اندھا دھند انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے پانچ دس سال قبل سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والے لوگ بڑے خوش قسمت تھے کہ سوشل میڈیا کی کارِ سرکار میں بے جا مداخلت سے محفوظ و مامون رہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا ہماری نجی، سماجی، سیاسی، سرکاری زندگیوں میں غلبہ ہوا ہے اب کوئی بات راز نہیں رہی۔ ہر اہم اور غیر اہم بات کا تذکرہ سورج غروب ہونے یا طلوع ہونے سے قبل چہارِ عالم میں ہوچکا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک خبر چند روز قبل کسی ضلع کے ایک فاضل ایڈیشنل سیشن جج کے بارے میں پڑھی۔ بلکہ یار لوگوں نے انگریزی زبان میں عدالتی حکم کی فوٹو کاپی سوشل ممیڈیا پر وائرل کر دی۔ جس کے مطابق کسی فوجداری مقدمہ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے جب ایک ملزم اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہو تو وہ چیونگم چبا رہا تھا۔ فاضل جج صاحب کو ملزم کی یہ حرکت ناگوار گزری لہذا انہوں نے مقدمہ کے قانونی و واقعاتی پہلوؤں کا جائزہ لئے بغیر ملزم کی درخواست ضمانت اس کے نا مناسب رویہ کی وجہ سے خارج کر دی۔

جو نہی یہ حکمِ عدالت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ عوام الناس کے بے شمار بے لاگ تبصرے بھی نظر سے گزرے۔ ان میں سے کچھ کو تو یہاں دہرانا بھی مناسب نہ ہے۔ البتہ کچھ ہلکے پھلکے انداز کے فقرے کچھ اس طرح تھے کہ ”جج دا کھڑاک“، ”فوری انصاف“، ”دلیرانہ انصاف“، ”اندھا دھند انصاف“، ”قانون کی بالا دستی“ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب میں مجھے ذاتی طور پر اندھا دھند انصاف والا فقرہ زیادہ مزیدار لگا۔ اور اس اندھا دھند سے مجھے ایک پرانا لطیفہ بھی یاد آیا۔

کئی سال پرانی بات ہے۔ ”کئی سال“ پرانی بات اس لیے لکھ رہا ہوں کہ موجودہ پولیس ناراض نہ ہو جائے۔ ویسے یہ لطیفہ کسی بھی دور پر فٹ ہو سکتا ہے۔ ہوا یوں کہ کسی ضلع میں پولیس کانسٹیبل کی بھرتی ہو رہی تھی۔ کافی زیادہ امید وار تھے۔ ایک نوجوان جو کافی پڑھا لکھا اور مضبوط جسم کا تھا۔ اور اس کی سفارش بھی تگڑی تھی۔ جب اس کا انٹرویو ہو رہا تھا تو بھرتی بورڈ کے سربراہ نے اس سے پوچھا کہ تمہاری تعلیم بھی بڑی اچھی ہے اور سفارش بھی تگڑی ہے۔ مگر پرابلم یہ ہے کہ تماری نظر کافی کمزور ہے۔ تمہیں اگر بھرتی کرنا ہی پڑجائے تو کس شعبہ میں کریں۔ تو اس نوجوان نے بے ساختہ کہا کہ اسے اندھا دھند فائرنگ والے شعبہ میں بھرتی کر لیں۔

اسی طرح کا معاملہ متذکرہ عدالت میں بھی پیش آیا ہے کہ جہاں درخواست ضمانت کا فیصلہ قانونی و واقعاتی بنیادوں پر کرنے کی بجائے ملزم کے چیونگم چبانے کی وجہ سے کر دیا گیا۔ ظاہر ہے۔ ملزم اب متعلقہ عدالت عالیہ سے رجوع کرے گا۔ یقیناً اس کی داد رسی بھی ہو جائے گی۔ لیکن اس فیصلہ سے کچھ باتیں عیّاں ہوتی ہیں کہ متذکرہ ضلع میں بار اور بنچ کے تعلقات بڑے خوشگوار ہیں کہ ملزم کے وکیل صاحب جو کمرا عدالت میں موجود تھے انہوں نے اس فیصلہ پر سر تسلیم خم کیا۔ لہذا وہ داد کے مستحق ہیں۔ ملک کے کسی دیگر حصہ میں شاید اس قسم کے فیصلہ کا ردِعمل ناخوشگوار بھی ہو سکتا تھا۔

ایک بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فاضل جج صاحب کو چیونگم سے ہی کوئی پرابلم ہو۔ ورنہ چیونگم کھانے سے کوئی صوتی اثرات تو مرتب نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ منہ ہی ہلانا پڑتا ہے۔ مگر یہاں تو عدالتوں میں موبائل فون کی بے ہنگم اور پُرشور ٹیونز بج رہی ہوتی ہیں۔ اور ہمارے جج صاحبان بڑے حوصلہ اور برداشت کامظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ معاف کرنا، درگزر کرنا اور نظر انداز کرنا ہی حسن اخلاق کی اعلیٰ صفات ہیں۔ اور جج کی کامیابی کی ضامن بھی ہیں۔ اگر قاضی یا جج میں درگزر اور برداشت کا مادہ نہیں اور غصہ اور بے چینی کا غلبہ ہے۔ تو پھر اس عدالت میں ہنگامہ خیزی کے مناظر بلا ناغہ دیکھنے کو ملیں گے۔ ان حالات میں جبکہ سوشل میڈیا نے ہمارے سارے پُرسکون معاشرتی ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور زندگی کا کوئی بھی شعبہ اس کی یلغار سے نہیں بچا۔

ہمارے فاضل جج صاحبان کو عدالتی امور نبٹاتے وقت زیادہ ہوشمندی، دانشمندی، معاملہ فہمی اور بصیرت کی ضرورت ہے۔ ہمارے متذکرہ فاضل جج صاحب یقیناً نوجوان ہوں گے اور جوان خون کبھی جوش مار ہی جاتا ہے۔ انہیں یقیناً ملزم کی متذکرہ حرکت ناپسند ہوئی ہو گی۔ اور عدالتی ڈیکورم کا شاید تقاضا بھی یہی تھا۔ مگر برا ہو اس سوشل میڈیا کا کہ اب ہر بات کا سکینڈل بن جاتا ہے۔ اور بعض اوقات نیک نیتی سے کیا گیا عمل بھی منفی طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔

چلیں عدالت کو ذرا چھوڑیں یہاں تو اللہ کے گھر مساجد میں بھی موبائل فون کی گھنٹیاں بڑے تواتر سے بجتی رہتی ہیں۔ اور جس نمازی کی جیب میں موبائل بج رہا ہوتا ہے۔ وہ اس خدشے کے پیش نظر کہ اگر اس نے موبائل آف کیا تو اُس کی نماز خراب ہو جائے گی۔ مسجد میں موجود سینکڑوں دیگر نمازیوں کی نماز خراب کر رہا ہوتا ہے۔ لہذا اگر کم علمی، غفلت کے باعث یا سہواً لوگ مساجد میں نماز سے قبل موبائل آف کرنا بھول جاتے ہیں تو عدالتوں میں موبائل کا بج جانا یا ملزم کا چیونگم چباتے ہوئے عدالت میں داخل ہونا کوئی ایسا ناقابلِ معافی جرم نظر نہیں آتا کہ ایک اسلامی اور مہذب معاشرے میں خوف ِخدا کے بعد ہی سبھی خوف شروع ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply