یوں ہے کہ ہم گزشتہ پندرہ برس سے سرزمین خدا کی ملکوں ملکوں دھول پھانک رہے ہیں۔ تعلیمی دورے سمجھ لیجیے یا دل بےتاب کی بے چینیاں کہ پاؤں کا چکر کہیں ٹکنے ہی نہیں دیتا۔ امریکہ، افریقہ، یورپ، کینیڈا، جاپان، مشرق وسطیٰ، بقول کسی مہربان کے

“کیہڑی گلی جتھے بھاگو نہ کھلی”۔

کبھی کبھی کوئی بے خبر انجان دوست پوچھ اٹھتا، کیا آپ کے پاس پاکستان کے علاوہ مغرب کا پاسپورٹ بھی ہے؟ کل تک ہم اٹھلا کے بڑی بےنیازی سے کہتے، پاکستانی پاسپورٹ کافی نہیں ہے کیا؟

اگلا سوال ہوتا،

“کیا ویزا آسانی سے مل جاتا ہے؟ “

” بہت آسانی سے “

” کیا کبھی کسی ائرپورٹ پہ کسی نے روکا؟ “

” کسی کی اتنی ہمت کہ ہمیں روکے “

ہم مزید شوخی کا مظاہرہ کرتے

” کبھی سامان چیک ہوا “

” کبھی نہیں “

اب دوست کی بھی حس ظرافت پھڑکتی،

” چلیے اگلی دفعہ میرا ایک پیکٹ لے جائیے گا “

ہماری یہ شوخی اور طنطنہ سب ہوا ہو گیا جب کچھ ماہ پہلے ہم نے امریکہ کا سفر کیا اور خدا جھوٹ نہ بلوائے، ہمیں یہ بھی یاد نہیں کہ ہم اس سے پہلے کتنی دفعہ امریکہ یاترا کر چکے ہیں۔

ہم کویت ائرلائن پہ تھے اور ہمیں مسقط سے امریکہ تک کا بورڈنگ پاس مل چکا تھا۔ ہماری امیگریشن نیویارک میں ہی ہونا تھی۔ کویت میں کچھ گھنٹوں کے ٹرانزٹ کے بعد فلائٹ کا اعلان ہوا، مسافروں نے قطار باندھی اور بورڈنگ پاس دکھاتے ہوئے جہاز میں سوار ہونے لگے۔

ہم اپنی ازلی بے فکری کے ساتھ جب ان بی بی تک پہنچے جو پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس چیک کر رہی تھیں تو وہ بری طرح چونکیں، ابرو چڑھائے، بورڈنگ پاس پہ کچھ لکھا، پاسپورٹ پہ سٹیکر لگایا اور ہمیں قطار سے نکلنے کا حکم دیا۔ ہم جو اس عزت افزائی کے عادی تھے اور نہ ہی تیار، بری طرح ہڑبڑا کے بولے

“ کیا کوئی مسئلہ ہے؟”

ترنت جواب ملا

” آپ کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں ہے “

کچھ لمحوں کے لئے تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا اس کا مطلب کیا ہے ؟ نہ تو ہمارا کسی سیاسی جماعت سے دور دور تک کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ہم طالبان کے عقیدت مند ہیں، نہ ہم دنیا کو جہاد کے ذریعے فتح کرنے کے منصوبے بناتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اغیار پہ اسلام کا جھنڈا لہرانے کا مراق ہے۔

یہ ہمارا پندرہ سالہ بین الاقوامی سفر کے دوران ہونے والا پہلا تجربہ تھا، بہر حال سبز پاسپورٹ سے وابستگی کو بھگتنا تو تھا۔

قطار سے علیحدہ ہوئے اور پھر ہمیں سکیورٹی کلیئرنس کے لئے علیحدہ کمرے میں لے جایا گیا۔ ڈیسک پہ مامور صاحب نے پہلے ہمیں کسی قدر مشکوک نظروں سے سر سے پاؤں تک گھور گھور کے دیکھا کہ کچھ دیر کے لئے ہمیں اپنے آپ پہ ہی شک ہو گیا۔ اس کے بعد پاسپورٹ کی صفحہ بہ صفحہ ورق گردانی کی گئی اور تمام ویزوں کی حقانیت سکینر کی روشنی کے نیچے پرکھی گئی۔

اس کے بعد غریب الوطن کی باری آئی،

“کہاں رہتی ہیں؟ کیوں رہتی ہیں؟ کب سے رہتی ہیں؟ کیا کام کرتی ہیں؟ امریکہ کیوں جا رہی ہیں ؟ کب سے آ جا رہی ہیں؟ کہاں ٹھہریں گی؟ کس کے پاس ٹھہریں گی؟ واپسی کب ہو گی؟ “

جب کافی دیر بعد گلو خلاصی ہوئی تو ہم جہاز میں داخل ہونے والے آخری مسافر تھے اور کافی متجسس نظروں کے شکار بھی کہ کچھ لوگوں نے ہمیں قطار سے جدا ہوتے دیکھا تھا۔

یاد رہے کہ یہ امریکی امیگریشن کاؤنٹر نہیں تھا، یہ کویت ائر لائن کا سکیورٹی چیک تھا۔ اور یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ سکیورٹی چیک کی زد میں آئی خاتون سالہاسال سے مشرق وسطی میں قیام پذیر ہے اور خاتون کے بچے زمانوں سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ پچھلے تمام برسوں میں امریکی امیگریشن نے ہمیں کبھی روکنے کی زحمت نہیں کی۔

یہ داستان لمحہ فکریہ ہے ہمارے ارباب اختیار اور ان سب کے لئے جن پہ جانے کہاں سے یہ الہام وارد ہوتے ہیں کہ ہم اور ہمارا ہرا پاسپورٹ اقوام عالم کی نظر میں قلانچیں بھرتا ہوا بلندیوں کی جانب محو پرواز ہے۔ ہمیں قطعی اندازہ نہیں کہ انہیں کیسے سمجھایا جائے کہ دامن بدنام پہ لگے داغ اتنی جلدی نہیں چھٹا کرتے۔

جب کسی ملک کی بنیادوں میں دہشت گردی کے قصے، مذہبی بنیاد پرستی کا چاؤ، بڑھتی ہوئی جہالت، خطے میں جھوٹی انانیت سے پیدا ہوتی تنہائی، ڈوبتی ہوئی معیشت، لولی لنگڑی جمہوریت، جارحیت پسند خارجہ پالیسی، اسلام کی ٹھکیداری، نصف آبادی کو ناکارہ رکھنے کی منصوبہ بندی، کرپشن، مولویوں کو کھلی چھوٹ اور ریاست کا ہر معاملے میں کنفیوزڈ گھگھیایا پن شامل ہوں تو ہرا پاسپورٹ رکھنے والے اقوام عالم کی قطار کے آخر میں ہی کھڑے ہوا کرتے ہیں۔

کاش اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والوں کو یہ سمجھ آ جاتی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *